اکبر کی علامت سازی
ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کا اثر اکبر کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کا بنیادی موضوع ہے، قدیم و جدید کا تصادم، مغربیت کا بڑھتا ہوا غلبہ، مشرقیت کی پسپائی، نئی قدروں کے مقابل پرانی قدروں کی پامالی، ہندوستانیوں کی تہذیبی کشمکش، اور ایک سماجی انقلاب کے مختلف مظاہر وغیرہ اسی بنیادی موضوع کے ضمنی موضوعات ہیں جو اکبر کی شاعری میں بار بار اور طرح طرح سے اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اکبر سے پہلے ان موضوعات کو اس التزام اور اہتمام کے ساتھ نہیں برتا گیا تھا۔ اقبال کی شاعری کی طرح یہ بھی ایک نئی قسم کی شاعری تھی اور اقبال ہی کی طرح اکبر کو بھی اپنی شاعری کے لیے نئی علامتیں درکار ہوئیں۔ اقبال ہی کی طرح اکبر نے بھی کچھ پرانی علامتوں مثلاً شمع، چراغ، شیخ وغیرہ کو نئے مفاہیم میں استعمال کیا لیکن بہت سی ایسی علامتیں وضع بھی کیں جو مجرد الفاظ تک کے طور پر ہماری روایتی شعری زبان میں شامل نہیں تھیں۔ اس کا خاص سبب یہ ہے کہ اکبر نے اپنی بیشتر علامتیں انگریزی لفظوں سے بنائی ہیں، اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان علامتوں کی تعداد سوا سو سے متجاوز ہے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ اکبر ہمارے سب سے بڑے علامت ساز شاعر ہیں اور ان کے یہاں ایک بالکل نیا اور مکمل علامتی نظام کار فرما ہے۔
اکبر کی علامتوں پر گفتگو کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ایک فہرست (جو مکمل نہیں ہے) الفبائی ترتیب کے ساتھ پیش کر دی جائے۔ یہ فہرست کچھ اس طرح ہے:
آنر آئس کریم، اخبار، اذان، اسپتال، اسپنسر، اسپیچ، استانی، اسٹیج، اسکول، امتحان، انجن، انگریز، انگریزی، انگلش، اونٹ، ایرو پلین، بابو، بال، بجلی، بدھو، بسکٹ، بگل، بل، بلب، بندر، بنگلہ، بوزنہ، پارک، پاکٹ، پالسی، پالش، پانی، پانیر، پائپ، پتلون، پٹرولیم، پریڈ،پلیٹ، پنشن، پھاگن، پیانو، پیرس، پیرو، تار،تھیٹر، ٹائپ، ٹٹو، ٹم ٹم، نیچر، جاکٹ، جمن، چائے، چراغ، چوٹ، چندہ، حسو، حقہ، خضر، دربار، دسمبر، ڈارون، ڈاکٹر، ڈبل روٹی، ڈنر، ڈولی، رجسٹر، ریل، سائنس، سایہ، سرٹیفکیٹ، سرجن، سڑک، شمع، شیخ، شیکسپئر، صاحب، صلو، فٹن، فرنچ، فرنگن، فونوگراف،فیشن، قرآن، کالج، کل، کلرک، کلو، کمپ، کمیٹی، کنٹوپ، کو، کورس، کونسل، کیروسین، کیک، گریجویٹ، گزٹ، گملے، لائسنس، لیکچر، لیمپ، لمنڈ، لنگور، لونڈر، لیڈر، ماسٹر، مٹن، مس، مسٹر، مسواک، مشین، مل (اسٹوارٹ)، مل (کارخانہ)، مٹن، موٹر،ناول، نصیبن، نل، نیٹو، نیچری، وارنش، ووٹ، ہوٹل، ہیٹ، یورپ۔
اکبر کے کلام سے، بلکہ بڑی حد تک اس فہرست سے ہی، اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ علامتیں کن عناصر کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اس طرح یہ علامتیں آپ اپنی وضاحت کر دیتی ہیں، لیکن کہیں کہیں اکبر خود بھی کسی علامت کی وضاحت کر دیتے ہیں، مثلاً
بدھو سے صرف ہند کا مسلم مراد ہے مقصود عاجزی ہے غرور اک فساد ہے
چنانچہ اکبر کے یہاں بدھو اور اس قبیل کی مسلم عرفیتیں جمن، حسو، پیرو، کلو، صلو، نصیبن وغیرہ اور کچھ ہندو نام بھی پس ماندہ ہندؤں اور مسلمانوں کی علامتیں ہیں۔ کچھ شعر دیکھیے:
اسلام کی رونق کا کیا حال کہیں تم سے کونسل میں بہت سید، مسجد میں فقط جمن
خلل نہ شغل میں بدھو کے ہے نہ حسو کے کہ شیخ سدو بھی ہیں اور قدم رسول بھی ہے
فقط مذہب سے تم میں عزت و قوت کی ہے یہ بو وگرنہ اور کیا نسبت، کجا ولیم کجا کلو
یہ بولے رو کے پیرو اور گیا دین دھرم دنیا سے اٹھا اور گیا دین
پوچھتے کیا ہو کہ تو پیرو ہے یا ہرمن ہے بندہ جو کچھ ہے بہ ہر حالت بلا لائسنس ہے
حکم انگلش کا ملک ہندو کا اب خدا ہی ہے بھائی صلو کا
رہیں ہر پھر کے آیا بی نصیبن وہ گو اسکول میں برسوں پڑھا کیں
اسی طرح کالج کی علامت جو اکبر کے یہاں کثرت سے استعمال ہوئی ہے، اس طرح واضح ہوتی ہے:
بنایا تو نے چندوں کی فراوانی سے کالج کو نئی تعلیم نے کھویا بزرگانہ مدارج کو
اکبر نے کالج کو نئی تعلیم کی علامت بنا کر اس کے بہت سے نقائص ظاہر کیے ہیں۔ مثلاً کالج کی تعمیر مذہبی عقائد کو مجروح کرر ہی ہے:
نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی زوائد پر گرا کیں چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر
طفلِ دل محوِ طلسمِ رنگِ کالج ہو گیا ذہن کو تپ آ گئی مذہب کو فالج ہو گیا
کالج میں مذہبی تعلیم اور نماز کا رسمی بندوبست بھی اکبر کے طنز کا نشانہ بنتا ہے:
کالج ہے دنیوی فوائد کے لیے قائم ہے یہ ایسے ہی مقاصد کے لیے
مسجد میں یہاں جو مولوی صاحب ہیں کپتان ہیں مذہبی قواعد کے لیے
اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کالج والوں کی نظر میں مذہب سے وابستگی تاریک خیالی اور کم عقلی کے مترادف ہو گئی۔ یہ قطعہ دیکھیے:
میں نے اکبر سے کہا آئیے حجرے میں مرے اس چٹائی پہ نمازیں پڑھیں حسبِ دستور
چھوڑیے آپ یہ ہنگامہ تعلیم ِ جدید کاٹ ہی دے گا کسی طرح خداوندِ غفور
بولا جھنجھلا کے کہ ہے سہل جہنم مجھ پر اس کی نسبت کہ میں کالج میں ہوں احمق مشہور
تصوف بھی اس نئی تعلیم کا شکار ہوتا ہے:
لیڈر کو دیکھتا ہوں تصوف پہ معترض کالج کے کیڑے پڑ گئے دلق فقیر میں
کالج کی تعلیم میں ایک بڑا عیب اکبر کے نزدیک یہ ہے کہ یہ طالب علم کی دماغ شوئی کرکے اس کے نسلی مزاج کو مسخ اور ذہنی پس منظر کو غائب کر دیتی ہے۔ ذیل کی رباعی اور شعر میں انہوں میں اس مضمون کو بہت عمدگی کے ساتھ ادا کیا ہے:
کالج میں کسی نے کل یہ نغمہ گایا قومی خصلت کا سر سے اٹھا سایہ
کہتے تھے ولد کو لوگ سِرّٗ لِاَبیہ سِرّٗ لِلماسٹر کا وقت اب آیا
رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم رنگِ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا
نئی تعلیم حاصل کر لینے کے بعد بھی ہندوستانیوں کو اچھی ملازمتیں نہیں ملتی ہیں اور قوم کو حقیقتاً اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے:
کالج میں دھوم مچ رہی ہے پاس پاس کی عہدوں سے آ رہی ہے صدا دور دور کی
(قطعہ)
باغوں میں تو بہار درختوں کی دیکھ لے کالج میں آ کے کانووکیشن کو دیکھیے
لیموے کاغذی تو بہت دیکھے آپ نے اب کاغذی ترقیِ نیشن کو دیکھیے
کالج کے متوازی اسکول ہے۔ اسکول کو اکبر نے زیادہ تر لڑکیوں کی نئی تعلیم کی علامت بنایا ہے جو انہیں کوئی دنیوی فائدہ پہنچانے کے بجائے حیا سے عاری اور خانگی فرائض سے غافل کر رہی ہے۔ بی نصیبن والا شعر اوپر گزر چکا، کچھ اور شعروں میں اس علامت کی کارفرمائی دیکھیے:
اپنی اسکولی بہو پر ناز ہے اُن کو بہت کمپ میں ناچے کسی دن اُن کی پوتی تو سہی
داخلِ اسکول ہو دختر تو کچھ حاصل کرے کیا نتیجہ صرف اگر بے باک ہو کر رہ گئی
شوہر افسردہ پڑے ہیں اور مرید آوارہ میں بیبیاں اسکول میں ہیں شیخ جی دربار میں
اُن سے بی بی نے فقط اسکول ہی کی بات کی یہ نہ بتلایا کہاں رکھی ہے روٹی رات کی
اور ذیل کا شعر ایک پوری روایت کے خاتمے کا نوحہ ہے، کچھ تمہید چاہتا ہے۔ واجد علی شاہ کی بیگم نواب بادشاہ محل عالم کا بنایا ہوا ایک گیت اودھ کے مسلم گھرانوں میں بہت شوق سے گایا جاتا تھا۔ اس گیت کا نام ”ہِل مِل“ رکھا گیا تھا اس لیے اس کا مکھڑا یہ ہے:
”ہل مل کے پنیا کو جائے ری نندیا“
اکبر کہتے ہیں:
اب نہ ہل مل ہے نہ اب پنیا کا وہ معمول ہے اک نندیا تھی سو وہ بھی داخلِ اسکول ہے
نئی تعلیم ہی کے سلسلے میں اکبر نے مغرب اور مشرق کی علمی ادبی شخصیتوں کو بھی علامت بنایا ہے۔ مغربی علوم اور ادب فیشن میں داخل ہو رہے ہیں اور مشرقی افکار مسترد کیے جا رہے ہیں اور اس میدان میں مغرب مشرق پر غالب آتا جا رہا ہے۔ اکبر خود اس غلبے کو قبول کرنے پر تیار نہیں لیکن اسے ایک حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور اس پر کڑھتے ہیں:
کتابِ دل مجھے کافی ہے اکبر درسِ حکمت کو میں اسپنسر سے مستغنی ہوں مجھ سے مل نہیں ملتا
غزالی و رومی کی بھلا کون سنے گا محفل میں چھڑا نغمہ اسپنسر و مِل ہے
ہماری محفلیں اب بھی لطیف اجزا سے مملو ہیں بُزاخفش تھے قبل اس کے اب اسپنسر کے ٹٹو ہیں
مِل سے کہہ دو کہ تجھ میں خامی ہے زندگی خود ہی اک غلامی ہے
بات بالکل صاف ہے پیچیدگی کچھ بھی نہیں میں ہوں سعدی کا بھتیجا، وہ ہیں ملٹن کے غلام
دلوں پہ مارتے جاتے ہیں چھاپا شیکسپئیر پڑھو گے حضرتِ سعدی کی بوستاں کب تک
ڈارون کو اس کے نظریۂ ارتقا کی وجہ سے اکبر نے مغرب کی پست خیالی کی علامت بنایا ہے۔ ان کا یہ قطعہ طنزیہ شاعری کے شاہکاروں میں شمار ہو سکتا ہے:
کہا منصور نے خدا ہوں میں ڈارون بولے بوزنہ ہوں میں
ہنس کے کہنے لگے مرے اک دوست ’فکرِ ہر کس بہ قدر ہمتِ اوست‘
اس علامت کے کچھ اور نمونے دیکھیے:
ڈارون صاحب یہ اچھا مسئلہ سمجھا گئے دعویٰ مخدومیت میں مست ہر لنگور ہے
نیست کس مصروفِ کارِ خود بہ قلبِ مطمئن یک فنا فی الآنر است و یک فنا فی الڈارون
(قطعہ)
جورِ فلک کا ماجرا آپ سے کیا بیاں کریں تفرقہ دیکھیے زرا ہم پہ یہ ہیں عجیب دن
عقل سپردِ ماسٹر، مال سپردِ آنجناب جاں سپردِ ڈاکٹر، روح سپردِ ڈارون
اور ڈارون ہی کے ذیل میں اکبر نے بندر، بوزنہ، لنگور کی بھی علامتیں بنائی ہیں:
تمہارے کھیت سے لے جاتے ہیں بندر چنے کیو نکر یہ بحث اچھی ہے اس سے حضرت آدم بنے کیونکر
سرافرازی ہو اونٹوں کی تو گردن کاٹیے ان کی اگر بندر کی بن آئے تو فیضِ ارتقا کہیے
گلہ میں نے کیا مجھ کو ترقی دی نہیں تو نے تو بولا ارتقا چپ رہیے بس، کیا آپ بندر ہیں؟
ان شعروں میں ڈارون اور بندر کے علاوہ کچھ مزید علامتیں دَر آئی ہیں یعنی آنر، ماسٹر، ڈاکٹر، اونٹ، ارتقا، اور ان شعروں کی پوری معنویت کو سمجھنے کے لیے ان مزید علامتوں سے واقفیت ضروری ہے۔ اکبرکے بہت سے شعروں نے کئی کئی علامتوں سے ترکیب پائی ہے، اور اکبر کی شاعری کا صحیح لطف اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ہم ان کی بنائی ہوئی علامتوں کے پورے نظام سے واقف ہوں۔ ان علامتوں کی جو الفبائی فہرست ہم نے پیش کی ہے اس کو دو بڑے خانوں-انگریزی اور ہندوستانی، یا مغربی اور مشرقی، یا جدید اور قدیم- میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پھر ان خانوں کے اندر مزید خانے بنائے جاسکتے ہیں اور ان میں بھی بعض کو ایک دوسرے کے مقابل رکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً انگریزی کے مقابل اردو، فارسی، عربی ہیں؛ صاحب کے مقابل نیٹو ہے؛ انجن، ریل، موٹر کے مقابل اونٹ، میانہ اور ٹٹو ہیں؛ اور اونٹ کے مقابل گائے ہے، یعنی اونٹ ایک طرف مشرقی وسائلِ سفر کی علامت ہے، دوسری طرف اسلام کی بھی علامت ہے۔ اکبر کے یہاں ان علامتوں کا استعمال دیکھیے:
(انگریزی، عربی)
اکبر مجھے شک نہیں تری تیزی میں اور تیرے کلام کی دل آویزی میں
شیطان عربی سے ہند میں ہے بے خوف لاحول کا ترجمہ کر انگریزی میں
حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھی
(صاحب، نیٹو)
مرزا غریب چپ ہیں، ان کی کتاب ردّی بدھو اکڑ رہے ہیں صاحب نے یہ کہا ہے
میری نصحیتوں کو سن کر وہ شوخ بولا نیٹو کی کیا سند ہے، صاحب کہیں تو مانوں
اکبر اس اندیشے میں رہتا ہے غرق کافر و نیٹو میں ہے تھوڑا ہی فرق
کافری کا ہے علاج ایمان سے نیٹویت تو ہے لپٹی جان سے
نیکوں کے حق میں کج ادائی نہ کرو اللہ کے ساتھ بے وفائی نہ کرو
نیٹو بھی رہو گے اور مرو گے بھی ضرور کہتا ہوں کہ دعوائے خدائی نہ کرو
نیٹویت پر کیا میں نے جو اظہارِ خیال سن کے صاحب نے کہا سچ ہے مگر ہم کیا کرے
صاحب کے سلسلے میں یہ بات ذہن میں رہنا چاہیے کہ اکبر کے یہاں یہ علامت خالص انگریزوں کے علاوہ اُن مغرب زدہ ہندوستانیوں کی بھی نمائندگی کرتی ہے جنہوں نے انگریزوں کے طور طریقے اختیار کر لیے ہیں، مثلاً:
رہ گئے نا آشنا، احباب غائب ہو گئے ہم نفس دو اک جو باقی تھے وہ صاحب ہو گئے
(اونٹ، ریل، انجن)
اے شیخ جب نکیل نہیں دستِ قوم میں پھر کیا خوشی جو اونٹ ترے ریل ہو گئے
یا الہٰی ہم غریبوں کا کہاں ہوگا نباہ بدگمان اُشتر سے ہیں جب حضرتِ انجن نواز
(اونٹ، گائے)
گائے کا تو کچھ ٹھکانا بھائی گاندھی نے کیا شیخ جی کا اونٹ کس کل بیٹھتا ہے دیکھیے
اونٹ نے گایوں کی ضد پر شیر کو ساجھی کیا پھر تو مینڈک سے بھی بدتر سب نے پایا اونٹ کو
سینگ غائب ہے تو پھر گردن اٹھانا ہے فضول حضرت اُشتر سے کہہ دو، یا لدیں یا ذبح ہوں
ہند میں شیخ رہ گیا افسوس اونٹ گنگا میں بہہ گیا افسوس
مغربی ذوق ہے اور وضع کی پابندی بھی اونٹ پر چڑھ کے تھیٹر کو چلے ہیں حضرت
شیخ صاحب چل بسے کالج کے لوگ ابھرے ہیں اب اونٹ رخصت ہو گئے پولو کے گھوڑے رہ گئے
(ٹٹو، موٹر)
کیا طعن شیخ جی کا ٹٹو جو اَڑ گیا ہے حضرت کا بھی تو موٹر آخر بگڑ گیا ہے
اوپر کے شعروں میں پانچ جگہ شیخ کی علامت بھی استعمال ہوئی ہے۔ یہ اکبر کی بنائی ہوئی سب سے اہم اور ان کے کلام میں سبب سے زیادہ استعمال ہونے والی علامت ہے اور یہ اکبر کی سب سے زیادہ کثیر المفہوم علامت بھی ہے۔ اس کے بعد کثرتِ استعمال کے لحاظ سے انجن اور پھر مس اور کالج کی علامتیں ہیں جو اکبر نے طرح طرح سے استعمال کی ہیں۔ کالج کی مثالیں پیش کی جا چکی ہیں۔ اب انجن، مس اور شیخ کی علامتوں کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان علامتوں کے ذیل میں اکبر کی دوسری علامتیں بھی آگئی ہیں۔ پہلے انجن اور اس کے متعلقات کو دیکھیے۔
اکبر کے یہاں انجن محض ایک ترقی یافتہ وسیلۂ سفر کی نہیں بلکہ اس پورے صنعتی، مشینی اور مادّی دور کی علامت ہے جو ہندوستان بلکہ مشرق پر مغرب کے تسلط کو مستحکم کر رہاہے اور مشرق کو مغرب کا محتاج بنا رہا ہے:
اس کا پسیجنا ہے اور اس کے ہیں بھپارے یورپ نے ایشیا کو انجن پہ رکھ لیا ہے
یہ مادی دور ذہنوں پر حاوی آ رہا ہے اور مذہب کی روحانیت کو اس انجنی دور کی مادیت سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے:
آگے انجن کے دین ہے کیا چیز بھینس کے آگے بین ہے کیا چیز
اذانوں سے سوا بیدار کن انجن کی سیٹی ہے اسی پر شیخ بے چارے نے چھاتی اپنی پیٹی ہے
تسبیح وہ اب کہاں وہ تہلیل کہاں قرآن مجید کی وہ ترتیل کہاں
کل کے آگے خیالِ فردا کس کو جب ریل ہے سامنے جو جبریل کہاں
مال گاڑی پہ بھروسا ہے جنہیں اے اکبر ان کو کیا غم ہے گناہوں کی گراں باری کا
انجن کی موجد قوم کو خطاب کرکے کہتے ہیں:
عیسیٰ نے دلِ روشن کو لیا اور تم نے فقط انجن کو لیا کہتے ہو کہ وہ تھے باپ سے خوش اور تم ہو خالی بھاپ سے خوش
اس ایجاد نے سفر کے مہماتی طلسم، منزل کی جستجو، راستے کی تلاش، بھٹک جانے کے اندیشوں کے ساتھ صراطِ مستقیم پا جانے کی لذت کو قصۂ پارینہ بنا دیا ہے اس لیے کہ یہ مشین نا آشنائے راہ مسافر کو بھی اپنے آپ مقررہ راستے پر چلاتی ہوئی منزل تک گھسیٹ لے جاتی ہے، اور اب مسافر کو کسی رہنمائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اکبر نے انجن اور ریل کی خود تراشیدہ علامتوں کے ساتھ رہنما کی روایتی علامت خضر کو ملا کر اس موضوع کو خوب خوب برتا ہے، مثلاً:
کہتے ہیں راہِ ترقی میں ہمارے نوجواں خضر کی ہم کو نہیں حاجت جہاں تک ریل ہے
ہو مبارک جستجوئے خضر انہیں ہم تو اب انجن کے پیچھے ہو لیے
پیچھے انجن کے بس اب ہو لیں مسلمان بھائی اب انہیں خضر کی اور راہ کی حاجت کیا ہے
بلکہ اکبر اپنے وقت سے آگے بڑھ کر انجن کو مشینوں کی پیدہ کردہ اس ماحولیاتی آلودگی کی علامت بنا دیتے ہیں جو اُن کے بعد آنے والے زمانے میں ساری دنیا کے لیے خطرہ بن گئی:
ابھی انجن گیا ہے اس طرف سے کہے دیتی ہے تاریکی ہوا کی
اور مشین فطرت کو کس طرح مسخ کر رہی ہے اسے بھی اکبر نے اسی علامت کے ذریعے بڑے پر سوز انداز میں بیان کیا ہے:
تنہائی و طاعت کا یہ دور ہے اب دشمن پیڑوں پہ نہ وہ طائر، صحرا پہ نہ وہ جوبن
جنگل کے جو تھے سائیں وہ ریل کے ہیں پائیں املی کی جگہ سگنل، قمری کی جگہ انجن
لیکن اکبر اس پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ قضا قدر کے بہت سے مسئلے اور سفرِ حیات کے بہت سے مرحلے ہیں جہاں مشینی وسائل بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اس مفہوم کو بھی اکبر نے اسی علامت کے ذریعے ادا کیا ہے،مثلاً:
اسے انجنوں کا خیال کیا جو ہو محو تاروں کی چال کا
وہ نظر زمین پہ کیوں جھکے کہ جو آسماں سے قریب ہے
برق و بخارات کا زور اے حکیم کب ہے پئے روح خطِ مستقیم
تار پہ جاتے نہیں اہلِ نظر ریل سے کھینچتا نہیں قلب سلیم
دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں مجھ کو اس کھیل کی ضرورت ہی نہیں
درپیش ہے منزلِ عدم اے اکبر اس راہ میں ریل کی ضرورت ہی نہیں
دل کا ٹکڑا تو رہا باقی پئے نذرِ خدا ریل میں کیا غم جو اکبر کھیت میرے تپ گئے
اس کو چکر ہی رہا اور یہ خدا تک پہنچا دلِ پرسوز جو ہاتھ آئے تو انجن کیسا
انجن کی علامت کے کچھ اور رُخ دیکھیے:
کمر بندھی نظر آتی ہے آب و آتش کی اُدھر سے نل اِدھر انجن کی آمد آمد ہے
شیخ سے چھوٹے، الجھے انجن میں اُس میں بک بک تھی اِس میں بھک بھک ہے
میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیا رہ گئے نغمے حدی خوانوں کے ایسی تان لی
انجن کو یہ آگ ہو مبارک انگریز کو بھاگ ہو مبارک
پڑے گنگناتے تھے لالہ نرنجن نہ آنکھوں میں انجن نہ دانتوں میں منجن
چھٹے ہم سے بالکل وہ اگلے طریقے کہاں کھینچ لے جائے گا ہم کو انجن
نغمۂ مرغِ سحر سے نہیں انجن کو غرض پیٹ انگاروں سے بھر دیجیے بھک بھک میں رہیں
زیرِ پاہے ریلوے اور سر پہ ہے انجن کی بھاپ اب یہ کہنا چاہیے نیچے بھی آپ اوپر بھی آپ
ہے مذاقِ حضرتِ واعظ صحیح اُن کی خدمت میں بس اتنی عرض ہے
اونٹ پر چڑھنا تو سنت ہے ضرور ریل پر چڑھنا مگر اب فرض ہے
ریلوے کو فائدہ جن سے ہے وہ لیڈر تو ہیں رعب میدانوں میں تھا جن سے وہ غازی اب کہاں
مشینوں نے کیا نیکوں کو رخصت کبوتر اُڑ گئے انجن کی پیں سے
مس کی علامت انگریز عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان بے حجاب اور بے باک عورتوں نے حسن و عشق کے مشرقی معیار بدل دئیے ہیں اور اہلِ ہند کی آنکھیں ان گوری چٹی بی بیوں کو دیکھ کر چکا چوند ہوئی جا رہی ہیں۔ اکبر کے یہاں اس علامت کے مختلف رُخ نمایاں ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ مسیں حسین ہونے کے باوجود مخصوص نسوانی کشش سے عاری اور خودفروش ہونے کے باوجود عشاق کے لیے بے فیض ہیں:
اس مسِ شوخ سے راحت نہ ملے گی مجھ کو عمر بھر خیر، وہ اک شب تو بھلا خوش رکھے
کچھ نہ ہاتھ آئے مگر عزت تو ہے ہاتھ اس مس سے ملانا چاہیے
مری تقریر کا اس مس پہ کچھ قابو نہیں چلتا جہاں بندوق چلتی ہے وہاں جادو نہیں چلتا
بوئے وفا نہیں ہے مسوں کے صبول میں بس رنگ دیکھ لیجیے گملے کے پھول میں
ان اصنامِ جدید کی دوستی زر و مال بھی چاہتی ہے اور بے چارے عاشق کو یہ دوستی نباہنے کے لیے طرح طرح کی مدوں میں خرچ کرنا اور قسم قسم کے بلوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے:
افعیِ رلفِ مس کا تو سودا بُرا نہیں پیچیدگی جو کچھ ہے فقط اس کے بل میں ہے
مسانِ خود فروش آخر فرستادند ایں بل ہا طلب کر دند چنداں زر کہ خوں افتاد در دلہا
نشاطِ طبع برہم شد شکست آں رنگ محفل ہا الایا ایہا الساقی ادر کاساً وناولہا
کہ عشق آساں نمودا ول ولے افتاد مشکل ہا
اور اس نئے طرزِ عاشقی کی تان بالآخر اس پر ٹوٹتی ہے کہ عاشق اپنا روایتی کردار چھ