بٹھا دیا ہے سپاہی کے دل میں ڈر اس نے
-
بٹھا دیا ہے سپاہی کے دل میں ڈر اس نے تلاشی دی ہے دوپٹہ اتار کر اس نے ہوا کا چلنا نہ چلنا خدا کے ہاتھ میں تھا فضول غصہ اتارا پتنگ پر اس نے اک آدھ دن اسے گھوڑے پہ کیا سوار کیا سمجھ لیا تھا مجھے اپنا ہمسفر اس نے بچا کے زندگی بھاگے ہیں جس طرف ہم لوگ اسی طرف سے ہمیں آ لیا اگر اس نے ہمارا حافظہ پہلے ہی پورا سورا ہے پہن رکھا ہے لباس اس پہ مختصر اس نے میں اس لیے بھی اسے خود کشی سے روکتا ہوں لکھا ہوا ہے مرا نام جسم پر اس نے