نیر مسعود

نیر مسعود

ناول کی روایتی تنقید

                      اردو ناول کی ابتدائی تنقید کے نمونےزیادہ تر ان ناولوں کے دیباچوں، تعریفوں، اشتہارات، سر ورق اور خاتمتہ الطبع کی عبارتوں اور خال خال تبصروں کی صورت میں ملتے ہیں۔ یہ تحریریں کسی حد تک ان ناولوں کی امتیازی خصوصیتوں کے حوالے سے اُس عہد کی اس نئی صنفِ ادب کی معیار بندی کرتی ہیں۔ مثلاً نذیر احمد   مرآۃ العروس کے دیباچے بھی بتاتے ہیں کہ ان کی یہ تصنیف ایک ایسی کتاب کی ضرورت کو پورا کرتی ہے جواخلاق و نصائح سے بھری ہوئی ہو اور ان معاملات میں جو عورتوں کی زندگی میں پیش آتے ہیں اور عورتیں اپنے توہمات اور کج رائی کی وجہ سے ہمیشہ مبتلائے رنج و مصیبت رہا کرتی ہیں، ان کے خیالات کی اصلاح اور ان کی عادات کو تہذیب کرے، اور کسی دلچسپ پیرائے میں ہو جس سے اُن کا دل نہ اکتائے، طبیعت نہ گھبرائے۔

    نذیر احمد یہ بھی بتاتے ہیں کہ جو کچھ وقت اس کتاب کی تصنیف میں صرف ہوا اس کے علاوہ مدتوں یہ کتاب اس غرض سے پیش نظر رہی کہ بولی بامحاورہ ہو اور خیالات پاکیزہ اور کسی بات میں آورد اور بناوٹ کا دخل نہ ہو۔

          مرآۃ العروس پر ایم کیمپسن (ڈائریکٹر آف  پبلک انسٹرکشن، ممالک شمال و مغرب) کے تبصرے کے کچھ فقرے یہ ہیں:

    نذیر احمد کی یہ تصنیف روزمرہ کے پڑھنے کے لائق اور عام فہم ہے… اس میں مضامین عاشقانہ اور نازک خیالات، جن کو اس ملک کے مصنف اپنی شہرت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، نہیں ہیں… کل قصہ شرفا کی روزمرہ  زبان میں بیان کیا گیا ہے کہ وہی اس ملک کی اصل اردو ہے، نہ وہ جس میں بڑے بڑے الفاظ اور مضامین رنگین بھر دیے جائیں۔ ] مصنف نے [ زنان خانے کے وہ طور طریق بیان کیے ہیں کہ جو اہلِ یورپ اُس کو پڑھے گا، اس ملک کی عورتوں کے روزمرہ کے حالات کی کسی قدر واقفیت اول اسی کتاب سے حاصل کرے گا… قصے کی نصیحت نفسِ قصہ سے  نکلتی ہے اور جن اشخاص کا مذکور اس قصے میں ہے وہ پڑھنے والے کو ایسے نظر آتے ہیں کہ گویا ان کی نقل ہو رہی ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کسی ہندوستانی مصنف نے اس  سے پہلے بجائے لفاظی اور مدّاحی کے بات چیت اور گفت و شنید سے اصل حقیقت کو ایسا ادا نہیں کیا۔

          سر ولیم میور (لیفٹیننٹ گورنر، ممالک شمال و مغرب) بھی کیمپسن کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

    اس ملک کے عام مروجہ حکایاتِ بے لطف کے مقابل میں، کہ وہ اکثر قابلِ اعتراض بھی ہیں، اس کتاب کے نہایت عمدہ مضامین سے پڑھنے والوں کو نہ صرف یہ فائدہ حاصل ہوگا کہ سلیس و فصیح زبانِ روزمرہ سے واقفیت حاصل ہو، بلکہ امورِ خانہ داری میں بھی بہت واقفیت پیدا ہوگی، اور ممکن نہیں کہ جن لوگوں کو بہ وجہ اپنے مناصب کے لوگوں سے کام پڑتا ہے ان کے لیے فہمیدِ معاملات میں بہ کار آمد نہ ہو۔

     

    مرآۃ العروس کے اٹھارہ سال بعد لکھنؤ میں ایک ناول افسانۂ نادر جہاں سامنے آیا۔ بڑی قطع کے پانچ سو صفحے کا یہ ناول مرآۃ العروس کے سانچے کا ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ یہ ایک عورت کی آپ بیتی کی صورت میں ہے اور کرداروں اور واقعات کے لحاظ سے اس کا پھیلاؤ بہت   ہے۔ مصنفہ طاہرہ بیگم الملقب بہ نواب فخر النسا نادر جہاں بیگم بھی ناول کے دیباچے میں اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ انہوں نے براہ راست اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے ”قصے کے پردے میں نصیحت“ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اپنی پڑھنے والیوں کو بتاتی ہیں:

    نہ میں نے تمہیں مخاطب بنایا ہے اور نہ خطاب کر کے سمجھایا ہے کہ بہن خبردار، تم وہ کام نہ کرنا اور میری بہن میں قربان، یہ بات ضرور کرنا۔ ہاں، راہیں، نیکی بدی، عذاب ثواب، خیر شر، اونچ نیچ کی بہ خوبی دکھلا دی ہیں۔

    یعنی نذیر احمد کی طرح نادر جہاں کی بھی یہی کوشش ہے کہ ”قصے کی نصیحت نفسِ قصہ“ میں رکھی جائے، الگ سے  نہ بیان  ہو۔ اس طرح اردو ناول کی ابتدائی معیار بندی ہی میں یہ نکتہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ راوی کو اپنے ما فی الضمیر کا اظہار براہِ راست اپنی طرف سے نہیں بلکہ قصے کے واسطے سے کرنا چاہیے۔

          افسانۂ نادر جہاں کے آخر میں اس پر ایک اور خاتون ناول نگار امجدی بیگم کا انشاپردازانہ تبصرہ شامل ہے جس میں بیانیے کے ربط و تسلسل کے بارے میں ایک اہم بات یہ کہی گئی ہے کہ نادر جہاں نے

          مقاموں کے پیدا کرنے میں کمال دکھایا ہے، بات میں بات کا پیوند لگایا ہے۔

    یہاں ”مقام“ سے صورت حال اور ناول کے وقوعے مراد ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ افسانۂ نادر جہاں میں بڑی مہارت کے ساتھ ایک صورت حال سے دوسری صورت حال اور ایک وقوعے سے دوسرا وقوعہ پیدا کیا گیا ہے۔

          ان تنقیدی تحریروں سے ایک عمدہ ناول کی مندرجۂ ذیل خصوصیتیں قرار پاتی ہیں:

    ۱۔ ناول کو بامقصد، نصیحت آموز اور اصلاحی ہونا چاہیے۔

    ۲۔ نصیحت مصنف/ راوی کی طرف سے براہ راست نہ کی گئی ہو بلکہ کرداروں کے طرز عمل اور مکالموں کی صورت میں قصے کے اندر سے نکلتی ہو۔

    ۳۔ کردار اور مکالمے مصنوعی نہیں، حقیقت سے قریب تر ہوں۔

    ۴۔ ناول میں ایسی سماجی حقیقت نگاری ہونا چاہیے کہ پڑھنے والوں کو کرداروں کی معاشرت کا علم حاصل ہو سکے۔

    ۵۔ قصہ ایک دوسرے سے مربوط واقعات کے فطری تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

    ۶۔ نفسِ قصہ کے ساتھ ناول کی زبان بھی ایسی ہونا چاہیے جس سے اس کے معاشرے کی سلیس روزمرہ کی زبان کا اندازہ ہوسکے۔

          انیسویں صدی کا اختتام آتے آتے اردو میں انگریزی ناولوں کے ترجموں کا دور شروع ہو گیا جس نے ایک سیلاب کی سی صورت اختیار کر لی۔ رینالڈس وغیرہ کے ناولوں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور اردو مصنفوں نے ان کے چربے بھی اتارنا شروع کر دئیے۔ یہ سستے ذوق کی تسکین والے ناول تھے اور ان کے بڑھتے ہوئے چلن کو سنجیدہ ادبی مذاق رکھنے والوں نے ناپسند کیا۔ اس ناپسندیدگی کے اظہار نے ناول کی روایتی تنقید میں نواہی کے باب کا اضافہ کیا، اور مقبولِ عام ناولوں کے معائب کی نشان دہی نے یہ بتایا کہ ناول کو کیسا نہیں ہونا چاہیے۔ مرزا رسوا شکایت کرتے ہیں:

    اکثر ناول جو اس زمانے میں لکھے گئے ہیں ان سب میں ایک ہی طرح کے منظر ہوتے ہیں اور وہی ہر پھر کر آتے ہیں، جیسے اس شہر میں ایک غریب تھیٹر تھا جسے لوگ مذاق سے ”چیتھڑا کمپنی“ کہتے تھے۔ اس میں چند پردے تھے۔ خوامخواہ تماشے میں وہی پردے بار بار دکھائے جاتے ہیں خواہ اُن کا محل ہو یا نہ ہو۔

    اکثر تقلید پیشہ ناول نویسوں نے رینالڈ کے ناول انگریزی میں پڑھے ہیں۔ اسی کے مضامین جس قدر یاد رہ گئے ہیں ان کو اپنے ناولوں میں صرف کرتے ہیں۔ قصے میں بھی  کوئی جدت نہیں ہوتی۔ میں نے  کسی انگریزی کتاب میں انگلستان کے ناول نویسوں کے پلاٹ کی ایک عام صورت پڑھی تھی۔ اس کا ذکر اس موقعے پر لطف سے خالی نہیں۔ واقعی ناولوں میں اس کے سوا ہوتا ہی کیا ہے ] پلاٹ کا بیان [ ۔ ممکن ہے کہ ہمارے ناول نویسوں کے لیے ایسا ہی ایک ڈھانچہ بنا دیا جائے۔ اس پر ہزاروں ناول نام بدل بدل کر لکھ لیے جائیں۔

    ایک اور خرابی ہمارے ملک کے ناولوں میں پردے کے اصول کی وجہ سے ہے، کیونکہ عوام عشق اور عاشقی کو ہر قصے کی جان سمجھتے ہیں، لذتِ فراق اور انتظار سب سے عمدہ مضمون خیال کیا جاتا ہے، پھر اگر کسی پردہ نشین سے سامنا ہو بھی گیا تو بغیر اس کے کہ اس کی عصمت پر دھبا لگے، پیام سلام، وعدے وعید، فراق، انتظار، یہ کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے اور جب تک یہ نہ ہو قصے کا مزہ کیا۔ لہٰذا لازم ہوا کہ ہر ایک قصے میں ناجائز محبتوں کا تذکرہ ہو اور یہ موجبِ خرابی اخلاق کا ہے۔

    اس سب کا سبب کلی یہ ہے کہ فطرت کے ملاحظے کا ہمارے ملک میں بہت ہی کم شوق ہے۔ جمال اور عظمت کے تصورات سے اذہان قاصر ہیں۔ نئے مضمون کیونکر نکالیں۔

    مرزا رسوا کو اس کا بھی گلہ ہے کہ

    نہ ہم خارج سے مضامین اخذ کرتے ہیں، نہ ذہن سے۔ ہم کو اس کی قدرت ہی نہیں کہ کسی منظر کو دیکھ کے زبانِ قلم سے اس کی تصویر کھینچ سکیں۔

    اسی سلسلے میں رسوا زبان کی قوت اور لفظوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں:

    اگرچہ ادیب مصور کی طرح کسی چیز کی رنگت اور شکل آنکھ سے نہیں دکھا سکتا، نہ خوش آئند سُرکانوں تک پہنچا سکتا ہے، لیکن وہ الفاظ کے ذریعے سے ہر چیز کی صورت صفحۂ تخیل پر کھینچ سکتا ہے، نہ صرف ایک رُخ سے بلکہ مختلف رُخوں سے۔ اور یہ ذہنی تصویر بہ نسبت جسمانی تصویر کے زیادہ پائیدار ] ہوتی [ ہے۔ الفاظ کے انتخاب اور تالیف سے نہ صرف نظم بلکہ نثر میں بھی اصولِ موسیقی کا مزہ پیدا ہو سکتا ہے۔

    زبان کا ذکر رسوا نے اپنے ایک ناول افشائے راز کے ذیل میں بھی کیا ہے اور اس طرح لکھنے پر زور دیا ہے ”جس طرح ہم آپ باتیں کرتے ہیں، نہ کہ اُس عبارت میں جو کسی انگریزی کتاب کا لفظی ترجمہ معلوم ہو۔“ رسوا ”عام فہم اردو“ اور ”عبارت کی سادگی“ کو اپنے ناول کی امتیازی خصوصیت بتانے کے ساتھ مکالمہ نگاری کے سلسلے میں ایک پتے کی بات کہتے ہیں:

    اگرچہ ا س ناول میں اعلیٰ درجے سے لے کر ادنیٰ درجے تک کے بولنے والوں کے مکالموں کی نقل کی گئی ہے لیکن ہم نے حتی الوسع اردو زبان کی سلاست کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

    زبان کی سلاست کو قائم رکھتے ہوئے مختلف کرداروں کے مکالمے اس طرح پیش کرنا کہ وہ بولنے والے کی شخصیت سے ہم آہنگ ہو جائیں، خواہ وہ سلیس زبان بولنے والی شخصیت نہ ہو، بہت مشکل کام ہے۔ مکالمہ نگاری کی سب سےکڑی شرط یہی ہے کہ نقل مطابق اصل نہ ہونے کے باوجود مطابق اصل معلوم ہو، اور اس کی پابندی کا آج تک ہمارے یہاں صحیح تصور نہیں ملتا۔ یہ شرط رسوا ہی کا سا اعلیٰ فنکار عائد کر سکتا تھا۔

          1891 میں ہمارے سامنے مقدمے   کی صورت میں ایک ناول کا عمدہ تنقیدی تجزیہ آتا ہے۔ ناول سوانح عمریِ مولانا آزاد ایک فرضی کردار کی خیالی آپ بیتی ہے۔ یہ سماجی طنز نگاری کا ابتدائی نمونہ ہے جس کا مرکزی کردار دنیاوی ترقی اور معاشرے میں اعتبار حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا اور نت نئے بہروپ بھرتا ہے اور آخر جیل پہنچ جاتا ہے۔ یہ ناول اودھ پنج میں قسط وار شائع ہوتا تھا۔ 1891 میں سید محمد عبد الغفور شہباز کے ”حسنِ تصحیح“ اور مقدمے کے ساتھ اس کی اشاعت ہوئی۔ کتاب اور مقدمے میں مصنف کے نام کی صراحت نہیں ہے لیکن مقدمہ ناول کا تفصیلی تعارف کراتا ہے۔ مرکزی کردار اور ناول کے دائرہ کار کے بارے میں شہباز لکھتے ہیں:

    ] مولانا آزاد [ … نئی روشنی کے جدید تربیت یافتہ حضرات کا… ایک فرمائشی نمونہ ہے۔ اُن کی تاریخِ زندگی واقعی میں نئی روشنی کی تاریخ ہے کہ پچھلے چالیس برس میں علی العموم اس نے نئے تربیت یافتہ حضرات کے عقائد اور خیالات پر کیا اثر ڈالا۔ ان کے طریقۂ کسبِ معاش میں کیا کیا انقلاب پیدا کیے۔ سوسائٹی کے فریم کو کس طرح بدلا۔ طریقۂ زندگی اور اوضاعِ لباس و پوشاک میں کیا ترمیم کی۔ دیانت اور ایمان داری، شرافت اور انسانیت کے مفاہیم اور معانی میں کیا کیا باتیں بڑھائیں… خود غرضی، نفس پرستی، غرور، تن آسانی، خود نمائی، خود بینی، اور اسی قسم کے بیہودہ اخلاق کے مہذب طور سے برتنے اور ان پر نوتراشیدہ مہذب الفاظ کی آڑ میں فخر کرنے کے کیا کیا ڈھنگ ایجاد کیے۔ نئی روشنی کی تاریخ اس شرح و بسط کے ساتھ… شاید کہیں قلم بند نہیں ہے۔

         شہباز اس بات کی خاص طور پر تعریف کرتے ہیں کہ مصنف نے اپنے مشاہدے کی قوت اور ”تجربۂ دنیا“ کی مدد سے بڑی خوبی کے ساتھ ”مختلف پیشوں اور مشغلوں کے اسٹیج پر ایک فرضی اور خیالی شخص سے… مختلف مشکل پارٹ کامیاب طور پر ایکٹ“ کرائے ہیں۔

    ناول میں کرداروں کی کثرت اور رنگا رنگی کا ذکر شہباز اس طرح کرتے ہیں:

    سوانح   عمری مولانا آزاد حقیقت میں ایک ہزار غُرفہ قصرِ رفیع الشان ہے جس کے ہر غرفے سے ایک نئی خصلت اور نئے خیال کا آدمی آزادانہ جھانک رہا ہے۔ کج طینت مارواڑی، وسیع الاخلاق کسبی، سریع الاستحالہ اسکولی لونڈے، سرگرم اور پرجوش برہمو مذہب کے کنورٹ، روشن خیال ماسٹر، تربیت یافتہ حکام رس، نفس پرست واعظ، دنیا ساز وکیل، شکم پرور میونسپل کمشنر، بدا صول آنریری مجسٹریٹ، ناعاقبت اندیش سیاہ فام حکام، استحصال بالجبری ایڈیٹر، بگڑے ہوئے رفارمر، مہذب شرابی، عالی ظرف تاڑی باز… کون صاحب ہیں کہ جو یہاں تشریف نہیں رکھتے۔

                ناول کے موضوع اور اسلوب کے رشتے پر بھی شہباز کی نظر پڑی ہے۔ مصنف کے استعاراتی اور تشبیہی پیرایۂ اظہار کی تعریف کرنے  کے ساتھ لکھتے ہیں:

    سوانح عمری کے مضامین کو اس خاص طرزِ ادائے مطلب کے ساتھ عجب متناسب طلسماتی تعلق ہے۔ شاید مولانا آزاد کی سوانح عمری کے لیے مطالب کے لحاظ سے اس… طریقۂ انشا سے بہتر کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ طرزِ عبارت اور حالات میں ایک عجب طرح کا مفہومی لین دین قائم ہے کہ حالات کو طرزِ عبارت چمکا رہی ہے اور طرزِ عبارت کو حالات۔ پھر وہ معاملہ اس اعتدال کے زینے پر ہے کہ نہ تو مطالب عبارت کو گھسیٹ لے گئے ہیں نہ عبارت مطالب کو۔ گویا وہ متساوی القوۃ اشخاص ایک دوسرے کو اپنی طرف برابر قوت کے ساتھ گھسیٹ رہے ہیں۔

                عمدہ مزاحیہ تحریر کی صفت یہ ہے کہ اس کا لکھنے والا پڑھنے والوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا نہ معلوم ہو، نہ یہ ظاہر کرتا معلوم ہو کہ وہ کوئی مزاحیہ بات کر رہا ہے۔ شہباز ناول میں اس صفت کی موجودگی کا اس طرح ذکر کرتے ہیں:

    خوش سلیقہ ظریف کا کمال یہ ہے کہ ہر چند کیسی ہی ہنسی کی بات کیوں نہ ہو مگر اس کے بشرے سے نہ پایا جائے کہ کوئی ہنسی کی بات کر رہا ہے… آزاد کے سوانح عمری میں اس پہلو پر عجب نستعلیق طور پر نظر رہی ہے۔ جہاں جہاں غایت درجے کی ظرافت ہے، طرزِ بیان اس قدر متین اور سنجیدہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے قائل کو اس کے مضحک ہونے کا مطلق احساس نہیں۔ اس قسم کی مصنوعی متانت مضمون کو عجیب معتدل اور مہذب عنوان سے شوخ کرتی ہے۔

                سوانح عمری مولانا آزاد کا مرکزی کردار طرح طرح کے روپ بدلتا اور مختلف بلکہ متضاد کرداروں میں ڈھلتا رہتا ہے، اس کے باوجود اس کی ذاتی شناخت قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شہباز ناول کی اس خصوصیت پر بھی نظر ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

    مولانا آزاد کی تصویر ایک کامل الفن معنوی نقاش کی استادی اور کمال کا حیرت انگیز نتیجہ ہے۔ عالمِ فطرت میں شاید مشکل سے کوئی فرد ایسا نکلے جس میں تمام صفات و کمالات صوری و معنوی مولانا آزاد کے جمع ہوں، گو فرداً فرداً ہر صفت اور کمال کا وجود عالمِ ظاہر میں متحقق ہو۔ استادی فقط ان صفات اور کمالات کے خاص انتظام میں ہے اور اس انتظام کا کمال یہ ہے کہ فطرت کو صنعت کا دھوکا ہے اور صنعت کو فطرت کا۔

                عبدالغفور شہباز کا یہ مقدمہ اردو ناول کی روایتی تنقید میں خاص توجہ کا مستحق ہے۔ اگرچہ یہ سراسر ستائشی تنقید ہے لیکن ہمارے علم میں اس سے پہلے کسی ایک ناول کا اتنے پہلوؤں اور اتنی تفصیل سے جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔

     

          آخر میں جس کتاب کا ذکر کرنا ہے وہ ناول پر غالباً پہلی مستقل تنقیدی تصنیف ہے اور اس لحاظ سے ناول کی تنقید میں تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب تنقید القصص ہے۔ اس کی تصنیف اور اشاعت کا سنہ درج نہیں ہے لیکن اندرونی شہادتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انیسویں صدی کے آخر یا بیسویں صدی کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ مصنف کا نام ”نواب عاشق الدولہ“ بتایا گیا ہے۔ یہ فرضی نام ہے جیسا کہ ختم کتاب کے اس شعر سے ظاہر ہے:

    پڑھنے والے تجھے کیوں نام بتائیں اپنا

    ہر کسے مصلحتے خویش نکو می داند

          تنقید القصص میں تنقید کا اصل موضوع، یا نشانہ، انگریزی کے عام پسند بلکہ عامیانہ ناولوں کے وہ ترجمے اور چربے جن کا اردو میں بہت چلن ہوگیا تھا۔ ”پرانے قصے اور نئے ناول“ کے عنوان سے مختصر تمہید میں مصنف بتاتے ہیں کہ وہ اس موضوع پر شدت سے لکھنا چاہتے تھے، لیکن ڈرتے تھے کہ ”ایک ہلڑ مچ جائے گا اور چاروں طرف سے مخالفت بلکہ مخاصمت کا بادل امنڈ آئے گا۔“  مگر اب ضبط کی تاب نہیں ہے۔ کتاب لکھنے کا مقصد یہ بتاتے ہیں کہ ”پرانے قصوں اور نئے ناولوں کو محققانہ نظر سے دیکھا جائے۔“

          کتاب چھ حصوں میں تقسیم کی گئی ہے جن کے عنوان یہ ہیں؛

    1۔ فرق اور اثر

    2۔ ہندوستانی جدید ناول

    3۔ مختلف مقامات کے ناول، زبان، معمولی جملے، طرزِ ادا وغیرہ

    4۔ ناولوں کے خصوصیات

    5۔ ایک چھوٹا سا محاکمہ

    6۔ میری صلاح

    ان حصوں کے تحت آنے والے مباحث مختصراً اس طرح ہیں:

    1۔ فرق اور اثر

    اردو فارسی کے پرانے ایشیائی قصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خلافِ عقل اور مخربِ اخلاق باتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ غالباً انہیں خصوصیات کے رد عمل میں یوروپی انداز کی ناول نگاری کا دور دورہ ہوا اور حقیقت نگاری کو نئے ناولوں کی خاص صفت بنایا گیا ہے لیکن پرانے قصوں کا غیر حقیقی ہونا اتنا بدیہی ہے کہ کم عقل آدمی بھی ان کو جھوٹ سمجھ کر پڑھتا ہے اور اس صورت میں ان قصوں کا اخلاق پر بُرا اثر نہیں پڑ سکتا۔ نوجوانوں کے لیے ان سے کہیں زیادہ مضرت رساں عشقیہ انگریزی ناول ہیں اور ہمارے ”تقلید سرشت“ لکھنے والوں نے انہی کی نقالی شروع کر دی۔

     

    2۔ ہندوستانی جدید ناول

          اردو ناولوں کا ” اصلی مقصود عشق بازیاں ہیں۔“ اگرچہ گاہ گاہ ان میں ”پولیٹیکل اور تمدنی چالیں“ بھی دکھانے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں لیکن ”تماش بینی اور ناز آفرینی کے ہتھکنڈے خوب جی کھول کے بنائے جاتےہیں… اور یہ مضامین اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ یہ سب کچھ ہو ہی کے رہا ہوگا۔ ان سے ہمارے پرانے ایشیائی قصے بہتر ہیں جن کے سچ ہونے کا اعتبار ہی نہیں ہوتا۔“

     

    3۔ مختلف مقامات کے ناول

          یہ کتاب کا سب سے دلچسپ اور اہم حصہ ہے جس میں  ہندوستان کے قریب قریب ہر علاقے کی ناول نویسی کا جائزہ لیا گیا ہے، مثلاً:

    (1) دہلی میں ناول نویسی کو زیادہ فروغ نہیں ہوا۔ کچھ ناول انگریزی سے ترجمہ ہوئے، طبع زاد کم لکھے گئے مگر وہ بھی ”عام رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں،“ البتہ نذیر احمد وغیرہ کے کچھ ناول ہیں جن میں شریفانہ تعلیم اور اعلیٰ اخلاقی مضامین ہیں، ”نجس عشق بازی اور ناپاک تماش بینی“ نہیں ہے۔ ان سے ناول لکھنا سیکھنا چاہیے۔

    (2) لکھنؤ میں ناول نویسی کا بازار سب سے زیادہ گرم ہے۔ سب لکھنے والے زبان دانی کے مدعی ہیں اور عجب مصنوعی، آورد سے بھری ہوئی عبارت لکھتے ہیں۔ ہر ناول میں چند مخصوص لفظوں اور فقروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ کہیں ذرا سی بات کو کئی صفحوں میں پھیلا دیا جاتا ہے، کبھی مضحکہ خیز طور پر اختصار سے کام لیا جاتا ہے، تکرارِ مضامین ایسی ہوتی ہے کہ کئی کئی صفحے سادہ چھوڑے جا سکتے ہیں۔

    (3) پنجاب میں انگریزی سے ترجمے زیادہ ہوئے، طبع زاد ناول کم لکھے گئے۔ یہ زبان کے لحاظ سے ناقص ہیں۔ پنجاب کے مسلمانوں نے ”ہر قسم کے لٹریچر میں“ سب صوبوں سے زیادہ ترقی کی ہے۔ کاش وہ ناولوں کے بجائے دوسرے اور مفید علوم و فنون پر توجہ کرتے۔

    (4) بنگال میں بھی اردو ناول کم لکھے گئے۔ بنگلہ ناولوں کے ترجمے ضرور ہوئے ہیں مگر بہتر تھا کہ نہ ہوئے ہوتے۔ مولانا آزاد کی کتابیں ] سوانح عمری مولانا آزاد وغیرہ [ البتہ بنگال اور بہار کا قابلِ قدر سرمایہ ہیں، ” گو وہ ناول نہیں ہیں اور ظریفانہ طور پر لکھی گئی ہیں،“ پڑھنے والوں کو اُن سے ”کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔“

    (5) دکن کے علاقوں ( حیدر آباد، پریزیڈنسی مدراس، بمبئی) میں حیدرآباد ہندوستان بھرکے ناولوں کا سب سے بڑا گاہک ہے۔ یہاں کے نوجوانوں نے ” حسنِ معاشرت اور اعلیٰ تہذیب کی کسوٹی کو سمجھ لیا ہے۔“ اور فیشن کے طور پر بہ کثرت ناول خریدتے ہیں لیکن پوری طرح پڑھتے نہیں اور جتنا پڑھتے ہیں اُسے سمجھتے نہیں۔ اس کم ذوقی کے باوجود دو چار لوگ ناول نویسی کے میدان میں اُتر پڑے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کی داد دینا ممکن نہیں۔

    (6) مدراس میں ناول نویسی   کی جیسی بُری حالت ہے ویسی اور کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں کے ناولوں کی نسبت کچھ کہنے سے بہتر ہے کہ ان کے چند فقرے اور شعر نقل کر دئیے جائیں۔ ] مضحک مثالیں [

    (7) بمبئی کے ناول دیکھنے کا موقع نہیں ملا، اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں کیا حال ہے، لیکن ممکن نہیں کہ ناول نویسی کی یہ وبا وہاں نہ پہنچی ہو۔

    (8) ”ملکِ متوسط میں اردو فارسی پڑھے لکھے لوگ کم ہوتے ہیں، اور وہاں کے ناول ہوں گے بھی تو اپنے ہم سرحدی صوبوں میں مل جل گئے ہوں گے۔“

    (9،10) ”لنکا اور برہما کی خبر نہیں۔ وہاں کی کھیپ ہندوستان ابھی نہیں آئی… کیونکہ ان مقامات پر اس ملک کے صد ہا ہزار آدمی موجود ہیں، ان میں پڑھے لکھے بھی اگر ہیں تو ضرور یہ تحفہ لائیں گے… تب دیکھا جائے گا۔“

    4۔ ناولوں کے خصوصیات

          ایشیائی قصے بے شک مبالغے اور جھوٹ سے بھرے ہوئے ہیں اور انہیں خلافِ حقیقت سمجھا بھی جاتا ہے لیکن اس قسم کی لغویتیں جدید ناولوں میں بھی موجود ہیں، البتہ انہیں صداقت کے پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ] انگریزی ناولوں میں فوق الفطرت اور بعید از قیاس عناصر کی نشاندہی۔ [

          یوروپی ناولوں کی دیکھا دیکھی ہندوستانی ناولوں میں بھی بے حیائی کے منظر خوب خوب دکھائے جاتے ہیں، بلکہ بعض ہندوستانی ناول تو اس خصوصیت میں یوروپی ناولوں سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔

          ہندوستانی ناولوں میں ایک عیب یہ بھی ہے کہ ان کو بہ آواز نہیں پڑھا جاسکتا ] یعنی زبانی بیانیے کی حیثیت سے یہ ناول ناکام ہیں [

     

    5۔ ایک چھوٹا سا محاکمہ

          ان تمام اعتباروں سے کہنا پڑتا ہے کہ ”ہمارے پرانے ایشیائی قصے ہر طرح اچھے، ہزار بار اچھے، لاکھ بار اچھے۔“ بوستانِ خیال، الف لیلہ کا مقابلہ ہندوستان کیا، یوروپ کا بھی کوئی ناول نہیں کر سکتا۔ سب سے زیادہ دھوم مسٹریز آف دی کورٹ آف لندن کی ہے، لیکن کیا یہ بوستانِ خیال کی ایک جلد کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے؟

          ناول میں پڑھنے والے کی دلچسپی بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کنکوے بازی، بٹیر بازی، ناچ تھیٹر کے سے تفریحی مشغلوں میں ہوتی ہے، اور اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔

          اردو میں تاریخی ناول بھی لکھے جا رہے ہیں لیکن ان میں من گھڑت واقعات جوڑ کر پڑھنے والوں کو گمراہ کر دیا جاتا ہے اور کم استعداد پڑھنے والے ان بے اصل واقعات پر اسی طرح یقین کرنے لگتے ہیں جس طرح تاریخ ابو الفدا قسم کی مستند کتابوں پر یقین کیا جاسکتا ہے۔

     

    6۔ میری صلاح

          اس آخری حصے میں مصنف زور دے کر کہتے ہیں کہ ناول ملک یا زبان کی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ” بہت متبدل چیز ہے اور ایک حد تک مخربِ اخلاق، معین جرائم مویدسیہ، ”اسی لیے ہم بڑے بڑے عالی دماغ عالموں نے اس صنف کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات لکھتے  ہیں:

          ”اگر ناول ہندوستان میں کسی کام کا بھی ہوتا اور کچھ بھی اس سے دنیاوی فائدے کی توقع ہوتی تو سب سے پہلے ہندی ناولسٹ سر سید ہوتے۔“

          لکھنے والوں کو چاہیے کہ ناول نویسی چھوڑ کر مفید علمی کتابیں ترجمہ یا تصنیف کریں۔ یہ محض عذرِ لنگ ہے کہ ”اردو زبان الفاظ کی طرف سے ایسی مفلسا ہے جس میں علوم و فنون یا اعلیٰ درجے کی عربی، انگریزی، انشاپردازی کے ترجموں کی پوری گنجائش نہیں“ اور بتاتے ہیں مولوی زوار حسین کنتوری نے کتاب فرہنگِ فرنگ کے دیباچے (1887) میں اس موضوع پر ”بہت ہی نفیس اور کامل بحث کی ہے۔“ انگریزی وغیرہ کی طرح اردو میں بھی دوسری زبانوں کے لفظوں کو اپنا لینے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ ”غرض یہ عالی ظرف زبان اتنی سمائی رکھتی ہے اور اس بے قیدی کے ساتھ اتنی ترقی کر سکتی ہے کہ کسی زبان کو ممکن نہیں… ہماری اردو مفلس ہے نہ محتاج، بلکہ دنیا کی تمام دولت مند زبانوں سے بہت زیادہ مالامال ہے اور ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے جینے دیں اور صرف ناولوں کی تیرہ و تار قبروں میں نہ دفن کر دیں۔“

          مصنف نے پرانے قصوں اور نئے ناولوں کی بحث میں کچھ ناولوں کے تلخیص نما پلاٹ بھی درج کر دیئے ہیں۔ یہ طریقہ مرزا رسوا نے بھی اختیار کیا ہے۔ لیکن رسوا اور شہباز کے لہجے میں ٹھہراؤ اور سنجیدگی ہے، ان کے برخلاف تنقید القصص کے مصنف کا لہجہ تیز اور کہیں کہیں تضحیکی ہے۔ ان کے تنقیدی اسلوب کا کچھ اندازہ مندرجہ ذیل اقتباسوں سے کیا جا سکتا ہے:

          (پنجاب کے ناول) ”زبان کے اعتبار سے اسی قدر کہنا کافی ہے کہ پنجابیوں سے اتنی توقع بھی نہ تھی۔“

          ”بنگالہ میں اردو ناول کم ہیں۔ بنگالی زبان میں ہوں گے۔ ان کو مچھلی بھات کے حوالے کرو۔ ورگیش نندنی، بشا برکھشا، فاتح بنگالہ وغیرہ ناول بنگالی ماشاؤں کی طباعی ہے جن کا اردو ترجمہ کرنے والوں نے اپنے حسابوں ملک پر احسان کیا ہے، مگر بہتر ہوتا کہ بلی صاحبہ مہربانی کرتیں، مرغا لنڈورا ہی اچھا تھا۔ یہ سب ترجمے اسی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جس   کا ذکر ہو چکا ۔“

          ”دہلی کو رخصت کیجیے اور لکھن?