یہ اس کی محبت ہے کہ رکتا ہے ترے پاس
یہ اس کی محبت ہے کہ رکتا ہے ترے پاس ورنہ تری دولت کے سوا کیا ہے ترے پاس دریا کے تجاوز کا برا ماننے والے دریا کا ہی چھوڑا ہوا رقبہ ہے ترے پاس اب بھی تجھے لگتا ہے کہ آزاد نہیں تو ہر رنگ کا ہر طرز کا برقعہ ہے ترے پاس وہ تجھ سے ذہانت میں کہیں آگے کھڑی ہے تھوڑا سا مگر حسن زیادہ ہے ترے پاس اوروں کی بھی قسمت کا صلہ ملتا ہے تجھ کو ایسا کوئی قسمت کا ستارہ ہے ترے پاس سمجھیں تو اشارہ ہے یہ قدرت کی طرف سے تنہائی مرے پاس ہے کمرہ ہے ترے پاس تقسیم بھی تقسیم نہیں لگتی کسی کو دیوار اٹھانے کا سلیقہ ہے ترے پاس مذکور یہی رات ہے دریا کے کنارے مذکور یہی آخری موقعہ ہے ترے پاس