نیر مسعود

نیر مسعود

مسکینوں کا احاطہ

    مسکینوں کا احاطہ

    گھر چھوڑتے وقت میری عمر بائیس چوبیس سال کی رہی ہوگی۔ گھر چھوڑنے کا سبب میرے باپ کا رویہ تھا۔ انہیں شکایت تھی کہ میری عادتیں بگڑ گئی ہیں ۔ اب سوچتا ہوں تو ان کی شکایت صحیح معلوم ہوتی ہے، اور وہ اپنے طور پر جو میری مصروفیتوں کا سراغ لگاتے رہتے تھے وہ بھی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت مجھ کو یہ سب ان کی بہت زیادتی نظر آتی تھی جس کی میں اپنی ماں سے شکایت کرتا رہتا تھا۔ مجھ کو سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ باپ کو جب بھی میری کسی ناشائستہ حرکت کا پتا چلتا تو وہ انجان بن کر مجھ سے پوچھ گچھ شروع کرتے اور چاہتے تھے کہ میں خود قبول کرلوں کہ میں نے کیا کیا ہے۔اس پوچھ گچھ میں بعض مرتبہ بہت دیر لگتی تھی، اس لیے کہ وہ بہت دور سے بات شروع کرتے تھے اور بیچ بیچ میں غیر متعلق باتیں بھی پوچھتے رہتے تھے۔ مجھ کو شروع ہی میں اندازہ ہو جاتا کہ ان کو پوری بات معلوم ہو چکی ہے، لیکن میں بھی ان کے سوالوں کا دوٹوک جواب نہیں دیتا تھا اور بیچ بیچ میں غیر متعلق باتیں چھیڑ دیتا تھا۔ اس پر وہ بہت الجھتے تھے۔ آخر ان کی جرحوں کا سامنا کرتے کرتے میرے اعصاب جواب دینے لگے۔ ایک دن وہ کسی بات پر پہلے ہی سے غصے میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے پاس ایک گم نام خط آیا جس میں میری کسی تازہ حرکت کا بہت تفصیل سے ذکر تھا۔ اس دن گرمی بھی بہت پڑ رہی تھی ۔ میں باہر سے جلا بھنا گھر میں داخل ہوا۔ انہوں نے مجھ کو دیکھتے ہی جرح شروع کر دی، پانی پینے کا بھی موقع نہیں دیا۔ اس دن میرا سر گھوم گیا۔ میں نے ان سے بد تمیزی سے بات کی اور یہاں تک کہہ دیا:

    ’’جب آپ کو معلوم ہے تو اس ناٹک کی کیا ضرورت ہے؟“

    ناٹک کے لفظ پر وہ غصے میں تھر تھرانے لگے۔ مجھ کو بہت کچھ کہا اور آخر میں کہا:

    ’’میری حق حلال کی کمائی تیری آوارگیوں کے لیے نہیں ہے۔ اس سے اچھا تھا کہ تو اس گھرمیں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا ۔ “

    میرا بھی دماغ خراب ہو گیا۔

    ’’اب تو پیدا ہو گیا ہوں‘‘، میں نے کہا ’’لیکن اس گھر کے لیے آج سے مرا جاتا ہوں۔“

    ’’ٹھیک ہے‘‘، وہ بولے ” ہمارے لیے آج سے تو مر گیا۔‘‘

    میری ماں سیدھی سادھی عورت تھیں ۔ میرے باپ سے ڈرتی بھی تھیں اور میرے ضدی مزاج سے بھی واقف تھیں ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے لیکن وہ کچھ بول نہ سکیں۔ میں نے اپنے دو ایک جوڑے ایک تھیلے میں رکھے اور اسی وقت گھر سے نکل گیا۔

    ڈیوڑھی میں اندھی نانی ہمیشہ کی طرح چٹائی پر بیٹھی چھالیہ کاٹ رہی تھیں، میری چاپ سن کر بولیں:

    ”اے بھیا، ابھی آئے اور ابھی چلے؟"

    میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور ڈیوڑھی سے باہر نکل آیا۔

    سیدھا مرا دمیاں کے اڈے پر پہنچا۔ وہ جوا کھلاتے تھے اور ان سے میر املنا جلنا میرے باپ کو خاص طور پر ناگوار ہوتا تھا۔ ان کے باپ میرے باپ کے دوست تھے۔ ان کو جوے کی لت تھی جس میں انہوں نے اپنی ساری دولت اڑا دی تھی۔ پھر انہوں نے قرض لے لے کر جوا کھیلنا شروع کر دیا اور جب قرض حد سے بڑھ گیا تو ایک دن افیون کھا کر خود کشی کر لی۔ وہ میرے باپ کے بھی مقروض تھے۔ باپ کو ان کے حرام موت مرنے کا بھی افسوس تھا، اپنی رقم ڈوبنے کا بھی ، اور سب سے زیادہ افسوس اس کا تھا کہ ان کی حلال کمائی جوے میں اڑادی گئی۔ انہیں یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ مرادمیاں جوے کا اڈا چلاتے ہیں، اس لیے وہ ان سے بہت چڑتے تھے۔ لیکن مراد میاں بڑے فخر سے کہتے تھے کہ ان کے ابا نے جو پیسہ جوا کھیل کر گنوایا ہے، وہ اب اسے جوا کھلا کر واپس لا رہے ہیں ۔ انہوں نے میرے باپ کا قرض بھی ادا کرنا چاہا تھا لیکن باپ نے جوے کی کمائی کا ایک پیسہ بھی لینا گوارا نہ کیا اور مراد میاں کو ان کے باپ سے بھی زیادہ برا سمجھنے لگے تھے۔

    میں اس وقت مراد میاں ہی سے مل کر گھر پہنچا تھا۔ اتنی جلدی میرا پھر ان کے پاس جانا ان کے سمجھنے کے لیے کافی تھا کہ کوئی بات ہوگئی ہے۔ ان کو میرے گھر کے حالات معلوم تھے، اس لیے فوراً پوچھا:

    ’’باپ سے لڑ بیٹھے ہو؟“

    میں نے جلدی جلدی ساری روداد سنادی۔ یہ بھی بتا دیا کہ میں نے گھر چھوڑ دیا ہے، کسی دوسرے شہر جارہا ہوں اور کبھی واپس نہیں آؤں گا۔

    ’’کبھی نہیں ؟‘‘ مراد میاں نے تعجب سے پوچھا، ’’اور جاؤ گے کہاں ؟“

    ’’کہیں بھی‘‘ ، میں نے کہا۔

    ’’کھاؤ گے کہاں سے؟“

    ’’کوئی بھی کام کرلوں گا ۔“

    ’’بھیک بھی نہیں ملے گی‘‘ ، انہوں نے کہا،’’ کام ملنا کوئی آسان ہے؟ اور تمہیں آتا کیا ہے۔“

    مجھے واقعی کچھ نہیں آتا تھا۔ تعلیم بھی معمولی سی تھی۔

    " کچھ نہیں تو مزدوری کروں گا۔"

    ’’مزدوری ؟‘‘ مراد میاں بولے ،” تین دن میں بول جاؤ گے۔“

    مجھے بھی خیال آیا کہ مزدوری کرنا بھیک مانگنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ آخر میں نے کہا:

    ’’مراد میاں، آپ ہی کچھ بتائیے ۔“

    ’’اچھا پہلے کچھ کھا پی لو‘‘، انہوں نے کہا، مجھے کو ایک گلاس پانی پلوایا، ہوٹل سے کچھ کھانے کو منگوایا۔ دیر کے بعد، جب میں پنکھے  کی ہوا میں سستار ہا تھا، وہ میرے پاس آکر بیٹھے۔ دو ایک ادھر اُدھر کی باتیں کیں ، پھر بولے:

    ’’ہماری راے یہ ہے میاں کہ اپنے گھر جاؤ۔ آج نہیں تو دو دن بعد سہی ۔ باپ کو ناراض کر کےپھل نہیں پاؤ گے۔“

    ’’وہ مجھے پیدا کر کے پچھتار ہے ہیں۔ کبھی مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کی ہے۔ جو بھی کرتا ہوں ان کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے۔ انہوں نے آج سے مجھے مرا ہوا سمجھ لیا ہے۔“

    ’’غصہ ہے، اتر جائے گا۔“

    ’’نہیں اترے گا‘‘ ، میں نے کہا ،’’اور میرا بھی غصہ نہیں اترے گا۔“

    ’’اچھا تو دو تین دن ہمارے یہاں رہو، اس کے بعد ...‘‘

    "مراد میاں ، اب میں اس شہر میں نہیں رہوں گا۔‘‘

    ’’ارے میاں نہ رہنا۔ لیکن ہمیں بھی تو کچھ وقت چاہیے۔ اتنے تمہارے لیے کوئی ترکیب نکالیں گے۔“

    تین چار دن تک میں اڈے کے پچھلے کمرے میں رہا۔ دوسرے دن میرے محلے کے کچھ آدمی میرا اتا پتا پوچھتے مراد میاں کے پاس پہنچے۔ میرا خیال تھا کہ انہیں میرے باپ نے یاماں نے بھیجا ہوگا۔ لیکن وہ میرے نکل جانے کی خبر سن کر خود ہی مجھے ڈھونڈھنے نکلے تھے، اور یہ خبر بھی ان کو اندھی نانی سے ملی تھی ۔ نانی ہماری کوئی نہیں تھیں لیکن گھر کے معاملات میں بہت دخل دیتی تھیں۔ یہ سن کر کہ نانی نے میرے چلے جانے کی خبر محلے میں مشہور کر دی ہے، مجھے اور بھی غصہ آیا۔

    میں ان لوگوں کے سامنے نہیں آیا اور مراد میاں نے میرے بارے میں لاعلمی ظاہر کر کے انہیں ٹال دیا۔ چوتھے روز وہ دن بھر غائب رہے۔ اڈے کے لڑکوں نے میرے لیے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا۔ رات ہوتے وقت مراد میاں کہیں سے تھکے ہارے واپس آئے ۔ آتے ہی بولے:

    ’’ تمہارا انتظام کر دیا ہے۔ ابھی کچھ دن یہیں رہو، پھر دوسرے شہر چلے جانا۔“

    ’’آپ کے یہاں رہوں گا تو چھپ کہاں سکوں گا ‘‘،میں نے کہا ”سب مجھے پوچھتے ہوئے آپ ہی کے یہاں آئیں گے ۔“

    ’’ارے بھائی ہم اپنے یہاں رہنے کو کب کہہ رہے ہیں۔ دوسری جگہ کا انتظام کیا ہے۔“

    ’’اور کھاؤں گا کہاں سے؟“

    مجھے خیال آیا کہ یہ سوال تو مراد میاں نے مجھ سے کیا تھا اور میں نے انہی سے اس کا جواب مانگا تھا۔ مرادمیاں نے جواب دیا ،” کھانے کا بھی انتظام ہو گیا ہے۔“

    ’’میں مفت خوری نہیں کروں گا ۔“

     ”جی ہاں۔ مجھے معلوم ہے۔ آج بھر اور میری حرام کی کمائی کھا لیجیے اور روانہ ہو جائیے۔ کل سے اپنی کمائی کھائیے گا۔ پیسے زیادہ نہیں ملیں گے ، بس دال روٹی کا خرچ چل جائے گا۔“

    ’’ مرادمیاں کچھ اور بتائیے۔ کہاں رہنا ہے، کیا کرنا ہوگا ؟“

    ’’اب اس کو کیا پوچھتے ہو ۔ گھر چھوڑ کے نکلے ہو۔“

    پھر انہوں نے اڈے کے ایک لڑکے کو بلایا۔ اس کو الگ لے جا کر دیر تک کچھ سمجھاتے رہے۔

    پھر لڑ کا باہر گیا اور ذرا دیر میں واپس آکر بولا :

    ’’ چلیے ۔ اکّہ  کھڑا ہے۔“

    مراد میاں نے مجھے گلے سے لگایا، کہنے لگے:

    ’’جاؤ ، خدا حافظ ۔ تمہاری خبر رکھوں گا۔ لیکن ملاقات نہیں ہو سکے گی۔“

    میں کپڑوں کا تھیلا لیے ہوئے باہر نکلا۔ ایک مریل گھوڑے اور خستہ حال کو چوان والا یکہ، جس پر موٹا چادرا بندھا ہوا تھا، دروازے پر کھڑا تھا۔ بغیر پائد ان کے یکے پر چڑھنے میں لڑکے نے میری مدد کی ، پھر پردہ ہر طرف سے برابر کیا اور کو چوان سے بولا :

    ’’بچپن کی محبت کے پاس پہنچا دینا۔ اگر ...‘‘

    ’’ جانتا ہوں۔ مراد میاں نے سمجھا دیا ہے۔‘‘ پھر اس نے گھوڑے کو دو تین چابک مارے اوریکہ ایک جھٹکا کھا کر آگے بڑھا۔

    میں کچھ دور تک بچپن کی محبت کے بارے میں سوچتارہا۔ عجب نام تھا۔ کیا وہ کوئی عورت تھی ؟ مراد میاں کی کوئی پرانی معشوقہ ؟ اب وہ کیسی ہوگی ، کہاں رہتی ہے، مجھے اس کے پاس کیوں بھیجا جارہا ہے؟ میرا دماغ الجھنے لگا، لیکن پھر یکے کے جھٹکوں اور گھوڑے کے گلے کی گھنٹیوں کی مسلسل آواز سے مجھے نیندسی آنے لگی۔ کبھی کبھی جب کو چوان بیڑی سلگا تا تو میری ناک میں گندھک کی لپٹ اور بیڑی کے دھوئیں کی تلخ بو آتی اور میں چونک پڑتا۔ میں پردے کے باہر جھانکنا چاہتا تھا لیکن اس خیال سے رک جاتا کہ کہیں کوئی مجھے پہچان نہ لے، حالاں کہ شہر میں بہت کم لوگ مجھے پہچانتے تھے۔ میں نے پردے کے اندر ہی سے اندازہ کرنے کی کوشش کی کہ میں شہر کے کن حصوں سے گزر رہا ہوں ۔ لیکن مجھے سمتوں کا اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ میں جس سمت کا خیال کرتا یکہ اسی سمت جا تا محسوس ہوتا۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ یکہ میرے گھر کی سمت مڑ رہا ہے۔ پھر مجھے نیند آنے لگی۔ یکہ اب جس راستے پر جارہا تھا اس پر بڑے بڑے کھانچے تھے۔ پے در پے جھٹکوں سے میرا بدن دکھنے لگا۔ لیکن آخر وہ راستہ ختم ہوا ۔ یکے والے سے ایک پتلی آواز نے کہا:

    ’’بس ، روک لو ۔‘‘

    یکہ رکا۔اسی آواز نے پردہ اٹھا کر مجھ سے کہا:

    ’’اتر آؤ۔‘‘

    میں اترا۔ یکے پر سفر کی عادت نہیں تھی ، بدن کے کئی حصے سن ہو گئے تھے۔ اترتے ہی لڑکھڑا گیا۔ یکے والے نے مجھے سنبھالا۔ رات اچھی خاصی آگئی تھی اور ہر طرف اندھیرا اندھیرا تھا۔ میں نے بولنے والے پر نظر ڈالی۔ اس کی صورت شکل کا پتا نہیں چلتا تھا لیکن اتنا معلوم ہوتا تھا کہ وہ چھوٹے قد کا کوئی مرد تھا، لیکن اس کی آواز عورتوں کی سی، بلکہ بچوں کی سی تھی ۔ میں نے اس کو سلام کیا جس کا جواب اس نے بڑے تپاک سے دیا۔ میرے پاس کچھ پیسے پڑے تھے، میں نے جیب میں ہاتھ ڈالتےہوئے یکے والے سے پوچھا:

    ’’ کتنے؟‘‘

    ’’کرایہ مراد میاں نے دے دیا ہے ‘‘، یکے والا پردے کا چادر اکھول کر تہہ کرتے ہوے بولا۔

    ’’ آؤ‘‘، اس آدمی نے کہا اور ایک طرف چل دیا۔ میں بھی اس کے پیچھے چلا۔ یکے والے نے آواز دی۔

    ’’یہ لیتے جائیے۔‘‘

    میں مڑا ۔ وہ تہہ کیا ہوا چادر امیری طرف بڑھا رہا تھا۔ میں نے کہا:

    ”یہ میرا نہیں ہے۔“

    ’’مراد میاں نے کہا تھا آپ ہی کو دے دوں۔“

    میں نے اپنے کپڑوں میں اوڑھنے کی کوئی چیز نہیں رکھی تھی ۔ چادرا مجھے غنیمت معلوم ہوا۔ اس آدمی نےبھی کہا:

    ’’ رکھ لو۔ سویرا ہوتے ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے۔“

    اس کے بعد وہ ایک دروازے میں داخل ہو گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی آواز آئی:

    ’’آجاؤ۔‘‘

    اندر مٹی کے تیل کا چراغ جل رہا تھا جس کے ایک طرف کچی دفتی اور رنگین کاغذوں کا ڈھیر تھا۔ اس کےقریب اینٹوں کا چولھا تھا۔

     چراغ کی روشنی میں اس کا چہرہ دیکھ کر میں نے اسے پہچان لیا۔ شہر کے بازاروں میں کئی بار میں نے اسے کسی کھلی ہوئی سواری پر کچی دفتی اور کاغذوں کے انبار، کبھی بانس کی تیلیوں کے گڈے، کپڑے کی پوٹلیاں اور پارچے لا دے دیکھا تھا۔ وہ پختہ عمر کا تھا لیکن اس کے داڑھی اور مونچھیں نہیں نکلی تھیں بلکہ بھنووں پر بھی بال نہیں تھے ، اسی لیے اس کی صورت مجھے یادرہ گئی تھی اور غالباً اسی لیے اس کو بچپن کی محبت کہا جاتا تھا۔

    اس نے بڑی پھرتی کے ساتھ کچے فرش پر کوئی چیز بچھائی۔ اس کے اوپر میرا، بلکہ مراد میاں کا، چادرا ڈال دیا۔ سرھانے میرے کپڑوں کا تھیلا رکھ دیا۔ پھر بولا :

    ’’کل پرسوں تک چار پائی آجائے گی ۔“

    ’’چارپائی کی ضرورت نہیں، فرش ہی پر سوؤں گا۔“

     ”اچھا میں کھا نا لاتا ہوں۔“

    ’’کھا نا مرادمیاں کے ساتھ کھالیا ہے۔“

    وہ کچھ دیر تک اپنے ٹھکانے کے بارے میں بتا تا رہا۔ میں نے اس کی باتوں کو توجہ سے نہیں سنا۔ میرے دماغ میں آئندہ کے خیال گھوم رہے تھے ۔ آخر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

    ’’تھک گئے ہو گے ۔ آرام کر لو۔ کل سویرے کام مل جائے گا۔“

    کیا مراد میاں اسے میرے بارے میں سب کچھ بتا چکے ہیں؟ اس کے جانے کے بعد میں نے سوچا لیکن جلد ہی میری آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔ کچھ دیر تک عجب بے سر پیر کی باتیں ذہن میں آتی رہیں اور اسی میں کسی وقت مجھے نیند آگئی۔

    دوسرے دن بہت سویرے میری آنکھ کھلی۔ بچپن کی محبت کو دیکھا کہ چولہے پر ایک بڑے برتن میں کچھ پکا رہا ہے۔ اتنے سویرے ناشتہ؟ میں نے سوچا اور پھر سوگیا۔ پھر جو آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا اور وہ میرے قریب کھڑا ہوا تھا۔ اس وقت میں نے اسے پاس سے دیکھا۔ اس کی عمر میرے اندازے سے زیادہ ، کوئی پچاس پچپن سال کی، معلوم ہوئی ، پھر بھی اس کے چہرے پر بچپن تھا۔

    ’’ خوب سوئے ؟‘‘ اس نے کہا اور کمرے کے دوسرے دروازے کی طرف اشارہ کیا، ’’جاؤ،ہاتھ منہ دھولو، کچھ کھا پی لو، پھر کام شروع ہو گا۔‘‘

     دروازے کے باہر صحن تھا۔ میں اس کے ساتھ صحن میں آیا۔ ایک طرف کنواں تھا۔ اس کے قریب غسل خانہ وغیرہ تھا۔ یہ صحن نہیں احاطہ تھا جو کئی مکانوں کے پچھواڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اسے مسکینوں کا احاطہ کہا جاتا ہے۔ میرے شہر میں احاطوں کے نام پر بہت سے محلے تھے اور میں قریب قریب سب سے واقف تھا لیکن مسکینوں کا احاطہ میں نے نہیں سنا تھا۔ اس احاطے میں کئی درخت تھے ۔ ایک درخت نیم کا بھی تھا۔ معلوم نہیں کتنا پرانا تھا۔ شاخوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ اسے کئی بار چھانٹا جا چکا ہے، لیکن اب بھی وہ احاطے کا سب سے بڑا درخت تھا۔ نیم کا درخت میرے مکان میں بھی لگا تھا اور میں ہی اس کی چھنٹائی کرتا تھا۔ احاطے کے اس درخت کو دیکھ کر مجھے گھر یاد آیا۔ میں نے اس کی ایک ٹہنی تو ڑ کر دتون بنائی اور اس سے دانت صاف کرنے لگا۔ بچپن کی محبت میرے قریب ہی کھڑا تھا ، کہنے لگا:

    ’’تم کو جو چیز منگا نا ہوا کرے، مجھ کو بتادینا۔ میں روز بازار جاتا ہوں۔“

    میں گھر سے صرف چند کپڑے اور کچھ نقدی لے کر نکلا تھا۔ اب دل ہی دل میں اپنی ضرورت کی چیزوں کی فہرست بنارہا تھا کہ احاطے کے ایک مکان سے آواز آئی:

    ’’بچپن ! چائے بن گئی ۔ انہیں بھی لیتے آؤ۔‘‘

    ’’ابھی آئے ، بڑی بیگم۔“

    ہم اُس مکان کے عقبی دروازے میں داخل ہوئے۔ بڑی بیگم ساٹھ سے اوپر کی عورت تھیں ۔ رنگ صاف اور چہرے پر ایک شان تھی، لیکن افلاس ان پر اور ان کے یہاں کی ہر چیز پر برس رہا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے بہت سی دعائیں دے ڈالیں۔ مجھے ایک فقرہ آج تک یاد ہے اس لیے کہ اس کے بعد جب بھی میں نے ان کو سلام کیا ، انہوں نے یہ فقرہ ضرور کہا:

    ’’اللہ اقبال بلند کرے۔“

    انہوں نے بغیر طشتری کی دو پیالیوں میں ہمیں چاے دی اور بچپن کی محبت سے باتیں کرنے لگیں۔ وہ اسے صرف بچپن کہہ رہی تھیں۔ احاطے کے بیشتر لوگوں میں اس کا یہی نام تھا۔ کوئی کوئی اسے محبت کے نام سے بھی پکارتا تھا۔ بچپن کی محبت اس کا نام ضرور پڑ گیا تھا لیکن یہ پورا نام بہت کم سننے میں آتا تھا۔

    ہم چائے پی چکے تو بچپن اٹھ کر باہر جانے لگا اور بولا :

    ”اچھا، ہم سامان لاتے ہیں۔ بڑی بیگم، انہیں کام سمجھا دینا۔“

    کچھ دیر میں اس نے دفتی اور کاغذوں کا انبار بڑی بیگم کے یہاں پہنچادیا۔ پھر وہ بڑا برتن سنبھال کر لایا جو میں نے اس کے یہاں چولہے پر دیکھا تھا۔

    ’’دیوالی قریب ہے‘‘، اس نے کہا، ’’ڈبوں کی مانگ بڑھی ہوئی ہے۔‘‘

    ’’ ہم دونوں مل کر بنالیں گے‘‘ ، بڑی بیگم نے کہا۔

    ’’لئی کم تو نہیں پڑے گی ؟‘‘ بچپن نے برتن کی طرف اشارہ کیا۔

    ’’نہیں ۔ ہو جائے گی ۔“

    ”سب اَدھ سیرے بنیں گے ‘‘، بچپن نے کہا اور باہر چلا گیا۔

    بڑی بیگم دیر تک مجھے کام سکھاتی رہیں۔ دفتی وک کا ٹنا، کا غذ کا ٹنا، اسے دفتی پر چپکا نا انہوں نے مجھے اچھی طرح بتادیا اور ہم نے ڈبے بنانا شروع کر دیے۔ بڑی بیگم کے کام کی رفتار مجھ سے بہت تیزتھی، لیکن میں نے بھی بڑی تعداد میں ڈبے بنا لیے۔

    تو مجھے یہ کام ملا ہے، میں نے سوچا اور مجھ کو مراد میاں کا کہنا یاد آیا کہ تم کو آتا کیا ہے۔ اب مجھے کم سے کم مٹھائی کے ڈبے بنانا آتا تھا۔ میں نے اس طرح کے ڈبے حلوائیوں کی دکانوں پر دیکھے تھے اور ان میں مٹھائی بھی لایا تھا لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں بھی  یہ ڈ بے بناؤں گا۔

     میں شام تک کام کرتا رہا۔ بڑی بیگم بیچ میں ایک بار اٹھیں اور کھانا پکا کر واپس آگئیں ۔ دوبارہ اٹھیں اور میرے سامنے کھا نالا کر رکھ دیا۔ مجھے جھجکتے دیکھ کر بولیں:

    ’’بچپن بھی ہمارے ہی یہاں کھاتا ہے۔ کھانے کا اور کام کا حساب بھی وہی رکھتا ہے۔ تمہارے پیسے بھی اُسی کے پاس جمع ہوتے رہیں گے۔ جب جی چاہے مانگ لینا، اچھا ؟‘‘ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا، نہ میں نے پوچھا، کہ ڈبوں کی بنوائی کی اجرت کیا ہوگی۔ مجھے اس کا اطمینان تھاکہ اب میں کم از کم اپنے خرچ بھر کا کمالیا کروں گا۔ اور میر اخرچ کھانے کے سوا تھا ہی کتنا۔

    کچھ دن میں ہر چیز کا ڈھب بیٹھ گیا اور میں دن بھر میں بڑی بیگم سے زیادہ ڈبے بنانے لگا۔ بچپن ہمیں دفتی  اور کاغذ لا دیتا ، لئی  پکاتا اور ہم دن بھر کام میں لگے رہتے ۔ مجھ کو احاطے سے باہر جانے کی ضرورت نہ پڑتی تھی اس لیے کہ بچپن میری ضرورت کی معمولی چیزیں لا دیا کرتا تھا۔

    میری وہ تمام سرگرمیاں جو میرے باپ کو نا پسند تھیں، ختم ہو چکی تھیں لیکن میں نے یقین کرلیا کہ اب بھی وہ مجھے چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ میں اب بھی اپنے گھر میں چوروں کی طرح داخل ہوا کروں گا ، اگر وہ کہیں گئے ہوئے ہوں گے تو بھی اس خیال سے خلجان میں مبتلا رہوں گا کہ معلوم نہیں کب وہ واپس آجائیں اور معلوم نہیں کس بات پر جواب طلبی اور جرح شروع کر دیں..... اس لیے اگر کبھی میرے دل میں گھر جانے کا خیال آتا بھی تو میں اسے دور کر دیتا، اور اس وقت احاطے والا نیم کادرخت بھی مجھے برا معلوم ہونے لگتا تھا۔

    سب سے الگ تھلگ رہنے کے باوجود بڑی بیگم کی بدولت مجھے احاطے کے رہنے والوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو گیا تھا۔ یہ زیادہ تر دست کار تھے یا دوسرے چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ ان میں عورتیں زیادہ تھیں۔ سلائی کڑھائی کا کام کرنے والیاں سب سے زیادہ تھیں۔ ایک چھوٹے سے خاندان کی عورتیں اور لڑکیاں کاغذ کے پھولوں کی بیلیں بناتی تھیں۔ ایک خاندان کے پاس تیلیاں آتی تھیں اور وہ لوگ ان کو چھیل کر پتنگوں کے کانپ ٹھڈے بناتے تھے۔ چھالیہ کترنے والیاں بھی کئی تھیں۔ اُن کے سروتے چلنے کی آواز مجھے اپنی ڈیوڑھی والی اندھی نانی کی یاد دلاتی تھی۔ ان سب کو بچپن کی محبت کام لا کر دیتا اور ان کا تیار کیا ہوا مال بازار پہنچا تا تھا۔ روز دن میں کئی کئی بار وہ سامان سے لدا پھندا احاطے میں آتا اور سامان سے لدا پھندا باہر جاتا تھا۔ اپنا محنتانہ وہ دکان داروں سے وصول کرتا تھا۔ احاطے کے مکینوں کی روزی کا بندوبست کرنا تنہا اسی کا کام تھا اور وہ احاطے کی سب سے اہم شخصیت تھا۔ دوسری اہم شخصیت بڑی بیگم کی تھی۔ میرا زیادہ وقت انہی کے ساتھ گزرتا تھا۔ احاطے والوں کے خانگی معاملات میں انہیں بہت دخل تھا، ان کے معمولی دو ا علاج ، تقریبوں کی دیکھ بھال وغیرہ بھی وہی سب سے بڑھ چڑھ کے کرتی تھیں۔ یہ سب ان کو بہت مانتے تھے اور سب ان کو بڑی بیگم کہتے تھے، بعض لڑکیاں تو انہیں بڑی بیگم خالہ کہتی تھیں ۔ لیکن مجھ کو یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ کس کی بیگم تھیں ۔

     مجھ کو احاطے والوں کے معاملات میں دلچسپی نہیں تھی، البتہ کبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ اس کا نام مسکینوں کا احاطہ کیوں پڑ گیا۔ وہاں کوئی مسکین نہیں تھا ، سب اپنی محنت کی کمائی کھاتے تھے۔

    ایک دن سویرے سویرے بچپن نے مجھ سے کہا:

    ’’ آج کام نہیں ہوگا ، پھر بتایا، بڑی بیگم کو ڈاکٹر کے یہاں لے جانا ہے۔“

    ’’کیوں ، انہیں کیا ہوا ہے؟‘‘

    ’’ ہمیں کچھ بھی نہیں ہوا ہے‘‘، احاطے سے بڑی بیگم کی آواز آئی ، ’’یہی بچپن پاگل بنائے ہوئے ہے۔‘‘

    ”پاگل ؟‘‘ بچپن نے کمرے کے اندر سے کہا،’’ کب سے سینے کے درد کو پال رہی ہو ۔ کل رات بھی ہائے ہائے کر رہی تھیں ۔ آج ڈاکٹر کے یہاں چلنا پڑے گا۔“

    ’’تو چل تو رہے ہیں ۔‘‘ اور وہ برقع اوڑھے ہوئے کمرے میں داخل ہوگئیں۔ میں نے اٹھ کرانہیں سلام کیا۔

    ’’ جیتے رہو، خوش رہو‘‘، انہوں نے کہا اور پھر وہی فقرہ دہرایا، ’’اللہ اقبال بلند کرے۔“

    میں نے پھر انہیں نہیں دیکھا۔ وہ ڈاکٹر کے یہاں سے سیدھی اسپتال میں داخل کر لی گئیں اور دو تین دن کے اندر ختم ہوگئیں۔ اسپتال سے ان کی میت غسل خانے لے جائی گئی اور غسل خانے ہی سے قبرستان پہنچادی گئی۔ احاطے کے بیشتر مردان کے دفن میں شریک ہوئے اور عورتیں ان کے مکان میں جمع ہوگئی تھیں ۔ لیکن میں اپنے کمرے ہی میں بند رہا۔

    بڑی بیگم نہیں رہیں تو مجھے احساس ہونے لگا کہ مسکینوں کے احاطے میں ابھی تک میں قریب قریب اجنبی ہوں۔ بڑی بیگم کے ہوتے ہوے مجھے کسی اور سے ملنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ مجھ سے خوب باتیں کرتی تھیں، احاطے کے زیادہ تر حالات بھی مجھے انہی سے معلوم ہوتے تھے۔ ان کو خاصگی اور تصرفی کھانوں کی بے شمار ترکیبیں معلوم تھیں، میں ان سے اکثر مختلف پکوانوں کے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ خاص طور پر کھانا کھاتے وقت ہم یہی باتیں کرتے تھے۔ بڑی بیگم اس طرح ہر پکوان اور اس کی تیاری کا ذکر کرتی تھیں کہ مجھ کو اپنے منہ میں اس کا ذائقہ محسوس ہونے لگتا تھا۔ پھر ان کا محبت آمیز لہجہ تھا، جسے یاد کر کے میں بے چین ہو جاتا تھا۔

    بچپن اب بھی میرے لیے کام لاتا تھا لیکن اب احاطے میں میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔ ایک دن سوتے وقت میں نے بچپن سے کہا:

    ’’مراد میاں نے تو پلٹ کر مجھے پوچھا ہی نہیں ۔“

    ’’بہت دن بعد یاد کیا‘‘، اس نے جواب دیا ،’’ نہیں، مجھ سے پوچھتے رہتے تھے۔ جب سےجیل گئے ہیں...‘‘

    ’’جیل؟“ میں نے پوچھا، ” مراد میاں کو جیل ہوگئی ؟“

    ’’ ہوئی تھی ، مگر جلدی ہی چھوٹ گئے۔ اس کے بعد کہیں باہر چلے گئے ہیں۔ یا شاید آگئے ہوں۔ میں بھی کب سے ان کی طرف نہیں گیا ہوں ، فرصت ہی نہیں ملی۔‘‘

    ’’مجھ کو ان سے ملنا ہے۔ جب سے یہاں آیا ہوں ...‘‘

    ’’ تم نے بھی تو کمال کر دیا۔ سولہ برسیں ہو گئیں، احاطے سے باہر ہی نہیں نکلے ۔“

    سولہ برس؟ تو میں نے احاطے ہی میں سولہ برس گزار دیے ہیں؟ میں نے سوچا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا، لیکن اب مجھے خیال آیا کہ احاطے کے کئی لڑکے جو شروع میں اپنی پھٹی ہوئی پتنگیں جوڑنے کے لیے بڑی بیگم سے لئی مانگنے آتے تھے ، اب ان کی شادیاں ہوگئی ہیں، بلکہ ان میں سے بعض کے بچے بھی ہو چکے ہیں۔

    میں نے بچپن کی محبت کو غور سے دیکھا۔ اس کا چہرہ اب بھی بچوں کا ساتھا لیکن اب وہ نگاہ کمزور ہو جانے کی شکایت کرنے لگا تھا۔

    وہ بھی مجھ کوغور سے دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے پوچھا:

    ’’احاطے سے دل بھر گیا ؟"

    ”ہاں، بڑی بیگم کے بعد ... دو تین دن میں چلا جاؤں گا ۔“

    وہ کچھ اداس ہو کر چپ چاپ لیٹا رہا، پھر کروٹ بدل کر سو گیا۔ میں دیر تک جاگتا رہا۔ بار بار مجھے اپنے گھر کا خیال آرہا تھا، لیکن اب مجھے وہاں کی کوئی چیز یاد نہیں تھی۔ گھر میں ٹکتا ہی نہیں تھا۔ ماں اتنی بے زبان تھیں کہ ان کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔ باپ کا چہرہ جب بھی خیال میں آتا ان کی تیوریاں چڑھی ہوئی نظر آتیں ، اور اب ، سولہ برس بعد بھی، مجھے گھر سے بیزاری محسوس ہو رہی تھی۔ نیم کا درخت البتہ مجھ کو اچھی طرح یاد تھا اور اب بھی مجھے اس سے اُنس محسوس ہوتا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میں بچپن میں اس پر بہت چڑھا کرتا تھا اور کئی بار اس پر سے گرا بھی تھا۔ کبھی کبھی میں اس کی گھنی شاخوں میں چھپ کر بیٹھا رہتا تھا اور میرے باپ، جو اس وقت مجھ سے بہت محبت کرتے تھے ، مجھ کو تلاش کرتے پھرتےتھے۔

    سویرے اٹھ کر میں نے بچپن کی محبت کو بتا دیا:

    ’’پرسوں میں چلا جاؤں گا۔‘‘

    ’’ کہاں گھر ؟“ اس نے پوچھا۔

    شاید میں نے جواب دیا لیکن پہلے مرادمیاں کا پتالگاؤں گا ۔“

    وہ کسی سوچ میں پڑ گیا ، پھر بولا :

    ’’اچھا ٹھیک ہے۔ میں سواری لے آؤں گا ۔ اپنا سامان اکٹھا کر لینا ۔“

    ’’سامان کیا ہے۔ بس بستر ہے۔ باقی چیز میں ایک تھیلے میں آجائیں گی۔“

    دوسرے دن بچپن نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور ایک رقم جو میری توقع سے بہت زیادہ تھی ،مجھے دے کر بولا :

    ’’یہ تمہاری کمائی ہے۔ اس میں سے جو خرچہ تم پر ہوا ہے وہ منہا کرلیا ہے۔“

    میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں ۔ چپ چاپ رقم لے کر رکھ لی۔

     صبح صبح اس نے مجھے جگا دیا۔ سواری تیار تھی۔ مجھے کسی سے رخصت نہیں ہونا تھا۔ سامان اٹھا کر باہر نکل آیا ۔ بچپن خاموش کھڑا تھا۔ میں نے اس سے کہا:

    ’’ بڑی بیگم اور تم بہت یاد آؤ گے۔‘‘

     وہ پھر بھی خاموش کھڑا رہا۔ میں نے کہا:

    ’’ تم سے ملنے آیا کروں گا ۔“

    اب بھی وہ کچھ نہیں بولا ، اور میں وہاں سے رخصت ہوا۔

    اس بار میں پردے کے اندر نہیں بیٹھا تھا۔ لیکن وہ علاقہ میراد دیکھا ہوانہیں تھا۔ بہت دیر تک اجنبی راستوں پر چلنے کے بعد میری پہچانی ہوئی سڑکیں ملنا شروع ہوئیں ، اور آخر میں مراد میاں کےمحلے میں پہنچ گیا۔

    ان کے اڈے کا کہیں پتا نہ تھا۔ لیکن آس پاس رہنے والوں نے مجھے پہچان لیا۔ ان میں سے ایک نے کہا:

    ’’بہت دن بعد آئے ۔‘‘

    ’’سولہ برس کے بعد‘‘،  میں نے کہا، ” مراد میاں کہاں ملیں گے ؟“

    اس نے پاس کھڑے ہوئے ایک لڑکے سے کہا:

    ’’ان کو حاجی مراد کے یہاں پہنچا دو‘‘، پھر مجھ سے کہا، ” پاس ہی مکان بنوایا ہے۔“

    دو تین مکان چھوڑ کر مراد میاں کا مکان تھا۔ اچھا بنا ہوا تھا۔ مراد میاں باہر ہی کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اب ان کے چہرے پر داڑھی تھی لیکن عمر میں بہت فرق نہیں معلوم ہوتا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کمرے سے باہر نکل آئے ، بڑی خوشی سے گلے ملے، مجھے کمرے کے اندر لے گئے اوربولے:

    ’’ارے میاں تم تو احاطے ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ ہم کو بھی پلٹ کر نہیں پوچھا۔ کب آئے؟“

    ’’ابھی آرہا ہوں۔“

    انہوں نے کسی کو آواز دے کر ناشتہ منگوایا۔ اپنا حال بتایا کہ جیل جانے کے بعد انہوں نے اڈا ختم کر دیا اور حج کر آئے ، پھر ایک اور حج کیا، پھر ایک اور ۔ اب اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ مجھ کو پوچھاکہ کیا کرتے رہے۔ میرے پاس ایک ہی جواب تھا۔

    ’’ڈبے بنا تا رہا۔“

    میں نے ان سے اپنے گھر کا حال نہیں پوچھا، لیکن ان کی باتوں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرے ماں باپ مرچکے ہیں۔ پھر انہیں بتایا کہ احاطے کی سکونت ترک کر کے آرہا ہوں ۔ انہوں نےپوچھا:

    ’’اب کیا ارادہ ہے؟‘‘

    ’’جو آپ کہیں‘‘،  میں نے کہا،’’میرے پاس سولہ برس کی کمائی ہے، کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرا دیجیے۔“

    ” کتنے پیسے ہیں؟“

    میں نے بچپن کی محبت کی دی ہوئی رقم بتادی۔ بولے:

    ’’کم ہیں۔ لیکن ... اچھا، ابھی دو چار دن ہمارے ساتھ رہو۔ پھر چلے جانا ۔“

    میں دو چار دن ان کے ساتھ رہا۔ آخری دن وہ میرے پاس آکر بیٹھے اور کہنے لگے:

    ’’ تمہارے ابا سے میرے ابا نے جور قمیں قرض لی تھیں، ان کا پورا حساب میرے پاس ہے۔ میں نے حج سے آکر تمہارے ابا سے کہا بھی کہ اب میرے پاس حرام کمائی کا ایک پیسہ بھی نہیں اور میں ان کا حساب چکانا چاہتا ہوں مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور مجھے اور میرے ابا کو برا بھلا کہنے لگے۔‘‘

     وہ اس طرح خاموش ہو گئے جیسے کچھ یاد کر کے کڑھ رہے ہوں۔ مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ میرے باپ نے ان سے کس طرح بات کی ہوگی ، اس لیے میں خاموش رہا۔ کچھ دیر بعد وہ بولے:

    ’’وہ پیسے میرے سینے پر بوجھ ہیں ۔ اب تم کو دیتا ہوں۔ تمہی ان کے وارث ہو ۔“

    رقم بہت بڑی تھی۔ اپنے باپ کا غصہ جو انہیں مراد میاں کے باپ پر بار بار آتا تھا، اب میری سمجھ میں آنے لگا۔ پھر مراد میاں نے کہا:

    ’’اب تم گھر جاؤ۔ اس کی حالت درست کرو۔ پھر میں کوئی کام بتاؤں گا۔“

    میرا گھر جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن اپنا سامان اٹھایا اور روانہ ہوگیا۔

    مکان کے سامنے والی گلی ویسی ہی تھی جیسی سولہ برس پہلے تھی ۔ میں اپنی ڈیوڑھی کے قریب پہنچے کر رکا۔ ڈیوڑھی سے چھالیہ کاٹنے کی آواز آرہی تھی جو میں بچپن سے سنتا آرہا تھا۔

    اندھی نانی؟ میں نے سوچا، پھر مجھے خیال آیا کہ میرے کان بج رہے ہیں، اور میں ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا۔ اندھی نانی واقعی بیٹھی چھالیہ کاٹ رہی تھیں۔ چٹائی بھی وہی سی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی، اور اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انہوں میرے پیروں کی چاپ فوراً پہچان لی اور ڈیوڑھی کے اندرونی دروازے کی طرف منہ کر کے آواز لگائی :

    ’’بہو، بھیا آگئے ۔ ان کے لیے جو سوٹر ووٹر تم نے بنائے ہیں نکالو، ان کی پسند کے کھانے پکاؤ۔"

    میں حیران کھڑا تھا۔ آخر میں نے پوچھا:

    ’’اماں زندہ ہیں؟‘‘

    اندھی نانی مجھ سے بھی زیادہ حیران ہو کر بولیں:

    ”اے بھیا، اتنے دن میں بین کرنا بھی بھول گئے ؟“

    میں نے کبھی بین نہیں کیے تھے، لیکن مجھے یاد آیا کہ میں نے بہت سی عورتیں کے بین سنے تھےجن میں مرے ہووں کو اس طرح خطاب کیا جاتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔

    اندھی نانی کچھ دیر تک بین کرتی رہیں۔ آخر میں نے کہا:

    ’’میں اندر جا رہا ہوں ۔‘‘

    اندرونی دروازے میں قفل پڑا ہوا تھا۔ میں نانی کی طرف پلٹا۔ وہ اتنی دیر میں اپنے کمر بندسے چابی کھول چکی تھی ، بولیں :

    ”بھیا چابی تو لے لو۔“

    میں نے قفل کھولا اور گھر کے اندر داخل ہو گیا۔

    سب کچھ الٹ پلٹ تھا۔ نیم کا درخت البتہ ویسا کا ویسا ہی تھا بلکہ پہلے سے گھنا ہو گیا تھا۔ درخت کے سوا مجھے گھر کی کسی چیز کو دیکھ کر کچھ یاد نہیں آیا۔ دیر تک نیم کے نیچے کھڑا رہا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ دل بھی نہیں دھڑک رہا تھا۔ ماں باپ کی کمی ضرور محسوس ہوئی لیکن وہ بھی زیادہ دیر تک نہیں۔

    میں اسی دن مکان کی درستی میں لگ گیا۔

    اب میں اپنا کاروبار کرتا ہوں جو مراد میاں کی مدد سے بڑھ چلا ہے۔ شادی بھی کر لی ہے۔ کئی بارمسکینوں کے احاطے جانے کا ارادہ بھی کر چکا ہوں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔ کسی سےپوچھتے شرم آتی ہے۔

     بچپن کی محبت کو اب بھی بازاروں میں دیکھتا ہوں کہ کسی کھلی ہوئی سواری پر سامان لا دے لیے جا رہا ہے۔ سامان وہی ہوتا ہے جو وہ ہمیشہ لاتا لے جاتا رہا ہے، البتہ دفتی اور کا غذ اس میں نہیں ہوتے۔ اس کی نگاہ شاید بہت کم زور ہوگئی ہے، پھر بھی میں ہاتھ اٹھا کر اس کا حال چال دریافت کر لیتا ہوں جس کا ، ظاہر ہے، مجھے کوئی جواب نہیں ملتا۔