قلم بھی اس کا ہے تلوار بھی اسی کی ہے
قلم بھی اس کا ہے تلوار بھی اسی کی ہے ابھی بھی آپ کو امید بہتری کی ہے اگرچے پھول بھی بکھرے ہیں اس کے آندھی میں زیادہ فکر اسے اپنی ٹوکری کی ہے میں جا رہا ہوں مگر کس طرح بتاؤں اسے کہ اس کی ماں نے ابھی کل ہی خودکشی کی ہے ہوا ہے دیکھ کے احساس_زندگی جس کو یہ کس کی قبر ہے اور کیسے آدمی کی ہے برا کیا ہے کسی اور نے ہمارے ساتھ اور اس کے ساتھ کسی اور نے بری کی ہے ہم اس کے دور_حکومت سے خوب واقف ہیں گھروں کے نام پہ تعمیر بے گھری کی ہے تو کیا اسے بھی نہ دریا میں پھینک دوں مذکور کہ آج نیکی نہیں میں نے اک بدی کی ہے