ضیا مذکور

ضیا مذکور

کہوں کسے کہ مری زندگی سفر میں ہے

    کہوں کسے کہ مری زندگی سفر میں ہے میں ایسی ناؤ میں ہوں جو ابھی شجر میں ہے ترا طلسم بھی جلدی ہی ٹوٹ جائے گا اک اور آئینہ خانہ مری نظر میں ہے ہمیں خبر نہیں بازار کیسا ہوتا ہے کہ اک دکاں ہے یہاں وہ بھی ایک گھر میں ہے میں وہ نہیں ہوں جسے دنیا والے جانتے ہیں مرا یہ سچ بھی کسی جھوٹ کے اثر میں ہے وہی چراغ وہی طاقچہ وہی سایا وہی تپاک وہی رنگ اس شرر میں ہے میں شب کے پہلے پہر دن بنانے نکلا ہوں یہ کیا جنوں ہے جو اس وقت میرے سر میں ہے سفر کے بعد بھی ہوں مائل سفر مذکور عجیب حوصلہ ٹوٹی ہوئی کمر میں ہے