زعفر جن (میر عاشق کا شاہکار مرثیہ)
1
جنات ہماری تہذیبی روایت کا اہم عنصر ہیں۔ ان روایتوں کے مطابق خدا کی یہ مخلوق جو ہبوطِ آدم سے پہلے زمین پر متصرف تھی، اب بھی موجود ہے۔ یہ ہر ایک کو نظر نہیں آتے لیکن گاہ گاہ دکھائی بھی دے جاتے ہیں، کبھی انسان کی شکل میں، کبھی کسی اور جاندار کی صورت میں۔ ان میں اچھے بُرے دونوں طرح کے جن ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی زمانوں تک ہمارے یہاں جناتوں کا خاصا عمل دخل تھا۔ اکثر گھروں کا کوئی نہ کوئی حصہ کسی جنات کے تصرف میں رہتا تھا۔ بہت سے عاملوں اور روحانیوں کے بارے میں بھی مشہور تھا کہ جنات ان سے پڑھنے یا مسئلے مسائل پوچھنے آتے ہیں۔ جناتوں سے ادیبوں شاعروں کا بھی سابقہ پڑتا تھا۔ مثلاً شیخ ناسخ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک جن سے کشتی لڑتے تھے۔
واقعۂ کربلا سے جنوں کا خاص ربط ہے۔ ملک میں کئی جناتوں کی مسجدیں ہیں جہاں سے راتوں کو ماتم کی آوازیں آتی ہیں۔ بعض کربلاؤں اور عزاخانوں میں بھی جناتوں کا نوحہ و ماتم سنا جاتا ہے اور ایسے بھی کئی لوگ گزرے ہیں جو زعفر نامی جن سے اپنی ملاقات کا حال بتاتے تھے کہ وہ آج بھی امام حسینؑ کا ماتم دار ہے۔
حضرت علیؑ نے جب جنوں کے لشکر کو شکست دی تو جن اجنّہ نے اسلام قبول کرلیا، ان میں سے راحیل کو آپ نے جنوں کا بادشاہ مقرر کر دیا۔ راحیل کے بعد اس کا بیٹا زعفر جنوں کا بادشاہ ہوا۔ کربلا کا واقعہ اسی زعفر جن کے زمانے میں پیش آیا۔
روایت کے مطابق ایک دن زعفر جن اپنے دربار میں جشن منا رہا تھا کہ اسے خبر ملی کہ کربلا میں جنگ ہو رہی ہے اور امام حسینؑ دشمنوں میں گھر گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی زعفر جن جشن کو موقوف کرکے جناتوں کا لشکر لیے ہوئے کربلا پہنچا اور امام حسینؑ سے درخواست کی کہ اسے جنگ کی اجازت دے دیں تاکہ وہ سارے دشمنوں کو فنا کر دے۔ لیکن امامؑ نے اس کے اصرار کے باوجود مدد قبول نہیں کی۔ زعفر کو دعا دی اور کہا کہ میرا ماتم کیا کرنا۔ زعفر روتا پیٹتا ہی وطن واپس آیا ۔ اس کی ماں کو یہ حال معلوم ہوا تو اس نے زعفر کو پھر کربلا بھیجا لیکن اب زعفر اس وقت کربلا پہنچا جب امام حسینؑ شہید ہو چکے تھے۔
2
زعفر جن کا حال اردو کے کئی مرثیہ نگاروں نے نظم کیا ہے۔ مثلاً:
۱۔ مرزا دبیر: ”اے مومنو شبیرؑ دو عالم کے شرف ہیں۔“
زعفر اپنے لشکر کے ساتھ کربلا میں پہنچتا ہے۔ حضرت زینبؑ اسے دشمنوں کی کوئی نئی فوج سمجھ کر گھبرا جاتی ہیں مگر امام حسینؑ ان کو تسلی دیتے ہیں:
شہہ نے کہا گھبراؤ نہ اے خواہرِ غم خوار ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ہو لشکرِ کفار
ہر ایک کا نعرہ ہے کہ یا حیدرؑ کرار اغلب ہے کہ یہ لوگ ہوں سب مومن و دیندار
شان ان کی نہیں ملتی ہے طرزِ بشری سے
کیا اس کا عجب ہوئیں جو یہ جن و پری سے
اس فوجِ ظفر موج کی شوکت کو جو دیکھا لشکر میں لعینوں کے تلاطم ہوا برپا
سردار عجب شکل سے اس فوج کا نکلا سر ننگے، گریبان دریدہ کیے اپنا
رونے میں یہ آواز تھی اس اہلِ وفا کی
زندہ ہیں کہ رحلت ہوئی شاہِ شہدا کی
اور امام کو بتاتا ہے کہ ”زعفر ہوں میں اک بندۂ ناچیز تمہارا/اس وقت سنا حال جو حضرت کا قضارا/امداد کو حاضر ہوا لشکر لیے سارا“
گر دیر میں آتا تو تمہیں کاہے کو پاتا کس کے قدمِ پاک میں آنکھوں سے لگاتا
حضرت نے کہا اس سے بھی پہلے اگر آتا بھائی مری تقدیر کا لکھا نہ مٹاتا
سب مر گئے جینے سے دل اب سیر ہے زعفر
مرنے میں ہمارے نہیں کچھ دیر ہے زعفر
اس کے بعد وہ زعفر کو اپنی جنگ دکھاتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں، ”بس جا تو کہ اب سر رہِ خالق میں کٹائیں“
سر پیٹ کے زعفر نے تو لی راہ وطن کی یاں ضعف سے بند آنکھیں ہوئیں شاہِ زمن کی
شہادت حسینؑ کے بیان پر مرثیہ ختم ہوتا ہے۔
۲۔میر انیس: ”جب باغِ حسینی پہ خزاں آگئی دن میں“
امام حسین زخموں سے چور ہو چکے ہیں۔ اس وقت زعفر پہنچتا ہے:
ناگاہ بیاباں میں اٹھی دور سے کچھ گرد جس گرد سے صحرائے پُرآشوب ہوا زرد
خورشید نہ ہنگامِ تمازت نظر آیا
مینائے فلک شیشۂ ساعت نظر آیا
مقتل کے قریب آ کے پھٹی گرد جو اک بار دیکھا شہِ دیں نے کہ چلے آتے ہیں اسوار
وہ ساز وہ گھوڑے وہ چمکتے ہوئے ہتھیار کثرت ہے پر ایسی کہ شمار ان کا ہے دشوار
کچھ فوج زمیں پر ہے تو کچھ فوج ہوا پر
لشکر ہے کہ دریا کی ہر اک موجِ ہوا پر
جب فوج سے وہ دشتِ ستم بھر گیا سارا تھا گھوڑوں کی کثرت سے نظر کا نہ گزارا
بس روک لو باگوں کو، یہ سردار پکارا آگے نہ بڑھو اب، یہی آقا ہے تمہارا
مقتل ہے یہی، وہ شہِ ذی جاہ کھڑے ہیں
ٹکڑے یہیں زہراؑ کے کلیجے کے پڑے ہیں
سب تھم گئے میداں میں پرا باندھ کے اسوار شبدیزِ فلک سیر سے اترا وہ نکوکار
مجرے کو غلاموں کی طرح خم ہوا اک بار آنکھوں سے لگائے قدمِ سیدِ ابرار
عاشق اسے سمجھے جو امامِ اُمم اپنا
مولا نے رکھا پشت پہ دستِ کرم اپنا
یوں کہنے لگا جوڑ کے ہاتھوں کو وہ ذی جاہ میں کون ہوں پہچانا مجھے آپ نے یا شاہ
حضرت نے کہا ضعفِ بصارت ہے پہ واللہ تجھ سے بھی ترے جد و پدر سے بھی ہوں آگاہ
جو دوست ہمارا ہے اسے جانتے ہیں ہم
تو زعفرِ جن ہے تجھے پہچانتے ہیں ہم
زعفر امام کی طرف جنگ کرنے کی درخواست کرتا ہے مگر امام قبول نہیں کرتے۔ پھر زعفر کو اپنی جنگ دکھاتے ہیں۔ جناب زینبؑ زعفر کو دعائیں دیتی ہیں:
اس وقت اگر تو نہ مدد کرنے کو آتا اے ہے مرے ماں جائے کو پھر کون بچاتا
میں دیکھتی اور سبطِ نبیؑ برچھیاں کھاتا ہوتی جو زرا دیر تو حضرت کو نہ پاتا
زانوے لعیں سینۂ صد چاک پہ ہوتا
سر نیزے پہ ہوتا تو بدن خاک پہ ہوتا
یہ سنتے ہی سر پیٹ کے رونے لگا زعفر کہتا تھا میں اس صبر کے صدقے مرے سرور
کچھ کام نہ مجھ سے لیا اے سبطِ پیمبرؑ حضرت نے کہا اب ترا پھر جانا ہے بہتر
کام آئے گا مجھ بے کس و بے آس پہ رونا
جب پیجیو پانی تو مری پیاس پہ رونا
زعفر گھر پہنچتا ہے اور ماں کو بتاتا ہے:
گھیرا ہے ستمگاروں نے فرزندِ علیؑ کو چھوڑ آیا ہوں تیغوں کے تلے سبطِ نبی کو
ماں اس کو پھر کربلا بھیجتی ہے، لیکن:
یاں ہو چکا تھا قتل یداللہ کا جایا اس وقت وہ پہنچا کہ تڑپتا ہوا پایا
سر کاٹ کے نیزے پہ چڑھاتے تھے ستمگر سیدانیوں کو لوٹنے جاتے تھے ستمگر
۳۔ میر مونس: ”شبیرؑ کی رخصت کا تلاطم ہے حرم میں“
مونس نے پہلے ایک جن کو کربلا کی طرف سے گزرتے دکھایا ہے:
جب سائے میں تلواروں کے تھا خلق کا محسن لکھا ہے کہ باقی تھا فقط چار گھڑی دن
بالائے ہوا جاتا تھا اس راہ سے اک جن اس سانحے کی کچھ نہ خبر تھی اسے لیکن
سادات کا مقتل جو یکایک نظر آیا
روتا ہوا جلدی وہ زمیں پر اتر آیا
اس نے کربلا کا منظر دیکھا کہ دشمنوں کے نرغے میں تنہا تشنہ لب حسینؑ ہیں اور ان کے گلے میں کئی تیر پیوست ہیں۔ اس نے یزیدیوں سے دریافت کیا کہ یہ کون مظلوم ہے۔ جب حقیقتِ حال معلوم ہوئی تو روتا ہوا زعفر کے پاس پہنچا:
شادی تھی کچھ اس روز کہ تھا جشن میں زعفر تھی بزمِ طرب لٹتے تھے لعل و زر و گوہر
دربار میں پہنچا یہ اسی طرح کھلے سر بولا وہ، ارے خیر ہے کیا بن گئی تجھ پر
مارا ہے کسی نے تجھے یا لوٹ لیا ہے
کیوں آیا ہے فریادیوں کی شکل یہ کیا ہے
جن اس کو ماجرا سناتا ہے۔ زعفر اپنا لشکر لے کر کربلا پہنچتا ہے اور امامِ حسین سے ملتا ہے۔ امام اس سے اپنی مصیبت بیان کرتے ہیں۔ زعفر بہت اصرار کرتا ہے کہ اسے اجازت دی جائے تو فوجِ مخالف کو تہس نہس کر دے، لیکن امام مدد قبول نہیں کرتے اور آخر میں کہتے ہیں:
پایا نہ اگر اجرِ شہادت تو نہ کر غم موجود ہیں محشر میں شفاعت کو تری ہم
جب ماہِ عزا آئے تو کیجو مرا ماتم اور اشک فشاں رہیو مری پیاس سے ہر دم
راحت کی نہ کچھ فکر نہ آرام کی رکھنا
واں جا کے سبیلیں تو مرے نام کی رکھنا
منہ سوئے نجف کرکے یوں زعفر نے پکارا مجبور ہے آقا یہ ہوا خواہ تمہارا
آیا تھا فدا ہونے مگر کچھ نہیں چارا رخصت کیے دیتا ہے مجھے آپ کا پیارا
حضرت پہ ہویدا ہے کہ غم کھاتا ہوں مولا
میں خاک اُڑاتا ہوا اب جاتا ہوں مولا
بے تابی پہ اس دوست کی رونے لگے سرور ناچار قدم چوم کے رخصت ہوا زعفر
اور امام حسینؑ کی شہادت ہو گئی۔
3
میر حسین میرزا عشق نے اپنے مرثیے ”عروج اے مرے پروردگار دے مجھ کو“ میں ان سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ زعفر جن کی روایت نظم کی ہے۔ یہ مرثیہ ترتیب واقعات، بیانیے، زبان اور مکالموں کے لحاظ سے اردو کے بہترین مرثیوں میں سے ایک، اور زعفر جن کے حال میں اردو کا بہترین مرثیہ ہے۔ خصوصاً اس کی فضا کچھ ایسی ہے کہ کم مرثیے اس کے مقابل ٹھہرتے ہیں۔
اس مرثیے کی انفرادی خصوصیت اس میں راویوں کا پیچیدہ نظام ہے۔ میر عشق نے آٹھ راویوں کی مدد سے مرثیے کی استخواں بندی کی ہے۔ یہ راوی حسبِ ذیل ہیں:
پہلا راوی: مرثیہ نگار (میر عشق): مناجات، کربلا کا منظر۔
دوسرا راوی: ایک عالمِ متبحر جو بتاتے ہیں کہ انہیں خراسان کے کتب خانہ امام رضاؑ میں ایک کتاب ملی جس میں زعفر جن کا حال لکھا تھا۔
تیسرا راوی: اس کتاب کا مصنف جو بتاتا ہے کہ ”محبّ حسین کا تھا کوئی عاقبت اندیش/ نئے طریق سے ناقل ہے وہ صداقت کیش“۔
چوتھا راوی: وہ محبِ حسین اپنے سمندری سفر اور ویران جزیرے میں پہنچنے اور زعفر سے ملاقات کا حال بیان کرتا ہے۔
پانچواں راوی: زعفر جن جو چوتھے راوی کے اصرار پر اپنا حال اور کربلا کے واقعات بیان کرتا ہے۔
چھٹا راوی: جنوں کی جماعت جو زعفر کو معرکۂ کربلا کی خبر دیتے ہیں۔
ساتویں راوی: امام حسینؑ
آٹھویں راوی: سید سجادؑ
138 بند کا یہ مرثیہ مناجات (14 بند) سے شروع ہوتا ہے۔ اس مناجات کا لب و لہجہ مرثیے کی فضا بنانے میں مدد کرتا ہے:
عروج اے مرے پروردگار دے مجھ کو کچھ اعتبار نہیں، اعتبار دے مجھ کو
خزاں میں رنگ بہ رنگِ بہار دے مجھ کو پئے وقارِ محمد وقار دے مجھ کو
گناہ گار ہوں محجوب و ناتواں ہوں میں
ترے نبیؑ کے نواسے کا مدح خواں ہوں میں
معز نجات کی صورت نکالنے والے سنبھال دونوں جہاں کے سنبھالنے والے
معین کوہِ مصیبت کے ٹالنے والے پناہ دے مجھے اے میرے پالنے والے
رحیم کون ہے تجھ سا بھلا جہاں جاؤں
بتا مجھے ترے در کے سوا کہاں جاؤں
نہ سائے میں نہ یہ مجرم پناہ میں ہوگا سفر ضرور ہے کیاحال راہ میں ہوگا
میانِ قبر سزائے گناہ میں ہوگا ہجومِ عقرب و مارِ سیاہ میں ہوگا
کوئی یہاں نہ وہاں آبرو بچائے گا
جہاں بچائے گا اللہ تو بچائے گا
میں روسیاہ کہاں اور ماہتاب کہاں زبانِ ذرّہ کہاں وصفِ آفتاب کہاں
یہ خاکسار کہاں ابنِ بوتراب کہاں کہا جو شرع کے برعکس تو ثواب کہاں
نہ ہو خلافِ ادب کوئی بات ڈرتا ہوں
ترے حسینؑ کا حال اب شروع کرتا ہوں
امام حسینؑ کی طرف اس گریز کے بعد کربلا کا منظر شروع ہوتا ہے:
جھکو جھکو شہِ گردوں سریر آ پہنچے ڈرو ڈرو اسدِ قلعہ گیر آ پہنچے
کہو کہو کہ امامِ کبیر آ پہنچے چھپو چھپو کہ جنابِ امیرؑ آ پہنچے
چلو چلو کہ ابھی بھاگنے کا رستہ ہے
سنو سنو کوئی دم میں لہو برستا ہے
یہ جان لو کہ ہوئے ایک آسمان و زمیں نجوم و شمس و قمر ہوں گے کوئی دم میں یہیں
نہ ہو حضور میں حاضر کوئی مجال نہیں جگہ ملے گی نہ میدانِ کربلا میں کہیں
امامِ وقت عجب کرّوفر سے آتے ہیں
ملک اُدھر سے ابھی جن اِدھر سے آتے ہیں
ہزاروں پیشِ نظر بجلیاں چمکتی ہیں درخت آگ کے ہیں پتیاں چمکتی ہیں
پہاڑ شعلہ بنے چوٹیاں چمکتی ہیں عیاں ہے ذروں سے چنگاریاں چمکتی ہیں
سقر بنا ہے بیاباں ہوا جلاتی ہے
ادھر اُدھر سے جہنم کی آنچ آتی ہے
یہاں تو راکبِ دوشِ نبیؑ ہوا اسوار ہوئی میانِ جناں خیلِ انبیا میں پکار
خدا کی راہ میں کوئی لڑا نہ یوں زنہار بڑے ملال میں لاکھوں سے آج ہے پیکار
چلو کہ بادشہِ کربلا اکیلے ہیں
جنابِ خامسِ آلِ عبا اکیلے ہیں
پھر ایک بند میں زعفر کی روایت مجملاً بیان کرتے ہیں:
کچھ اور چلنے لگی دفعتاً ہوا رَن میں ادھر سے شاہ ہوئے عازمِ وغا رَن میں
اُدھر سے زعفر جن کا گزر ہوا رَن میں بہت حسینؑ سے کی اس نے التجا رَن میں
جنابِ فاطمہؑ کے ماہ نے قبول نہ کی
کسی طرح سے مدد شاہ نے قبول نہ کی
اگلے بند میں اپنے مرثیے کی انفرادیت کا اظہار کرتے ہیں:
سبھوں کو یاد یہ افسانۂ مصیبت ہے کم اس طرح سے مگر نظم یہ حقیقت ہے
بڑھائیں قدرِ سخن منصفوں کی صحبت ہے نیا فسانۂ غم ہے نئی حکایت ہے
ہمیشہ قلب ہے مشتاقِ نظم جن جن کا
سنیں وہ حال ملاقاتِ زعفرِ جن کا
اب ایک عالمِ متبحر کی زبانی کتب خانۂ رضاؑ میں ایک کتاب ملنے کا ذکر کرتے ہیں اور یہ کہ:
فسانۂ غم و رنج و ملال لکھا تھا یہ اس کتاب میں زعفر کا حال لکھا تھا
محب حسینؑ کا تھا کوئی عاقبت اندیش نئے طریق سے ناقل ہے وہ صداقت کیش
وہ محبِ حسینؑ اپنا بیان شروع کرتا ہے کہ:
”سفر ہوا مجھے دریا کا ناگہاں درپیش ہوا سوارِ سفینہ میں خائف و دل ریش“
طوفان آیا اور کشتی تباہ ہو گئی۔ جتنے ساتھی تھے وہ سب ڈوب گئے۔ میں ایک تختے کے سہارے بہتا چلا گیا:
تھما کنارے پہ آ کے وہ صورتِ ماہی کھلی جو آنکھ ہوئی زندگی سے آگاہی
بدن تو خوف سے تھا سرد رنگ تھا کاہی اُتر کے تختۂ کشتی سے میں ہوا راہی
ہزاروں کوس محیط اس کے گرد عماں تھا
اداس تھا وہ جزیرہ کمال ویراں تھا
کوئی درخت نہ آدم نہ جانور دیکھا عجیب عالمِ عبرت اِدھر اُدھر دیکھا
بڑھا جب آگے عجب شخص پُرخطر دیکھا خموش بیٹھے ہوئے اس کو خاک پر دیکھا
رواں تھے اشک برابر زمین پر اس کے
پڑے تھے بال سراسر زمین پر اس کے
میں ڈرتے ڈرتے اس کے پس پشت جا کر دیکھا کہ وہ زمین پر انگلی سے ”حسینؑ“ لکھتا ہے اور زار و قطار روتا ہے۔ یہ زعفر جن ہے۔ راوی نے اس کو نہیں پہچانا لیکن:
ہوا یقین کہ ہے عاشقِ امامِ زمن کیا سلام کہا میں نے اے جلیسِ محن
بتاؤ نام ہے کیا قوم کیا کہاں ہے وطن اٹھا کے سر متعجب ہوا کیے یہ سخن
بتاؤ نام تم اپنا کہ مجھ کو حیرت ہے
یہاں کہاں کوئی بندہ خدا کی قدرت ہے
خبر کسی کو نہیں، ہے وہ عالم و دانا کہاں تھی راہ، ہوا کس طریق سے آنا
بدن میں روح کو بس شاق ہے ٹھہر جانا مگر ہے سرحدِ ملکِ عدم یہ ویرانہ
اداس دھوپ رندھی چاندنی نکلتی ہے
ہوا ہمیشہ یہاں ڈر سے تیز چلتی ہے
راوی بتاتا ہے کہ میں نے اپنا حال بیان کر کے پھر اس سے اس کا نام و نشاں دریافت کیا۔ اس نے بتایا کہ امامِ حسینؑ کے قتل کا ملائک اور جن و بشر کو صدمہ ہوا۔ میں بھی ان کا عزادار ہوں۔ راوی نے کہا کہ انہیں کا غلام میں بھی ہوں اور اس سے اس کا نام معلوم کرنے پر اصرار کیا اور کہا:
بغیر پوچھے رہوں گا نہ میں خدا کی قسم بیاں کرو دُرِ دندانِ مصطفیٰ کی قسم
بتاؤ زخم سرِ پاکِ مرتضیٰ کی قسم تمہیں شہادتِ سلطانِ کربلا کی قسم
یہ سن کے یاس سے مجھ پر نگاہ کی اس نے
کہا کہ زعفرِ جن اور آہ کی اس نے
یہی ہے زعفرِ جن صدق ہو گیا مجھ کو کہا یہ میں نے بڑا اشتیاق تھا مجھ کو
بہت حسین کی باتوں کا ہے مزہ مجھ کو سناؤ قصۂ سلطانِ کربلا مجھ کو
برائے اذنِ وغا پاؤں پر گرے زعفر؟
کہوں کہ کب گئے، کچھ ٹھہرے، کب پھرے زعفر؟
یہ سن کے تھام لیا ہاتھ سے جگر، رویا لہو کا جام بنی چشم نامور، رویا
مثالِ برق تڑپ کر زمین پر رویا یقینِ مرگ ہوا مجھ کو اس قدر رویا
اسی سوال میں غش اس کو چند بار آیا
بغیر پوچھے نہ لیکن مجھے قرار آیا
ہوا کمال ہی مجبور میں نے کی منت کہا کہ آہ نہیں ہے بیان کی طاقت
ہوا نہ واقعہ ایسا عظیم و پُرحسرت نگاہ میں ہے ابھی تک حضور کی صورت
گئے حسینؑ ستم سہہ کے دارِ فانی سے
بڑا گلہ ہے مجھے اپنی سخت جانی سے
آخر زعفر نے بیان کرنا شروع کیا:
”وہ میرے جشن کا دن تھا موافقِ معمول“
زعفر جن کے حال کے زیادہ تر مرثیے اسی مقام سے شروع ہوتے ہیں کہ زعفر امام کی بے کسی کا حال سن کر ان کی مدد کو پہنچتا ہے، لیکن میر عشق کے مرثیے میں ہم دیکھتے ہیں کہ چوالیس بند کی تمہید موجود ہے اور اس تمہید میں بھی چار چار راوی واقعات بیان کرتے ہیں اور ایک بند کے بعد دوسرا بند قوت پکڑتا جاتا ہے۔
اس مرثیے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں زعفر خود اپنا قصہ بیان کرتا ہے۔ آپ بیتی کی صورت میں بیان ہو کر واقعہ اور زیادہ جاذب و جالب ہو جاتا ہے اور ابھی زعفر کا بیان شروع بھی نہیں ہوتا کہ ہمیں اس کے غیر معمولی ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے اور مرثیہ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا اندازہ صحیح ثابت ہو جاتا ہے۔
زعفر بتاتا ہے ک