میں یہ نہیں کہتا کہ اسے پیار نہیں ہے
-
میں یہ نہیں کہتا کہ اسے پیار نہیں ہے لیکن وہ مرے جتنا سمجھدار نہیں ہے ڈرتا ہوں کسی دن وہ مجھے چھوڑ نہ جائے اس کو مری دولت سے سروکار نہیں ہے وہ جسم برہنہ ہو مگر عکس ہو ملبوس یہ آئینہ اتنا بھی حیادار نہیں ہے ہم یار تھے یاروں کو بھی بخشا نہیں اس نے وہ صرف تمھارا ہی گنہگار نہیں ہے حوروں میں کھڑا دیکھ کے حیران ہوں اس کو کہتا تھا کہ جنت کا طلبگار نہیں ہے وہ روک کے رکھتا ہے ہمیں رات گئے تک جیسے کہ ہمارا کوئی گھر بار نہیں ہے