میرے گھر کے سامنے آ کر ایسے شور مچایا تھا
میرے گھر کے سامنے آ کر ایسے شور مچایا تھا جیسے اس نے پہلی بار کسی سے دھوکہ کھایا تھا شہر میں اک کالونی تھی کالونی کیا تھی جنت تھی جنت جس کے دروازوں پر بندوقوں کا سایہ تھا ایک سمندر کیسے کیسے دریاؤں کو جھیلتا ہے کل اک دریا اپنے اندر صحرا بھر کر لایا تھا دن بھر جس نے ہم کو اپنی خوشبو سے بھی دور رکھا شام ہوئی تو پھولوں کو بازاروں میں لے آیا تھا صاف عیاں تھا اس کے چہرے سے اس کے اندر کا دکھ میرے مرنے پر اس نے بس ڈھول نہیں بجوایا تھا اگلی رات بھی میرے سامنے دلہن بن کر بیٹھی تھی میں نے جس کو پہلی رات بھی مشکل سے اپنایا تھا بڑی بڑی باتیں کرتے تھے آ کر میرے ڈیرے پر میں بھی کن کے پیچھے لگ کر سسٹم سے ٹکرایا تھا