ضیا مذکور

ضیا مذکور

تمام شہر میں مشہور ہے چلن اس کا

    تمام شہر میں مشہور ہے چلن اس کا اور اس پہ دیکھنے والا ہے بھولپن اس کا میں اور تھوڑا سا روتا تو اس کے لوگوں نے بنا دیا تھا مرے جسم کو کفن اس کا ہم اس کے باغ میں بیٹھے ہوئے تھے اس کے ساتھ ہمارے دشت میں پھرتا رہا ہرن اس کا میں آئے روز اسے تار تار کرتا ہوں مگر نہیں ہے کوئی ایک پیرہن اس کا ہمارے جھرنے کہاں تک سہار سکتا تھا نمک کی کان سے نکلا ہوا بدن اس کا خدا کے نام پہ لوٹا تھا اس نے لوگوں کو خدا بھی سامنے لایا نہیں غبن اس کا