نیر مسعود

نیر مسعود

میر خلیق کی مرثیہ خوانی

    مرثیہ گوئی میں میر ضمیر کے سب سے اہم مدِ مقابل میر مستحسن خلیق تھے۔ وہ میر انیس کے والد اور خود بھی با کمال مرثیہ خواں تھے۔ شریف العلما مولوی سید شریف حسین نے محمد حسین آزاد کے استفسار پر ایک خط میں آب ِحیات کے لیے خلیق اور میر انیس کے جو حالات لکھ کر بھیجے تھے اُن میں خلیق کے طرزِ خوانندگی کے بارے میں لکھتے ہیں : سنا ہے خوب پڑھتے تھے اور ہاتھ پاؤں کو حرکت نہ ہوتی ، ایک آنکھ کی گردش تھی ۔١ آزاد نے لکھنؤ کی اس مجلس کا بھی ذکر کیا ہے جو میر خلیق کی شہرت کا سبب ہوئی۔ اس مجلس میں میر ضمیر کی زور دار خوانندگی کے فوراً بعد خلیق سے پڑھنے کو کہا گیا تو وہ: توکل بہ خدا اٹھ کھڑے ہوے اور منبر پر جا بیٹھے۔ چند ساعت توقف کیا۔ آنکھیں بند، خاموش بیٹھے رہے۔ ان کی گوری رنگت ، جسم نحیف و نا تواں، نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بدن میں لہو کی بوند ہے یا نہیں، جب آواز سنائی دی۔ چند مرثیے کے بند بھی اس حالت میں گزر گئے۔ دفعۃً با کمال نے رنگ بدلا، اور اس کے ساتھ ہی محفل کا بھی رنگ بدلا ۔ آہوں کا دھواں ابر کی طرح چھا گیا اور نالہ وزاری نے آنسو برسانے شروع کیے۔ پندرہ بیس بند پڑھے تھے کہ ایک کو دوسرے کا ہوش نہ رہا۔ پچیس یا تیس بند پڑھ کر اتر آئے۔ اہلِ مجلس اکثر ایسی حالت میں تھے کہ جب آنکھ اٹھا کر دیکھا تو منبر خالی تھا۔ نہ معلوم ہوا کہ میر خلیق کس وقت منبر سے اتر آئے۔ ۲ میر ضمیر اور میر خلیق کی مرثیہ خوانی کے ایسے واقعات ہمیں نہیں ملتے جن سے معلوم ہو کہ انہوں نے مرثیے کے کسی بند کو کس طرح پڑھا، لیکن ابھی تک کی گفتگو سے اتنا معلوم ہو جاتا ہے کہ میر ضمیر کا طر زِ خوانندگی زیادہ ڈرامائی تھا جس میں وہ مفہوم کی عکاسی کے لیے اشاروں اور ہاتھوں کی جنبش سے کام لیتے تھے ۔ میر خلیق ان سے کام نہیں لیتے تھے بلکہ آواز اور لہجے کی تبدیلی اور آنکھ کی گردش یعنی چہرے کے تاثرات سے کلام کا اثر بڑھاتے تھے۔ دونوں استادوں کا انداز اپنے اپنے مرثیوں کے لیے مناسب بھی تھا، اس لیے کہ مضمیر کے یہاں رزمیہ اور بیانیہ عناصر خلیق سے زیادہ ، اور خلیق کے یہاں رثائی عناصر ضمیر سے زیادہ ہوتے تھے۔ دونوں کی خوانندگی کا کچھ اندازہ ان کے مندرجہ ذیل بندوں سے کیا جا سکتا ہے: میر ضمیر: رن میں ہوئے جہندہ وجولاں یہ راہوار بالائے خاک پشت سے گر گر پڑے سوار گرتا تھا ایک ایک کے اوپر دمِ فرار کہتے تھے اہل ِظلم یہ آپس میں بار بار ڈرتے ہیں گھوڑے، اپنی بھی حالت تباہ ہے گویا کہ آمد آمدِ شیر الٰہ ہے ملتا تھا برگ سے کفِ افسوس ہر شجر اور خاک اڑا رہی تھی ہوا بھی اِدھر اُدھر اک سمت لوٹتے تھے کبوتر زمین پر مظلوم کے لہو میں ڈبوتے تھے بال و پر سب طائرانِ اوج فلک اشک بار تھے مانندِ مرغ ِقبلہ نما بے قرار تھے ( مرثیہ’’ جب ظالموں نے خاتمۂ پنج تن کیا‘‘ ۳) پہنچے یہ دونوں جو نزدیکِ سپاہ کفار دونوں شیروں نے صدا دی کہ ہم آئے ہشیار چار سو سے لگی جب اُن پہ برسنے تلوار تب تو دونوں نے ملا گھوڑے سے گھوڑے اک بار ایسی تلوار کی اُس فوج کے سرداروں سے خون اڑنے لگا ان دونوں کی تلواروں سے ایک کے ہاتھ میں وہ برق سی شمشیر ِدودم مرتضیٰ نے پرِ جبریل کیے جس سے قلم ایک کے جعفرِ طیار کا کاندھے پہ علم پھر نہ کیوں لشکرِ کفّار ہو درہم برہم اس طرح جنگ میں مشغول جو دو شیر ہوئے کشتوں کے پشتے لگے، زخمیوں کے ڈھیر ہوئے ( مرثیہ ’’میں نے دیکھی جو احادیثِ بحارالانوار‘‘٤) میرخلیق: دونوں لاشے لیے خیمے میں جب آئے شبیرؑ دیکھ لاشوں کی طرف شاہ کی پیاری ہم شیر اٹھی اور کہنے لگی، آؤ مرے ماہِ منیر بھوکے پیاسے گئے تھے، کھائے بہت خنجر و تیر شکر صد شکر نہ محنت مری برباد ہوئی اے مرے پیارو یہ ماں تم سے بہت شاد ہوئی ملنے پائی نہ رضا رن کی علی اکبر کو زخم تم نے کوئی لگنے نہ دیا سرور کو سُرخ رو احمد و زہرا سے کیا مادر کو پھر کہا بھیڑ ہے کی کس لیے لوگو، سرکو سنتی ہوں جنگ بہت کی مرے دلداروں نے دیکھ لوں زخم کہاں کھائے مرے پیاروں نے کہہ کے یہ دونوں کے تن پر سے اتارے کرتے سُرخ تھے خون سے مظلوموں کے سارے کرتے پہلے آنکھوں سے لگائے وہ پیارے کرتے بولی ہاتھوں کے سیے تھے یہ ہمارے کرتے رو کے بانو سے کہا مجھ کو یہ بو بھاتی ہے دونوں کرتوں سے مرے دودھ کی بو آتی ہے دونوں فرزندوں کے پھر گننے لگی زخمِ بدن کثرتِ زخم سے گلدستہ تھے وہ نازک تن جس قدر عون کا تن زخموں سے تھا رشکِ چمن یوں ہی مجروح محمد بھی ہوا تشنہ دہن بیبیوں سے کہا زینب نے کہ آ کر دیکھو زخم دونوں کے بدن پر ہیں برابر دیکھو ( مرثیہ’’ جب کہ زینب نے سنا صبح لڑائی ہوگی‘‘٥) حواشی: ١۔ مکتوب شریف العلما بہ نام محمد حسین آزاد، مشمولہ ٔمحمد حسین آزاد: حیات اور تصانیف (جلد دوم) ، ڈاکٹر اسلم فرخی، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی ، ۱۹۶۵، ص ۲۵ ۔ ٢۔ آبِ حیات، ص ٨٦٣۔ ٣۔ مجموعۂ مرثیہ میر ضمیر، جلد اول، مطبع نول کشور، ١٨٨٤ء، ص ٧و ٣۔ ٤۔ مجموعہ مرثیہ میر ضمیر، جلد اول، ص٥٩ ٥۔اردو مرثیے کی روایت، ڈاکٹر مسیح الزماں ، کتاب نگر، لکھنو ٔ، ۱۹۶۹ ء،ص ۳۲۶۔