تیرے قریب ہو کے بھی تیرا نہیں ہوں میں
-
تیرے قریب ہو کے بھی تیرا نہیں ہوں میں کیا سبز موسموں کا پرندہ نہیں ہوں میں ظاہر میں ایک جام ہوں پردے میں اک کنواں بھر جاؤں جس قدر بھی چھلکتا نہیں ہوں میں گردن اڑانا اس کے لیے عام بات تھی یہ تو خدا کا شکر ہے سچا نہیں ہوں میں لوٹوں گا ایک روز تجھے تیرے سامنے ڈاکو ہوں کوئی چور اچکا نہیں ہوں میں مجھ سے مرا مقام نہ چھینو اے عاشقو مٹی ہوں ان کے شہر کی سرمہ نہیں ہوں میں درویش کی نگاہ میں دنیا ہوں سر تا پا دنیا کے اعتبار سے دنیا نہیں ہوں میں