نیر مسعود

نیر مسعود

مرثیہ خوانی کے ابتدائی خدوخال

    مرثیہ خوانی کے ابتدائی خدوخال داستان گوئی اور شعر خوانی کی روایت نیر مسعود مرثیہ خوانی کے ابتدائی خدو خال اس فن سے پہلے ہمیں دو روایتوں میں ملتے ہیں۔ ان میں ایک داستان گوئی کی روایت ہے اور دوسری شعر خوانی کی۔ داستان گو سامعین کے مجمعے کے سامنے کچھ واقعات بیان کرتا تھا اور اپنے طرز ادا سے ان واقعات کے اثر کو بہت بڑھا دیتا تھا۔ محمد حسین آزاد ایرانی داستان گویوں کی تصویر اس طرح کھینچتے ہیں: ایران کے بازاروں میں اور اکثر قہوہ خانوں میں ایک شخص نظر آئے گا کہ سروقد کھڑا داستان کہہ رہا ہے اور لوگوں کا انبوہ اپنے ذوق وشوق میں مست اسے گھیرے ہوئے ہے۔ وہ ہر مطلب کو نہایت فصاحت کے ساتھ نظم ونثر سے مرصع کرتا ہے اور صورتِ ماجرا کو اس تاثیر سے ادا کرتا ہے کہ سماں باندھ دیتا ہے۔ کبھی ہتھیار بھی سجے ہوتا ہے، جنگ کے معر کے یا غصے کے موقعے پر شیر کی طرح بھر کھڑا ہوتا ہے۔ ....غرض کہ غیظ و غضب ، عیش و طرب یا غم والم کی تصویر فقط اپنے کلام سے نہیں کھینچتا بلکہ خود اس کی تصویر بن جاتا ہے۔ اسے حقیقت میں بڑا صاحب ِکمال سمجھنا چاہیے کیوں کہ اکیلا آدمی ان مختلف کاموں کو پورا پورا ادا کرتا ہے جو کہ تھیٹر میں ایک سنگت کر سکتی ہے۔١ سماں باندھنے اور مضمون کی تصویر بن جانے کا یہ کمال، جسے مرثیہ خوانوں نے انتہا کو پہنچایا، ہندوستان کے داستان گویوں کو بھی حاصل تھا اور مرثیہ خوانی کے فن نے داستان گوئی کے فن سے کچھ استفادہ ضرور کیا۔ میر مظفر حسین ضمیر، جنہوں نے تحت اللفظ مرثیہ خوانی کو ایک نیافن بنایا، ان کے بارے میں نواب سید محمد علی خاں عرف نواب دولہا صاحب یہ بتانے کے ساتھ کہ وہ ’’جب مرثیہ منبر پر تحت اللفظ پڑھتے تھے، مضمون کی صورت ہو جاتے تھے ‘‘، یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’بہ قولے انہوں نے سماعت داستان میر احمد علی داستان گوشاگرد مرزا قاسم علی کی بھی کی ‘‘۔ ٢اس سلسلے میں نظم طباطبائی کا یہ بیان دلچسپی سے خالی نہیں : میں نے سنا کسی زمانے میں حکیم میر اصغر علی ٣کی داستان سننے کو دو ایک دفعہ میرانیس بھی چلے آئے تھے۔ اور میر صاحب کی مجلس میں حکیم صاحب تو جایا کرتے ہی تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ داستان سننے کے بعد رزم کا بیان پڑھنے میں میر صاحب کا لہجہ کچھ بدل گیا ہے۔ سمجھے کہ ہمارا تتبع کیا۔ مجھ سے مرحوم میر ذاکر حسین یاس ٤نے بیان کیا کہ حکیم صاحب کہا کرتے ہیں کہ رزم کا میدان باندھنے اور پڑھنے میں انیس نے ہمارے طرز کواڑالیا۔٥ اسی ضمن میں نظم طباطبائی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ میر مونس کا مرثیہ سننے کے بعد حکیم میر اصغر علی کی داستان سننے کو چلے گئے ۔ حکیم صاحب نے رمز کے بیان میں: رجز تو اس طرح ڈانٹ کر پڑھا کہ مونس کے یہ دو مصرعے، جو ابھی ہم سن کر آئے تھے، یاد آگئے: تیغوں کے دم بڑھیں فرسوں کے قدم بڑھیں کیا دیر ہے اُدھر سے بڑھو تم تو ہم بڑھیں ٦ یہ بیان کر کے نظم لکھتے ہیں: اب اس کا فیصلہ کون کرے کہ رجز پڑھنے کا یہ طرز حکیم صاحب وہاں سے اُڑ الائے تھے یا وہ لوگ اِن کی داستان سن کر اُڑالے گئے تھے۔ سچ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس طرزکے موجد داستان گو ہی ہوئے ہیں۔٧ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ خود میر انیس کے خاندان میں داستان گوئی کی روایت موجود تھی ، یعنی اُن کے چھوٹے چچا میر احسان مخلوق داستان گو تھے۔ ٨ آواز کے اتار چڑھاؤ، چہرے کے تاثرات اور اعضائے بدن کی جنبشوں سے مضمون کی تصویر کھینچنے اور کلام کا اثر بڑھا دینے کی روایت اردو غزل، مثنوی اور دوسرے اصناف میں بھی موجود تھی۔اس فن کے ماہروں میں میرسوز کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ میرحسن کا کہنا ہے کہ ’’ان کی خوانندگی سے کلام اتنا اچھا معلوم ہونے لگتا ہے کہ بیان نہیں ہو سکتا‘‘۔ ٩ مصحفی کہتے ہیں کہ ان کی ’’وضعِ خواندنِ شعر‘‘ دوسروں کو نہیں آتی ۔‘‘ ١٠ شیفتہ ان کو ’’ طرز ِمطبوع‘‘ سے شعر پڑھنے میں ’’مشہورِ جہاں‘‘١١ اور سعادت خاں ناصر انہیں ’’شعر خوانِ با ادا‘‘ ١٢ بتاتے ہیں۔ آزاد سوز کے بارے میں لکھتے ہیں: انہوں نے علاؤہ شاعری کے شعر خوانی کا ایسا طریقہ ایجاد کیا تھا کہ جس سے کلام کا لطف دو چند ہو جاتا تھا۔ شعر کو اس طرح ادا کرتے تھے کہ خود مضمون کی صورت بن جاتے تھے ۔ اور لوگ بھی نقل اتارتے تھے مگر وہ بات کہاں۔ آواز درد ناک تھی ، شعر نہایت نرمی اور سوز وگداز سے پڑھتے تھے اور اس میں اعضا سے بھی مدد لیتے تھے۔ مثلاً شمع کا مضمون باندھتے تو پڑھتے وقت ایک ہاتھ سے شمع اور دوسرے کی اوٹ سے وہیں فانوس تیار کر کے بتاتے۔ بے دماغی یا ناراضی کا مضمون ہوتا تو خود بھی تیوری چڑھا کرو ہیں بگڑ جاتے ۔ ۱٣ سوز کے شاگرد میرزا خانی نوازش بھی شعر خوانی کے ماہر اور ، بقول مصحفی، اس فن میں ”متبعِ میرسوز ‘‘تھے ۔١٤ رجب علی بیگ سرور اُن کے بارے میں لکھتے ہیں: علاؤہ کہنے کے پڑھنے کا یہ رنگ ڈھنگ ہے، اگر طفلِ مکتب کا شعر زبانِ معجز بیاں سے ارشاد کریں، فیضِ دہاں تاثیر بیاں سے پسندِ طبع ِسحبان وائل ہو ۔ ١٥ میر محمد رضاظہیر بتاتے ہیں: مرزا خانی نوازش... مشاعرے میں امیروں کی غزلیں اُجرت پر پڑھتے تھے۔ بعض ذی حوصلہ رئیس فی شعر ایک اشرفی تک دے دیتے تھے ... جناب نوازش جس امیر کی غزل مشاعرے میں خاص تیوروں سے پڑھ دیتے تھے، شہر میں اس کے اشعار زبانوں پر جاری ہو جایا کرتے تھے۔ مدتوں لوگ وہ شعر پڑھتے اور تعریف کرتے تھے۔١٦ میر مظفر حسین ضمیر کوبھی شعر خوانی میں مہارت حاصل تھی اور اُن کی یہی مہارتِ فنِ مرثیہ خوانی میں تازه ایجاد کا سبب بنی۔ حواشی: ١۔ سخن دانِ فارس ،محمد حسین آزاد، اتر پردیش اردو اکادمی لکھنو ، ۱۹۷۹ ء ۔ ٢۔ تذکر ہ مرغوب دل، سید محمد علی خاں معروف بہ نواب دولہا صاحب شمس آبادی، مسودہ بہ خط ِمصنف ۔ ( بہ حوالۂ دبیر اور شمس آباد ،از سید محمد صادق صفوی ،مسودۂ مصنف) ٣۔حکیم میر اصغر علی داستان گوحکیم میر ضامن علی جلال کے والد تھے۔ ( نیر مسعود ) ٤۔ میر ذاکر حسین یاس لکھنوی سید انور حسین آرزو لکھنوی کے والد تھے۔ ( نیر مسعود) ٥۔مضمون’’ شعر و داستان و غزل‘‘، از سید علی حیدر نظم طباطبائی، ماہ نامہ ادبی دنیا، لاہور، نوروز نمبر، ۱۹۳۲ء ، بہ حوالۂ یادداشتِ ادیب ۔ ٦ ۔’’شعر و داستان و غزل ‘‘۔ ٧۔’’ شعر و داستان و غزل‘‘۔ ٨۔ اسلافِ میر انیس ، مسعود حسن رضوی ادیب، کتاب نگر، لکھنؤ ، ۱۹۷۰ ،ص ۱۲۹ ۔ ٩۔ تذکرۂ شعرائے ہندی، میرحسن ، مرتبہ: ڈاکٹر اکبر حیدری ، اردو پبلشرز، لکھنو ، ۱۹۷۹ء ،ص ۱٦۵۔ ١٠۔ تذکرۂ ہندی، مصحفی ، مرتبہ عبد الحق، انجمن ترقی اردو، اورنگ آباد، ۱۹۴۴ء ص ۱۱۱۔ ١١۔ گلشنِ بے خار، مصطفیٰ خان شیفتہ، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ ، ۱۹۸۲ ، ص ۱۰۴۔ ١٢۔ خوش معرکۂ زیبا، سعادت خاں ناصر، مرتبہ مشفق خواجہ مجلس ترقی ادب، لاہور، ۱۹۷۰ء ص ۲۰۸۔ ١٣۔ آب ِحیات ،محمد حسین آزاد، اتر پردیش اردو اکادمی ،لکھنؤ ، ۱۹۸۲ء ،ص ۱۸۹۔ ١٤۔ رياض الفصحا، مصحفى، مرتبہ مولوی عبدالحق ، انجمن ترقی اردو، اورنگ آباد، ۱۹۳۴ء، ص ۳۳۹۔ ١٥۔ فسانۂ عجائب ، رجب علی بیگ سرور، مرتبہ ڈاکٹر سلیمان حسین ، اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ ، ۱۹۸۱ء، ص ۶۱ ۔ ١٦۔ دربارِ حسینؑ (اسمِ تاریخی چراغِ مجالس)، سید افضل حسین رضوی ثابت لکھنوی، مطبع اثنا عشری، دہلی ،۱۹۲۲ء، ص ۹۵۔