کتاب دار
-
کتاب دار
کتاب خانے میں کتابوں کی خریداری نہیں ہوتی تھی، لیکن وہاں پہلے ہی سے بہت کتابیں موجود تھیں۔ یہ کتابیں ہر قسم کی تھیں اس لیے کہ جن لوگوں نے عطیے کے طور پر یہ کتا بیں دی تھیں ان میں ہر مذاق کے لوگ تھے۔ یہ دراصل کسی بڑے وقف کا کتاب خانہ تھا۔ وقف کی ایک عمارت کے پہلو سے ایک تنگ زینہ اوپر کی منزل کو جاتا تھا۔ زینہ ختم ہونے کے بعد تھوڑی سی کھلی ہوئی جگہ تھی ، اس کے بعد تین دروں والا ایک دہرا کمرہ تھا۔ کتاب خانہ اسی کمرے میں تھا۔ کمرے میں دیواری الماریاں بہت تھیں۔ ان سب الماریوں میں کتا بیں بھری ہوئی تھیں ۔ کتابیں صاف ستھری اور اچھی حالت میں تھیں۔ ان میں بیشتر کی جلدیں مضبوط تھیں اور حال ہی کی بندھی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ اس کمرے کے دو دروازے ہمیشہ مقفل رہتے تھے۔ آنے جانے کے لیے ایک دروازہ آدھا کھلا رہتا تھا۔ کھڑکیاں بھی کئی تھیں لیکن یہ بھی مستقل بند رہتی تھیں۔ صرف مشرقی دیوار کی ایک کھڑ کی کھلتی تھی۔ اس میں لوہے کی جالی لگی ہوئی تھی اور اس کے پار باہر کا منظر دکھائی دیتا تھا۔ اس منظر میں بس مکانوں کے پچھواڑے اور ایک نانبائی کی دکان تھی۔ دکان کی وجہ سے کچھ کتے بھی موجودرہتے تھے۔
کھڑکی کے پاس دو تین تخت پڑے ہوئے تھے جو کتاب خانے میں آکر کتابیں پڑھنے والوں کے لیے تھے۔ کھڑکی کی وجہ سے کتاب خانے کے اس گوشے میں باہر کی روشنی پھیل جاتی تھی ۔ کھڑ کی بند ہوتی تو باہر سے آنے والے کو تھوڑی دیر تک کچھ نظر نہ آتا، البتہ کاغذوں کی خوشبو سے پتا چلتا کہ وہ جس جگہ ہے وہاں کتابیں ہیں۔ ذرا دیر کے بعد اسے الماریاں نظر آتیں۔ جب اس کی آنکھیں روشنی کی کچھ اور عادی ہو جاتیں تو اسے داہنی طرف بیٹھا ہوا کتاب دار نظر آتا۔
کتاب خانے میں تعیناتی کے وقت وہ جوان تھا۔ اس وقت کتاب خانے کی حالت اچھی نہیں تھی اس لیے کہ وہاں اس زمانے میں کافی لوگ کتابیں پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ ان کی ورق گردانیوں کی وجہ سے کتابوں کی صورت بگڑی ہوئی تھی۔ ان کی سلائی ڈھیلی ہو جاتی اور بعض کی جلدیں الگ ہو گئی تھیں ۔ ایک بوڑھا دفتری کتاب خانے کا ملازم تھا۔ وہ جلدوں وغیرہ کو معمولی طور پر درست کر دیتا تھا۔ کتاب دار نے کام سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اسے جلد سازی اور کتابوں کی مرمت کا مناسب سامان منگا کردیا اور اپنی نگرانی میں کتابوں کی مرمت شروع کروادی۔ دفتری اپنے کام میں ماہر تھا۔ باتیں بہت کرتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی بیمار رہتی تھی اور وہ زیادہ تر اسی کے بارے میں باتیں کرتا تھا۔ لیکن اس کا ہاتھ نہیں رکتا تھا اور اس نے بڑی تعداد میں کتابوں کو درست کر دیا لیکن ایک دن کتاب دار کو اطلاع ملی کہ وہ بیمار ہو گیا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔ کتاب دار اسے دیکھنے گیا۔ اس وقت دفتری کے حواس بگڑ چکے تھے لیکن اس حالت میں بھی وہ بیٹی کی دوا و غیرہ کو پوچھ رہا تھا۔ تیسرے دن دفتری کی خبر آ گئی ۔ اس کی جگہ اس کے بیٹے کو رکھا گیا۔ وہ باپ کی طرح ماہر تو نہیں تھا پھر بھی اس کا کام غنیمت تھا۔ لیکن ایک مہینے کے اندر سے محکمۂ صحت میں کوئی ملازمت مل گئی۔ اس کے بعد دفتری کی اسامی خالی رہی۔ لیکن کتاب دار بوڑھے دفتری کا کام دیکھتے دیکھتے خود کام سیکھ گیا تھا اس لیے فرصت کے وقت وہ خود ہی کتابوں کی مرمت وغیرہ کر لیا کرتا تھا۔ آخر سب کتابیں بالکل درست ہو کر الماریوں میں سج گئیں۔ کتاب دار بھی ہر کتاب کو اس کی صورت سے پہچاننے لگا۔ کتابوں کی ترتیب اور فہرست سازی کا اس کا اپنا طریقہ تھا اور وہ بہت آسانی سے ہر کتاب نکال سکتا تھا لیکن دوسروں کو اس میں مشکل پڑتی تھی اور وہ اپنی مطلوبہ کتاب آسانی سے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں تلاش کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ کتاب دار کتاب کا نام سنتے ہی بتا دیتا کہ وہ کتاب موجود ہے یا نہیں۔ اگر موجود ہوتی تو فوراً نکال کر سامنے رکھ دیتا۔
اس وقت کتاب خانے میں طرح طرح کے لوگ آتے تھے۔ طالب علم بھی بہت آتے تھے۔ کتاب داران کو ایک نظر دیکھتے ہی سمجھ لیتا کہ طالب علم ہیں۔ ان کے علاوہ بھی وہ اکثر لوگوں کے بارے میں اندازہ رکھتا تھا کہ انہیں کس طرح کی کتا بیں دیکھنا ہیں۔ لیکن ایک دن ایک ایسا آدمی آ گیا جس کا پڑھنے لکھنے سے تعلق نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اس نے ایک پرچہ کتاب دار کے ہاتھ میں دیا۔ اس پر جن کتابوں کے نام لکھے ہوئے تھے ان میں ایک مذہبی موضوع کی مشہور کتاب تھی ، ایک اسی کتاب کا جواب تھا، دو کتا بیں دستکاری سے تعلق رکھتی تھیں اور ایک کسی رنگین مزاج شخص کی آپ بیتی تھی جو بے راہ روی کی زندگی گزارنے کے بعد لگا تار کئی راتوں تک ایک ہی خواب دیکھ کر سدھر گیا تھا۔ یہ وہ کتا ہیں تھیں جو کتاب خانے میں موجود تھیں۔ ان کے علاوہ بھی کچھ کتابوں کے نام تھے ۔ کتاب دار کچھ دیر تک فہرست کو دیکھتا اور اس آدمی کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتا رہا۔ پھر اس نے موجود کتابوں پر نشان لگا کر پر چہ اسے واپس کر دیا۔ اس آدمی نے پر چے کو سرسری دیکھ کر کہا:
’’یہ سب نکال دیجیے۔“
کتاب دار نے اس کی طرف دیکھا اور وہ بولا :
’’ایک ہی بار میں نکال دیجیے۔ آپ کے چکر بچ جائیں گے ۔“
کتاب دار نے سب کتابیں نکال کر ایک تخت پر رکھ دیں۔ اس نے واپس جاتے جاتے دیکھا کہ اس آدمی نے جلدی جلدی ایک کتاب کے ورق پلٹنا شروع کر دیے ہیں۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندراس نے سب کتابیں کتاب دار کے سامنے لا کر رکھ دیں اور اس کا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔
دوسرے دن ایک اور آدمی آیا۔ اس نے بھی وہی کتا بیں نکلوائیں اور اسی طرح کتابوں کی ورق گردانی کر کے واپس چلا گیا۔ اس وقت دو طالب علم بھی کتاب خانے میں موجود تھے ۔ اس آدمی کے جانے کے بعد ایک بولا :
’’معمے والے یہاں بھی پہنچ گئے ۔‘‘
پھر وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ان کی آوازیں بہت دھیمی تھیں اس لیے کہ کتاب خانے کے اندرز ورزور سے بولنا منع تھا۔ منع تو نہیں تھا لیکن وہاں آکر لوگ خود ہی دھیمی آواز میں بات کرتے تھے۔ کتاب دار کو طالب علموں کی باتوں سے معلوم ہوا کہ کوئی بہت مشہور معما ہے جس کے سب اشارے مطبوعہ کتابوں سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ معماحل کرنے والوں کی طرف سے با قاعدہ سراغ لگایا جاتا کہ اس معمے کے دفتر میں کون کون سی کتابیں پڑھی جارہی ہیں ۔ پھر وہ ان کتابوں کو دیکھتے تھے کہ شاید ان میں سے کوئی جملہ معمے میں استعمال ہوا ہو۔ اس سلسلے میں وہ دونوں آدمی یہاں آئے تھے۔ انہیں کتابوں کے موضوع وغیرہ سے کوئی سروکار نہیں تھا اور ان جملوں کے مطلب سے بھی غرض نہیں تھی۔ وہ ان میں صرف مطلوبہ لفظ والا جملہ تلاش کرتے تھے۔
کتاب دار دیر تک کچھ سوچتا رہا۔ پھر اس نے ایک بڑے سے کاغذ پر جلی حرفوں سے لکھنا شروع کیا:
’’براہ ِکرم معمے والے حضرات ...‘‘
پھر اس کا قلم رک گیا۔ قلم ہاتھ میں لیے وہ بہت دیر تک سوچتا رہا یہاں تک کہ کتاب خانے میں ایک اور شخص داخل ہوا ۔ کتاب دار اس کو پہچانتا تھا۔ وہ بہت دنوں سے آ رہا تھا اور ہمیشہ ایک ہی کتاب سے کچھ نقل کرتا تھا۔ وہ بہت ضخیم اور بھاری کتاب تھی اور اب کتاب دار اس کے جانے کے بعد کتاب کو الماری میں واپس رکھنے کے بجائے وہیں تخت پر رکھی رہنے دیتا تھا۔ آج جب وہ شخص آیا تو کتاب دار نے اپنے ہاتھ کا کا غذ ایک طرف رکھا اور اس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ وہ سیدھا تخت کی طرف گیا۔ کتاب اٹھائی اور لکھنے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور تھکے تھکے لہجے میں بولا :
’’ابھی بہت باقی ہے‘‘، اور پھر لکھنے لگا۔
دوسرے دن وہ نہیں آیا، تیسرے دن بھی نہیں آیا۔ آخر کتاب دار نے کتاب اٹھائی اور الماری میں رکھ دی۔
کچھ لوگ کتاب خانے میں ایسے بھی آتے تھے جن کا کتاب دار کو انتظار رہتا تھا۔ ان میں ایک مجذوب سا آدمی بھی تھا۔ اس کی آواز بہت دور سے سنائی دینے لگتی تھی۔ زیادہ تر وہ اپنے آپ سے باتیں کرتا تھا یا کتوں کو سمجھاتا تھا کہ اس پر نہ بھونکیں ۔ مگر کتاب خانے میں آکر اس کی آواز دھیمی ہو جاتی۔ وہ بہت مہذب انداز میں کتاب دار سے صاحب سلامت کرتا، اس کا مزاج پوچھتا اور سیدھا اس الماری کی طرف چلا جاتا جس میں روحانیات کی کتابیں رہتی تھیں۔ وہ کوئی کتاب نکلواتا اور خاموشی کے ساتھ اسے پڑھتا رہتا۔ کبھی کبھی ایک کاغذ پر کچھ لکھتا اور کبھی پڑھتے پڑھتے اس پر جوش سا طاری ہو جاتا لیکن اس وقت بھی وہ مٹھیاں بھینچ کر خود پر قابو پالیتا اور زیادہ سے زیادہ یہ کرتا کہ اٹھ کر کتاب دار کے پاس آجاتا، اگر کتاب دار کسی کام میں مصروف نہ ہوتا تو مجذوب کی طرف دیکھ کر مسکراتا اور مجذوب روح کی ماہیت کے بارے میں اپنا ذاتی نظریہ مختصر بیان کر کے واپس جا بیٹھتا۔ اس کے جانے کے بعد کتاب داروہ کا غذ اٹھاتا جس پر اس نے کچھ لکھا ہوتا اور اسے ردی میں ڈال دیتا۔ نامی صاحب نے کتاب دار کو بتایا تھا کہ روحانیات کا مطالعہ کرتے کرتے اس کا دماغ چل گیا تھا اور اب وہ علاج کے طور پر بھی روحانیات ہی کا مطالعہ کر رہا تھا۔ کبھی نامی صاحب اس کی موجودگی میں آپہنچتے تو سیدھے اس کے پاس جاتے اور دونوں دیر تک چپکے چپکے باتیں کرتے رہتے۔ پھر مجذوب نے کتاب خانے میں آنا چھوڑ دیا۔ نامی صاحب نے بتایا کہ اسے اس کے رشتے دار کسی دوسرے شہر لے گئےہیں۔
نامی صاحب کتاب خانے کے مستقل آنے والوں میں تھے ، اور کتاب دار کی تعیناتی کے پہلے سے آرہے تھے۔ وہ ہر الماری کی ہر کتاب پڑھنے کا ارادہ رکھتے تھے اور کئی الماریاں پڑھ چکے تھے ۔ شہر کے ہر حلقے میں ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ وہ بہت خوش باش آدمی تھے اور ان کے آنے سے نیم تاریک کتاب خانے میں روشنی سی پھیل جاتی تھی۔ پڑھتے پڑھتے جب وہ تھک جاتے تو کتاب دار کے پاس آ بیٹھتے اور کہتے:
’’اور سنائیے کیا حال چال ہیں۔“
اس کے بعد وہ خود ہی اپنا اور شہر کا حال بتا نا شروع کر دیتے۔ پھر اٹھ کر اپنی کتاب کے پاس چلے جاتے اور پڑھتے رہتے یہاں تک کہ ان کا ایک دوست انہیں لے جانے کے لیے آجاتا۔ کتاب دار کو نامی صاحب اور ان کے دوست دونوں کا انتظار رہتا تھا۔ وہ صرف نامی صاحب سے بے تکلف تھا ، یا یوں کہنا چاہیے کہ صرف نامی صاحب اس سے بے تکلف تھے اور اس سے خوب باتیں کرتے تھے۔ نامی صاحب ہی نے اسے کتاب دار کہنا شروع کیا تھا ورنہ ملازمت کے کاغذات میں اسے نگران کتب لکھا جاتا تھا۔ کتاب دار کے ٹھیک ٹھیک معنی اسے نہیں معلوم تھے لیکن یہ نام اسے اچھا لگتا تھا اور یہ نام دینے کی وجہ سے نامی صاحب بھی اچھے لگتے تھے۔
ایک لڑکا بھی کتاب خانے میں پابندی سے آتا تھا۔ وہ کوئی بھی کتاب نکلوالیتا اور دیر تک پڑھتا رہتا تھا۔ وہ دس گیارہ سال کی عمر سے کتاب خانے میں آرہا تھا۔ کمزور سالڑ کا تھا اور اس کا چہرہ ہر وقت تمتمایا رہتا تھا۔ نامی صاحب اس لڑکے سے بھی صاحب سلامت رکھتے تھے ۔ وہ غالباً اس کے کسی بزرگ کے دوست تھے۔ وہ پندرہ سولہ سال کی عمر تک کتاب خانے میں آتا رہا۔ اس کے بعد کتاب خانہ عام لوگوں کے لیے بند کر دیا گیا۔
کتاب دار کو صرف اتنا معلوم ہوا کہ وقف سے متعلق کچھ جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کی ملازمت بحال رہی۔ اسے بتایا گیا کہ اب صرف وہ لوگ کتاب خانے میں آسکتے ہیں جن کو وقف کے ذمے داروں کی طرف سے خصوصی اجازت نامہ دیا گیا ہو۔ لیکن کتاب دار نے اجازت نامے کی شکل نہیں دیکھی ، اس لیے کہ اس شرط کے بعد سے لوگوں کا کتاب خانے میں آنا ایک دم بند ہوگیا۔
اس عرصے میں کتاب دار کی زندگی میں بھی کئی تبدیلیاں آگئی تھیں ۔ اس کی بیوی اور دونوں بیٹیاں یکے بعد دیگرے ختم ہو گئیں۔ بیوی تو ہمیشہ کی بیمار تھی لیکن بیٹیاں تندرست تھیں۔ چھوٹی بیٹی کو وہ بہت چاہتا تھا۔ وہ اس کا خیال بھی بہت رکھتی تھی۔ اس کے مرنے کے بعد سے وہ گھر میں کم ٹکتا تھا۔ زیادہ تر کتاب خانے میں رہتا تھا۔ اس کا کام اب صرف کتابوں کی دیکھ بھال رہ گیا تھا۔ کتاب خانہ سیلن سے محفوظ تھا۔ دیمک بھی وہاں نہیں پہنچی تھی ، البتہ چھوٹے چھوٹے کیڑے کتابوں میں چھید کردیتے تھے اور وہ انہی کتابوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔
تنخواہ اس کو پابندی سے نہیں ملتی تھی لیکن اب اس کا خرچ بھی کھانے کے سوا کچھ نہیں تھا، اورکھانا بھی اکثر ناغہ کر دیا کرتا تھا۔ بھوک ہی نہیں لگتی تھی۔
اسی زمانے میں ایک مرتبہ جب وہ کھانا کھانے کے لیے نکلا تو اسے ایک خوش لباس آدمی کتاب خانے کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس نے کتاب دار کو سلام کو کیا اور اس کے قریب آ کر رک گیا۔ آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟ میں کتاب خانے میں بہت آتا تھا۔“
کتاب دار نے اسے ذرا دقت کے ساتھ پہچان لیا۔ اب وہ کسی اچھی جگہ کام کرتا تھا۔
” میں نے یہاں بہت پڑھا ہے‘‘، اس نے بتایا، ’’بہت دن بعد ادھر آیا تو سوچا آپ کو سلام کرتا چلوں۔“
اس کے بعد وہ اپنی ملازمت کی تفصیل بتا تا رہا، پھر کتاب دار سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو گیا۔
کتابیں اب تیزی سے خراب ہو رہی تھیں ۔ اس بات کو کتاب دار بھی محسوس کر رہا تھا۔ کیڑوں کے کیے ہوئے چھید اسے آسانی سے نظر نہیں آتے تھے اور وہ کتابوں کی حالت کا اندازہ کرنے کے لیے انہیں کھڑکی کے قریب لا کر دیکھتا تھا اور وہاں بھی اسے کتاب کو آنکھوں کے بالکل قریب لا کر دیکھنا پڑتا تھا۔ اس نے وقف کو لکھا کہ کتاب خانے کے لیے کوئی نیا نگراں مقرر کیا جائے ، پھر کئی بار یاددہانی بھی کرائی لیکن وقف کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
اب اسے دور کی چیزیں صاف نظر نہیں آتی تھیں اور وہ کتاب خانے کی چھت کے پر نالوں کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا جن سے ہو کر برسات کا پانی باہر نکل جاتا تھا۔ یہ پرنالے چھت سے کچھ آگے کو نکلے ہوئے تھے جس کی وجہ سے پانی کتاب خانے کی دیواروں سے دور ہٹ کر گرتا تھا۔ اب ان میں سے ایک پر نالہ ٹوٹ پھوٹ گیا تھا اور اس طرف کا پانی کچھ پرنالے میں سے ہو کر اور کچھ دیوار سےملا ملا بہتا تھا۔
برسات کے موسم میں ایک دن وہ کھڑکی کی روشنی میں ایک کتاب دیکھ کر اسے واپس رکھنے کے لیے الماریوں کی طرف جارہا تھا تو اسے دور کی ایک الماری کے پاس نامی صاحب کھڑے دکھائی دیے۔ وہ بڑی گرم جوشی سے ان کی طرف بڑھا۔ نامی صاحب بھی تیزی سے اس کے قریب آنے لگے لیکن دو تین قدم چل کر لڑ کھڑا سے گئے اور پھر خود کو سنبھال کر کھڑے ہو گئے ۔ کتاب دار بھی رک گیا۔ کتاب اس کے ہاتھ سے پھسلتی ہوئی فرش پر گر پڑی۔ نامی صاحب نے کتاب کو گرتے دیکھا۔ اسے سنبھالنے کے لیے بڑھے لیکن پھر لڑکھڑا گئے۔ اس کے بعد دونوں خاموش کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ ایک اور الماری کے پاس آہٹ ہوئی اور نامی صاحب کا دوست بڑھ کر قریب آ گیا۔ اس وقت باہر سورج پر شاید بادل کا کوئی دبیز ٹکڑا آ گیا اور کچھ دیر کے لیے کتاب خانے میں اندھیرا چھا گیا۔ جب وہ ٹکڑا ہٹا تو کتاب خانے میں صرف کتاب دار تھا۔ بلکہ وہ بھی نہیں تھا۔