نیر مسعود

نیر مسعود

میر کا مسکن اور مدفن

    بیسویں صدی کے نصف اول تک لکھنؤ کے سٹی ریلوے اسٹیشن کے قریب بنی ہوئی قبروں میں سے ایک کے بارے میں کہاں جاتا تھا کہ یہ میر کی قبر ہے۔ لیکن کوئی دستاویزی ثبوت یا قبر پر کتبہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس کو حتمی طور پر میر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا تھا۔ قبروں کے اس قطعے میں اس قبر کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ بعض لوگ کسی کسی دن اس پر روشنی کرتے اور مرادیں مانگتے تھے۔

         یہ صورت حال دیکھ کر سید مسعود حسن رضوی ادیب کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ہوتے ہوتے یہ میر کی تربت کے بجائے کسی پیر کا مزار نہ ہو جائے۔ اس لیے انہوں نے اس قبر پر جشنِ میر تقی میر قسم کی ایک تقریب کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ادیب نے اس سلسلے میں قبر پر میر کے نام کا کتبہ لگانے اور چھوٹی سی یادگاری عمارت بنانے کی بھی تحریک کی تھی تاکہ یہ قبر بلا شرکتِ غیرے میر کے قرار پا جائے۔ ادیب نے تقریب کی تفصیلات بھی طے کر لی تھیں جن کے مطابق میر پر مقالہ خوانیوں کے علاوہ ایک بزمِ سخن کا انعقاد بھی ہونا تھا۔ ادیب اس حسنِ اتفاق پر بھی بہت خوش تھے کہ تقریب کے دعوت نامے اور اخباری اشتہاروں کے سرنامے پر دینے اور کپڑے پر لکھ کر تقریب گاہ میں لگانے کے لیے ان کو میر کے یہ بر محل شعر مل گئے تھے:

               تربتِ میر پر ہیں اہلِ سخن     ہر طرف حرف ہے، حکایت ہے

               تو بھی تقریبِ فاتحہ سے چل   بہ خدا واجب الزیارت ہے

         لیکن یہ منصوبہ بننے اور اس پر عمل درآمد کی نوبت آنے کے درمیان خاصا وقفہ پڑ گیا اور اس عرصے میں ادیب کا اس قبر پر جانا بھی نہیں ہوا۔ آخر ایک دن جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ قبر اور اس کے آس پاس کی زمین خوب صاف کر دی گئی ہے، قبر پر چادر چڑھی ہوئی ہے، چراغ جل رہا ہے، اگر بتیاں سلگ رہی ہیں اور ایک سبز پوش مجاور بھی موجود ہیں۔ مجاور نے بتایا کہ یہ شاہ جشن کا مزار ہے اور یہ کہ شاہ جشن نے خود ان کے خواب میں تشریف لا کر اپنے مزار کا یہ پتا بتایا اور ان کو اس کی مجاوری کی ہدایت کی ہے۔

         اس طرح ادیب کا اندیشہ صحیح ثابت ہوا۔ کچھ عرصے بعد ان مجاور کی وفات ہو گئی اور مزار کی دیکھ بھال ان کی سن رسیدہ اہلیہ کرنے لگیں۔ اسی زمانے میں ادیب ڈاکٹر عبادت بریلوی کو یہ مزار دکھانے لے گئے تھے۔ ڈاکٹر عبادت بتاتے ہیں کہ انہیں سٹی اسٹیشن کے قریب :

         ریل کے پاس۔۔۔ بائیں جانب اوپر کی طرف کچھ قبریں نظر آئیں۔ ایک قبر زیادہ نمایاں تھی اور اس پر چادر چڑھی ہوئی تھی۔ وہاں ایک بوڑھی عورت ملی۔ مسعود صاحب نے اس عورت سے پوچھا، بڑی بی، یہ کس کا مزار ہے؟ اس نے کہا، یہ شاہ جشن کا مزار ہے۔ میرے میاں کو فیض آباد میں یہ بشارت ہوئی تھی کہ اس جگہ جاؤ اور شاہ جشن کے مزار پر حاضری دو۔ کئی سال ہوئے  ہم یہاں آ گئے۔ میرے شوہر کا تو انتقال ہو چکا ہے۔ اب میں اس مزار کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ اسی سے گزر بسر ہو جاتی ہے۔ یہ سن کر مسعود صاحب میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا، یہ میر تقی میر  کا  مزار ہے۔ بچپن میں آج سے تقریباً چالیس سال قبل مجھے اس کا علم ہوا تھا اور بزرگوں نے باوثوق ذرائع سے مجھے بتایا تھا کہ یہی میر صاحب کا مزار ہے۔ (مضمون ”پروفیسر سید مسعود حسن رضوی ادیب“)

         1927 کے قریب میر انیس کے پوتے دولھا صاحب عروج نے اپنی کتاب عروجِ اردو میں میر کی قبر کے متعلق لکھا تھا:

    بیان کیا جاتا ہے کہ ان مرحوم کی قبر آغا میر کی ڈیوڑھی والے (لکھنؤ سٹی) اسٹیشن کے پہلو میں رفاہ عام (کلب) کی عمارت کے سامنے قبرستان میں ہنوز موجود ہے۔

    اس بیان پر دولھا صاحب نے یہ حاشیہ دیا ہے:

    میں نے میر صاحب کی قبر کو اپنی  آنکھوں سے دیکھا ہے، بلکہ جو اُن کی قبر بتائی جاتی ہے اس پر پنج شنبے  کو چراغ روشن ہوتا ہے اور پھول چڑھائے جاتے ہیں، اور یہ واقعہ بھی میرا دیکھا ہوا ہے۔ اکثر پنج شنبے کو میرا اس راہ سے گزرنے کا اتفاق ہوا اور میں نے ان کی قبر پر روشنی دیکھی۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس قبر پر جاروب کشی کرنے سے ہماری مراد بر آتی ہے۔ حقیقت میں یہ میر کی قبر ہے یا نہیں، اس کے متعلق سوائے شنیدہ ہونے کے کوئی ثبوت نہیں (پیش) کر سکتا، نہ یہ بتا سکتا ہوں کہ روشنی کرنے والے کون ہیں۔ “ (عروجِ اردو، مخطوطہ ذخیرہ ادیب)

         عروجِ اردو سے بیس بائیس سال پہلے سید مہدی حسن احسن لکھنوی نے اپنی کتاب ”واقعاتِ انیس“ (تصنیف 1905 تا 1908 ) میں لکھا:

    ایک مرتبہ دل میں خیال آیا کہ میر تقی میر مرحوم کی قبر دریافت کرنا چاہیے۔ پرانے بزرگوں سے معلوم ہوا کہ میر صاحب کی قبر بھیم کے اکھاڑے میں ہے۔۔۔ وہاں تک پہنچا، مگر مجبور تھا کہ (میر کی قبر کو) کس سے دریافت کروں۔ اول تو شہر کا غیر آباد حصہ جہاں انسان کا گزر بھی اتفاق سے ہو جاتا تھا، اور اگر کوئی شخص ملا  بھی تو میرے سوال کا جواب نہ دے سکا۔ بے نیلِ مقصود واپس ہوا۔ کئی سال بعد اتفاقیہ اس طرف گزر ہوا۔ شام کا جھٹ پٹا وقت تھا، تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ میں گاڑی پر سوار تھا۔ داہنے بائیں دونوں جانب بیہڑ میدان اور چند کھیتوں کے سوا کچھ نہ معلوم ہوتا تھا۔ داہنی جانب کی بلندی پر جہاں اس قبرستان کا ایک حصہ باقی ہے، کسی انسان کی پرچھائیں سی معلوم ہوئی۔ مجھ شوریدہ مزاج کو ایسے مقاموں سے دلچسپی ہے۔ گاڑی روک لی۔ اتر پڑا اور ایک ناہموار بلندی کا راستہ طے کر کے ایک قبر کے سرہانے پہنچا تو ایک نیک بخت ضعیفہ کو اس قبر پر جھکے ہوئے اور حصول مدعا کے لیے دعاؤں میں مصروف پایا۔ سناٹے کے عالم میں ایک پیر زال کا قبرستان میں گزر حیرت ناک واقعہ خیال کرکے بدن کے روئیں کھڑے ہو گئے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین ہو گیا کہ آج وہ رازِ سر بستہ کھلا جاتا ہے۔ دل کڑا کر کے اس ضعیفہ سے سوال کیا کہ اس سناٹے کے وقت تم اس قبرستان میں کیا کررہی ہو اور یہ قبر کس کی ہے جس پر تم جھکی ہوئی ہو۔ وہ بے چاری سہم گئی اور کچھ جواب نہ دیا، مگر خدا میرے اس گناہ کو بخشے کہ میں نے بے ضابطہ دھمکیاں دے کر حال دریافت کیا۔ اس بے چاری غریب عورت نے جواب دیا کہ یہ قبر میرے ایک مورثِ اعلیٰ کی ہے اور وہ ایک درویش صفت سید تھے۔ میرا باپ جب کسی مصیبت  میں گرفتار ہوتا تھا تو اس صاحبِ قبر سے استدعا کرتا تھا۔ اسی طریق کے موافق میں بھی اپنی مشکلوں میں اکثر اس صاحب قبر سے امداد طلب کرتی ہوں۔ میں نے پوچھا ان کا نام کیا ہے۔ اس نے کہا نام نہیں جانتی مگر اتنا جانتی ہوں کہ اگلے زمانے میں ایک مشہور شاعر تھے۔۔۔ کیا خوشی کی بات تھی۔ مجھ پر ایک عالمِ وجد طاری تھا اور اس بے خودی میں بہ کمال عقیدت سر قبر پر فاتحہ کو جھکا۔ عورت نے اپنا رستہ پکڑا۔ گاڑی والا چلا چلا کر پکار رہا تھا۔ اس کر یہہ آواز سے ہشیار ہوا تو موقع نکل گیا تھا۔ میں نے تو اپنے دل سے اس مزار کو میر مرحوم کا مزارِ مقدس طے کر لیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (ص6 ببعد، حاشیہ)

    ان بیانوں سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ لکھنؤ کے پرانے لوگ جانتے تھے کہ میر کی قبر بھیم کے اکھاڑے میں ہے، اور دوسری یہ کہ اس علاقے کی ایک قبر کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ میر کی قبر ہے۔

    لکھنؤ میں میر کی وفات کے ایک ہفتے بعد 27 شعبان 1225ھ (28 ستمبر 1810ء) کو میر محمد محسن المخاطب بہ زین الدین احمد نے دیوانِ میر کے ایک مخطوطے پر میر کے آخری مسکن، وفات، تدفین اور مدفن کے متعلق یہ یاد داشت تحریر کی تھی:

    بہ روز جمعہ بیستم ماہ شعبان المکرّم وقت شام سنہ 1225 یک ہزار دو صدد و پنج ہجری بود، میر محمد تقی صاحب میر تخلص، صاحبِ ایں دیوان چہارم، در شہر لکھنؤ در محلّہ سٹہٹی بعدِ طیَّ نُہ عشرہ عمر بہ جوارِ رحمت ایزدی پیوستند و بہ روز شنبہ بیست و یکم ماہِ مذکور سنہ الیہ وقتِ دوپہر در اکھاڑہ بھیم کہ قبرستان مشہور است، نزدیک قبورِ اقربائے خویش مدفون شدند۔ (عکسِ تحریر مشمولہ دیوان میر مرتبہ ڈاکٹر اکبر حیدری)

    (ترجمہ: بہ روز جمعہ بیسویں شعبان المکرّم سنہ 1225 بارہ سو پچیس ہجری (21 ستمبر 1810ء) تھی، اس دیوان چہارم کے مصنف میر محمد تقی صاحب میر تخلص عمر کی نو دہائیاں طے کرنے کے بعد شہر لکھنؤ محلّہ سٹہٹی میں رحمتِ ایزدی سے جا ملے۔ اور بہ روز شنبہ اکیسویں ماہِ مذکور سنہ الیہ کو، دوپہر کے وقت بھیم کے اکھاڑے میں، جو مشہور قبرستان ہے، اپنے عزیزوں کی قبروں کے نزدیک مدفون ہوئے۔ )

    گذشتہ بیانوں اور میر محمد محسن کی اس یاد داشت کی روشنی میں یہ تین جگہیں ہماری توجہ کی مستحق ٹھہرتی ہیں:

    1۔ محلّہ سٹہٹی

    2۔ بھیم کا اکھاڑا

    3۔ قبرستان اکھاڑا بھیم

    ان جگہوں کے متعلق مختلف ماخذوں سے حاصل ہونے والی معلومات حسب ذیل ہے:

    سٹہٹی:

    یہ نام غالباً ”سوت ہٹی“ (بہ معنی سوت کا بازار یا منڈی) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس کا تلفظ ”سوٹٹی“، ”سٹٹی“ بھی تھا۔ یہ لکھنؤ کے شمال مشرقی علاقے کا بہت پرانا اور بڑے رقبے کا محلّہ تھا۔ اس کا پرانا نام ”سید واڑہ“ بھی ملتا ہے۔ کتاب ”ثمرات الانظار فی مامضٰی من الآثار“ میں ایک بزرگ سید محی الدین کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ”سید واڑہ لکھنؤ میں، کہ جس کو اب سٹہٹی کہتے ہیں، اقامت گزیں ہوئے“، اور یہ کہ سید محی الدین عہدِ شاہی کے ایک بزرگ (مولانا تراب علی) کے استاد (سید محمد مخدوم) کے پردادا تھے۔ (ص4) اتنے پرانے وقت کے بزرگ کے زمانے میں یہ محلہ پہلے سے موجود تھا۔ اس سے اس کی  قدامت ظاہر ہے۔

    میر انیس بھی فیض آباد سے لکھنؤ آکر سٹہٹی میں مقیم ہوئے تھے۔ ان کے نواسے میر سید علی مانوس کا بیان ہے کہ یہ محلہ دریائے گومتی کے کنارے تھا۔ (مضمون ”میرا نیس، کچھ چشم دید حالات“)

    زبدۃ العلما سید آغا مہدی لکھنوی کا بیان ہے کہ ”سوٹٹی“پکے پل اور لوہے والے پل کے درمیانی علاقے میں واقع تھا۔ وہ سید ظفر حسن عرف بابو صاحب فائق لکھنوی (فرزندِ میر علی محمد عارف) کے حوالے سے یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ محلہ گومتی کے جنوبی کنارے کی جانب تھا اور ”بیلی گارد“ ] رزیڈنسی [ سے نزدیک جو پرانا تکیہ مسلمانوں کی قبروں کا تھا اس سے محلے کے حدود و اربعہ میں ایک حد ملحق ہوتی تھی۔“ (تاریخِ لکھنؤ، ص 346-47 )

    اوَدھ کی شاہی کے آخر زمانے تک سٹہٹی کی رونق اور آبادی بہت تھی۔ اس سرسبز علاقے میں مکانوں کی کثرت تھی جن میں رئیسوں اور شاہی خاندان والوں کی عالی شاہ کوٹھیاں اور حویلیاں بھی تھیں۔ (تاریخِ لکھنؤ، ص 346-47 )

    1857 کی جنگ میں فتح کے بعد انگریزوں نے دہلی کی طرح لکھنؤ میں بھی بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں  کیں۔بے شمار مکان اور پورے پورے محلے کھود دئیے گئے۔ سٹہٹی بھی ان کار روائیوں کی زد میں آ گیا، بلکہ ان کارروائیوں کے باقاعدہ منصوبہ بند آغاز سے پہلے جنگ کے اوائل ہی میں یہ علاقہ اجڑنا شروع ہو گیا تھا جس کا سبب انگریزوں کے مرکز رزیڈنسی سے اس کا قرب تھا۔ سید کمال الدین حیدر بتاتے ہیں کہ میرٹھ اور دہلی سے جنگ کی تشویشناک خبریں پانے اور لکھنؤمیں بھی لڑائی کے آثار دیکھنے پر انگریزوں نے اپنے فوجی دستوں اور گاڑیوں وغیرہ کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے رزیڈنسی کے آس پاس جتنی کوٹھیاں تھیں سب کے گرد دُھس باندھ کر مثلِ قلعہ مستحکم کیا اور ہر طرف توپیں نصب کیں اور دور تک جتنے مکانات سامنے کے تھے سب (کو) مسمار کر دیا اور درخت سامنے کے سب کٹوا دئیے۔“ (قیصر التواریخ، ص 194)۔ یہ حالت دیکھ کر اس علاقے کے زیادہ تر رہنے والے شہر کے نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف کوچ کر گئے۔ اس کے بعد سٹہٹی کو پنپنا نصیب نہ ہوا۔ باقاعدہ جنگ شروع ہوئی  تو انگریزوں نے یہاں کی اور بہت سی عمارتیں گرا کر سٹہٹی کو مزید اجاڑ دیا۔ جنگ میں یہاں انگریزوں اور ہندوستانیوں میں سخت تصادم ہوئے۔ جنگ کے خاتمے اور لکھنؤ پر اپنا تسلط قائم کر لینے کے بعد فتح یاب انگریز حاکموں نے عمارتیں گرانے کے ماہروں کی فوج بلائی اور شہر کا بڑا حصہ کھود ڈالا۔ اس ابتلا کا حال لکھنؤ اور اطراف کے بہت سے شاعروں، مورخوں اور دوسرے مصنفوں نے لکھا ہے۔ عظمت علی کاکوروی بتاتے ہیں:

    پھر شہر کھدنے میں لگا تو زائد آدھے سے کھد گیا۔ امین آباد کے قریب سے نجف تک اور بیلی گارد سے لے کر رومی دروازے تک ایک کف دست میدان ہو گیا۔ (مرقع خسروی، ص 53 ببعد)

    سٹہٹی بیلی گارد اور رومی دروازے کے درمیان ہی آباد تھا۔ اسی بیان میں عظمت علی بتاتے ہیں:

    سارے کے سارے مکانات نشیب والے مسلم توپ دیئے گئے۔ ذی الحجہ 1274ھ (اگست 1858 ء) تک اس طرف کا نصف شہر کدھ کر خاک برابر ہو گیا۔

    حکیم محمد کاظم لکھتے ہیں:

    (ترجمہ: شہر کے مشرق اور شمال کی جانب کم کوئی مکان ہوگا کہ باقی بچا ہو۔۔۔ (کئی محلوں کے نام) سٹہٹی۔۔۔ وغیرہ منہدم کرکے مٹی میں ملا دیئے گئے۔ (سوانح عمری، ص 50-51)

    اس طرح سٹہٹی اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ بقولِ عظمت علی:

    ”ایک کف دست میدان ہو گیا“ اور بہ قولِ احسن ”ایک بیہڑ میدان کی حیثیت سے مدت تک پڑا رہا۔“ (واقعاتِ انیس، ص 26)

    اسی میدان میں کہیں پر کبھی وہ مکان بھی تھا جس میں ان واقعات سے کوئی نصف صدی پیشتر میر نے دم توڑا تھا۔ اگر یہ مکان نشیب میں تھا اور اس کو مسلم توپ دیا گیا تھا تو یہ اب بھی زمین کے نیچے موجود ہو سکتا ہے۔

    بھیم کا اکھاڑا اور قبرستان:

    یہ علاقہ بھی سٹہٹی سے متصل تھا اور اس کا انجام بھی وہی ہوا جو سٹہٹی کا ہوا تھا۔ بھیم کے اکھاڑے سے دراصل دو مقام مراد ہوتے تھے۔ بھیم کا اکھاڑا بہت بڑا محلہ تھا او ر میر کے مدفن والا قبرستان، جیسا کہ محمد محسن کے بیان سے ظاہر ہے، اسی محلے میں پڑتا تھا۔ اسی محلے کے اندر وہ اصل بھیم کا اکھاڑا تھا جس کے نام سے پورا محلہ موسوم ہوا (جس طرح شیش محل، لکھنؤ کی عمارت کے نام سے پورا محلہ شیش محل موسوم ہوا)۔ قبرستان اسی محلے بھیم کے اکھاڑے میں اصل بھیم کے اکھاڑے سے متصل تھا، اسی لیے اس قبرستان کو بھیم کے اکھاڑے اور بھیم کے تکیے سےبھی موسوم کیا جاتا تھا،۔ عظمت علی کاکوروی کا بیان ہے کہ 1857 کی جنگ میں ہندوستانیوں نے ”بھیم کے اکھاڑے کے ٹیلے پر“ توپیں لگائی تھیں۔ (مرقعِ خسروی، ص 503) اور کمال الدین حیدر بتاتے ہیں کہ اس جنگ میں ہندوستانیوں نے رزیڈنسی پر حملے کے لیے جو مورچے لگائے تھے، ان میں ایک مورچہ ”بھیم کے تکیے“ پر بھی لگایا تھا۔ ( قیصر التواریخ، ص 218)

    مہدی حسن احسن میر کی قبر کی تلاش کے سلسلے میں بھیم کے اکھاڑے اور قبرستان کے محل وقوع   کا پتا اس طرح دیتے ہیں:

    یہ محلہ عہد شاہی میں بہت مشہور تھا اور اب وہاں سوائے کھنڈروں کے اور کچھ نہیں ہے۔ آغا میر کی ڈیوڑھی سے بیلی گارد کے نیچے نیچے تک اسی محلے کا سلسلہ گیا ہے۔ راستے میں ایک بہت پرانا تکیہ ہے جس کو سیتا پور کی جدید ریلوے لائن نے کاٹ کر قبروں کو متفرق و پاشاں کر دیا ہے۔ بیچ میں ایک سڑک گھوڑے گاڑی کے لیے ہے۔ اس کے اوپر چھتا ہے جس پر سے ریل گزرتی ہے۔ تکیے کے کئی حصے ہو گئے ہیں۔ ایک ریلوے لائن کے بغل میں ہے، اور دوسرا اس کے مقابل ، اور تیسرا مشرق کی جانب کسی قدر فاصلے پر واقع ہے۔ مگر قرینے سے معلوم ہوتا ہے  کہ کسی وقت میں یہ ایک ہی تکیہ ہوگا جس کو نئے جغرافیہ نے متفرق کردیا۔ (واقعاتِ انیس، ص7)

    عبد الحلیم شرر کے ناول طاہرہ میں بھی جو بہ قول شرر سچے واقعات پر مبنی ہے، اس قبرستان کا حوالہ ملتا ہے۔ طاہرہ اپنے چچا مولوی عزیز اللہ کے بارے میں بتاتی  ہے کہ وہ

    لوہے کے پل کو جاتے ہوئے تالاب کے قریب جو تکیہ ہے، اس کے پاس رہتے تھے۔ (ص 17)

    اور آگے بڑھ کر بتاتی ہے کہ مولوی عزیز اللہ کی بیوی کو

    ریذیڈنسی کے احاطے اور تالاب کے درمیان جو تکیہ ہے اس میں دفن کیا گیا۔ (ص60)

    بابو صاحب فائق کے بیان (بہ سلسلہ سٹہٹی) میں رزیڈنسی کے قریب والے اس پرانے تکیے کا حوالہ آ چکا ہے۔ یہیں میر مستحسن خلیق کی بھی قبر ہے۔ اپنے ایک اور بیان میں فائق ان کے مدفن کا پتا اس طرح دیتے ہیں:

    لکھنؤ میں لوہے کے پل اور ریل کے درمیان میں ایک قدیم قبرستان ہے، (خلیق) وہاں دفن ہوئے۔ (احوالِ مرثیہ گویاں، قلمی)

    مولوی آغا مہدی کا بیان ہے:

    لوہے کے پل کی واپسی میں جو ریل کا پہلا پل پڑتا ہے، پتلا، اس پل کے جانے میں کم و بیش پچاس قدم جب رہ جائیں تو بائیں جانب وہ قبرستان ہے جس میں لکھنؤ کے چنیدہ لوگ، شرفا، ادبا دفن ہیں۔ میر خلیق اور۔۔۔ میر تقی میر یہاں دفن ہیں۔ ۔۔ اس جگہ بھیم کا اکھاڑا کبھی تھا، اور میر خلیق کی قبر کا پتا دینے میں بعض علمی بیاضوں میں اس کا ذکر ہے۔ (تاریخِ لکھنؤ، ص 351)

    قبرستان کے مزید ذکر میں مولوی آغا مہدی بتاتے ہیں:

    1225ھ میں یہ قبرستان محدود اور پھاٹک سے گزر کر داخلہ ہوتا تھا۔۔۔ اس علاقے میں ایک اوسط درجے کی مسجد بھی تھی جس کا اب و نام و نشان نہیں ہے۔ (ص 351-52 )

    1225ھ میر کی وفات کا سال ہے۔ اس وجہ سے سنہ میں قبرستان کی کیفیت کا یہ بیان زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

    اوپر جوبیانات دئیے گئے ہیں وہ اُس زمانے کے ہیں جب انگریزی راج میں انہدامی کارروائیوں، پھر نئی تعمیروں نے سٹہٹی، بھیم کے اکھاڑے اور اس قبرستان  کے نقشے بدل دئیے تھے اور ان کی بیشتر تعمیروں کو فنا کر دیا تھا، البتہ میر محمد محسن کا بیان (1810) انگریزی دور کا نہیں بلکہ عہدِ شاہی سے بھی پہلے اوَدھ کے نوابی دور کا ہے۔ ہمیں ایک اور بیان ملتا ہے جو میر کی وفات اور محمد محسن کی تحریر سے بھی بیس برس پہلے کا ہے۔ اس بیان سے قبرستان کا نہ صرف محلِ وقوع بلکہ نام بھی ہمارے علم میں آجاتا ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے:

    سید حسین شاہ حقیقت کے بڑے بھائی (اور میر محسن علی محسن مصنف تذکرۂ سراپا سخن کے چچا) سید حسن شاہ نے کہانی کے روپ میں اپنی خود نوشت فسانۂ رنگیں 1205ھ ( 1790-91 ء عہد آصف الدولہ) میں لکھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی محبوبہ خانم جان کی موت لکھنؤ میں ہوئی اور ایک عورت مرزائی نے انہیں بتایا:

    بعد نماز جمعہ عبدالنبی شاہ کے تکیے میں نماز جنازہ پڑھی گئی اور وہیں تکیے میں، جو بھیم کے اکھاڑے کے پاس ہے، اس گوہرِ گراں مایہ، آفتابِ شرم و حیا کو قبر میں چھپا دیا۔ (نشتر، ص 210)

    ان ساری معلومات کا خلاصہ یہ ہے کہ وفات کے وقت میر کا مسکن لکھنؤ کے محلے سٹہٹی میں تھا۔ سٹہٹی سے متصل محلہ بھیم کا اکھاڑا تھا۔ اسی محلے کے اندر وہ اصل بھیم کا اکھاڑا تھا جس کے پاس عبدالنبی شاہ کا تکیہ تھا۔ یہ تکیہ محلہ بھیم کا اکھاڑا میں پڑتا تھا اور تکیہ اکھاڑا بھیم، بھیم کا تکیہ، قبرستان اکھاڑا بھیم کہلانے لگا اور بھیم کے اکھاڑے کی نسبت سے مشہور ہو گیا تھا۔ اسی قبرستان میں میر اور ان کے اہلِ خاندان کی قبریں تھیں۔

    اسی محلہ سٹہٹی میں 1857 کے آشوب سے پہلے تک میر انیس کا بھی مکان تھا جہاں ان کے والد میر سخن خلیق کی وفات ہوئی( 8 جمادی الاول 1260ھ، 26 مئی 1844ء) اور اسی اکھاڑا بھیم کے قبرستان میں خلیق کی بھی تدفین ہوئی۔ سعادت خان ناصر کی روایت کے مطابق خلیق کے لڑکپن میں ان کے والد میر حسن اصلاحِ کلام کے لیے ”اول ان کو میر تقی میر کی خدمت میں لے گئے تھے۔ میر نے کہا، اپنی ہی اولاد کی تربیت نہیں ہوتی، غیر کی اصلاح کا کسے دماغ ہے۔“ (خوش معرکۂ زیبا، ص 302) اس طرح خلیق شاعری کے میدان میں ریختے کے اس استاد کا قرب حاصل کرنے سے محروم رہ گئے تھے جس کی تلافی شاید اسی طرح ہونا تھی کہ زیرِ زمین ان کو میر کی ہم جواری نصیب ہو اور بالائے زمین اُن کی آنکھ بھی اسی محلے میں بند ہو جس میں میر کی آنکھ بند ہوئی تھی۔ اور یہ دونوں استاد اس لحاظ سے ہم قسمت بھی تھے کہ ان کے مسکن بھی اور مدفن بھی بے نشان ہو گئے۔