عام لوگوں کی نظم
ہم چنیدہ لوگ نہیں ہیں ہماری وجہ سے کبھی کلا اور غلوں میں رس نہیں پڑے گا دھاری دار وجودوں سے دہکے ہوئے قصبوں میں چیچک دار کلاکار کبھی ہمارے مکالمے نہیں دہرائیں گے نہ ہمارے لیے کبھی وہ سطریں لکھی جائیں گی جن کے شبدوں کو آتمائیں مل جائیں ملکوں کے ترانوں کو بجنے اور جہازوں کو رینگنے سے پہلے ہمارے اشاروں کی حاجت نہیں ہم اپنے اپنے نقشے اپنی اپنی پیٹھوں پہ کھدوائے اپنے دلدلی جسموں کی سرنگوں میں اُتر جائیں گے اور کوئی ہماری کھوج میں بھی نہیں آئے گا نہ ہی کوئی کولمبس ہماری بازیافت کے لیے نکلے گا!