نیر مسعود

نیر مسعود

میر انیس کی مرثیہ خوانی

    مرثیے کے میدان میں آنے سے پہلے میرا نیس غزلیں کہتے تھے اور ان کا طرزِ شعر خوانی بہت پُراثر تھا۔ آزاد کے نام شریف العلما کے جس خط کا حوالہ آچکا ہے اس میں یہ بھی لکھا ہے: میرانیس اپنی ابتدائی حالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”جب [ میں] مشاعرے میں غزل پڑھتا تو دو چار دس آدمی رو کر لوٹنے لگتے تھے ۔‘‘١ سید محمد مرزا انس کے پوتے اور میر انیس کے نواسے حمید لکھنوی نے سید آغا اشہر لکھنوی سے بیان کیا: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک جمعرات کو جناب نانا صاحب [یعنی جناب انیس ] حسبِ معمول تشریف لائے ۔ جناب دادا صاحب [یعنی جناب اُنس] سے گفتگو ہونے لگی۔ اثناے گفتگو میں دادا صاحب نے جرأت مرحوم کا یہ شعر پڑھا: ہمارے سر پہ چھائی ہیں بلائیں شامِ ہجراں کی وہ اپنے شغل میں ہیں بال اِدھر کھولے اُدھر باندھے نا نا صاحب نے بہت تعریف کی اور اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے پاس لے جاکے اور چاروں انگلیوں کو یکے بعد دیگرے ایک دَوری حرکت دے کے دوسرے مصرعے کو اس طریقے سے ادا کیا کہ اب تک وہ تصویر آنکھوں کے سامنے ہے۔ واقعی میر صاحب پڑھتے کیا تھے شعر کی تصویر کھینچتے تھے۔ ۲ قربان علی بیگ سالک بتاتے ہیں کہ ایک موقعے پر میرانیس نے ان کے سامنے: حکیم مومن خاں کا یہ شعر پڑھا: نہ کچھ شوخی چلی بادِ صبا کی بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی پڑھنے کے بعد ایک چپ سی لگ گئی، جیسے کوئی حسین صورت سامنے ہے اور ہوا سے اس کی زلف اُڑ رہی ہے اور میر صاحب اس کو دیکھ دیکھ کر اداے کلام کے مزے لےرہے ہیں ۔ ۳ عرض کیا جاچکا ہے کہ میرانیس کے پسِ پشت داستان گوئی کی روایت بھی موجود تھی ۔ شعر کو نہایت موثر انداز میں ادا کرنے کا ملکہ ان کو ذاتی طور پر حاصل تھا۔ مرثیہ خوانی کے فن میں ان کے سامنے دو نمونے موجود تھے۔ ایک میر ضمیر جو ہاتھ اور اشاروں سے بتاتے بھی تھے، ایک میر خلیق جو محض آنکھوں کی گردش سے کام لیتے تھے۔ انیس کے خاندان کی روایت کے مطابق انہیں میر خلیق ہی نے مرثیہ خوانی سکھائی تھی۔ ۴ لیکن انیس کی خوانندگی میں بہت اعتدال کے ساتھ بتانا بھی شامل تھا۔ محمد حسین آزاد لکھتے ہیں: میر انیس مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ کہیں اتفاقاً ہی ہاتھ اٹھ جاتا تھا یا گردن کی ایک جنبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کر جاتی تھی ۔ ۵ میرانیس کے ایک شاگرد میر سلامت علی کے بیٹے مولوی عبدالعلی نے مرزا دبیر اور میر انیس دونوں کو پڑھتے دیکھا تھا۔ دونوں کی خوانندگی کے بارے میں ان کا بیان ہے: زیادہ بتاتا کوئی نہ تھا مگر انیس کا ہاتھ نسبتاً زیادہ اٹھتا تھا۔ ۶ انیس نے خوانندگی کے فن کو معراج کمال پر پہنچا دیا تھا۔ ان کو پڑھتے دیکھنے والوں کے جو بیان ہم تک پہنچے ہیں، ان پر غور کرنے سے اس عجیب و غریب فن کے اسرار ورموز اور قواعد وضوابط کے متعلق عموماً اور انیس کی خوانندگی کے بارے میں خصوصاً اہم معلومات حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے پہلے انیس کی خوانندگی کے چند عینی شاہدوں کے بیان پیش کیے جاتے ہیں۔ شاد عظیم آبادی عظیم آباد میں انیس کو سننے سے کچھ دن پہلے ان سے مل چکے تھے۔ انہیں انیس کے رویے میں سرد مہری محسوس ہوئی تھی اور شادان سے کبیدہ خاطر تھے۔ چوتھی محرم کی مجلس میں وہ انیس کی مرثیہ خوانی کے بیچ میں پہنچے۔ اُس وقت میر صاحب یہ بند پڑھ رہے تھے: وہ دشت، اور وہ خیمۂ زنگارگوں کی شان ’’وہ دشت‘‘ کو سریلی آواز سے ایسا کھینچا کہ وسعت دشت کی آنکھوں میں پھر گئی۔ اللہ اللہ ! وہ لفظوں کا ٹھہراؤ ، وہ لب ولہجہ، وہ سُریلی دلکش آواز، وہ لبوں پر مسکراہٹ ،غرض کہ کس بات کو کہوں۔ اُس وقت میر انیس کی جو بات تھی کلیجے کے اندر اتری جاتی تھی۔ وہ میرانیس ہی نہ تھے جن کو چند دن پہلے دیکھا تھا... چوتھا مصرع بیت العتیق، دیں کا مدینہ، جہاں کی جان تو اس خوبی سے ادا کیا کہ تعریف کرتے کرتے لوگ کھڑے ہو گئے ۔ غرض چہرے سے لے کر صف آرائی ، رخصت ،لڑائی ، شہادت، بین سب پورا پڑھا۔ آخر پسینے سے کر تا بدن میں ٹوپی سر پر بھیگ کر چپک گئی۔ ہاتھ تھام کر منبر سے اتارے گئے... سیدھے فرودگاہ کو چلے۔ میں بھی ننگے پاؤں حیرت زدہ ساتھ ہولیا۔ ٧ شمس العلما مولوی ذکاء اللہ نے الٰہ آباد کی ایک مجلس میں میرانیس کو سنا۔ ان کا بیان ہے: جب میں اس مجلس میں پہنچا تو تمام عالی شان مکان آدمیوں سے بھر چکا تھا بلکہ سیکڑوں مشتاق فرش کے کنارے زمین پر دھوپ میں کھڑے ہوئے محوِ سماعت تھے۔ جب میں پہنچا تو مرثیہ شروع ہو چکا تھا اور میرا مجلس کے اندر جگہ پانا ناممکن تھا۔ اس لیے میں بھی و ہیں دھوپ میں کھڑا ہو کر سننے اور دور سے ٹکٹکی باندھ کر میر انیس کی صورت اور ان کے اداے بیان کو دیکھنے لگا۔ میں میرانیس کی فصاحت بیانی اور ان کے طرز بیان کی دل فریب اداؤں کی تصویر نہیں کھینچ سکتا۔ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس سے پہلے کبھی ایسا خوش بیان نہیں سنا اور نہ کسی کے اداے بیان سے یہ مافوق العادت اثر پیدا ہوتے مشاہدہ کیا۔ میرانیس بوڑھے ہو گئے تھے، مگر ان کا طرز ِبیان جوانوں کو مات کرتا تھا۔ اور معلوم ہوتا تھا کہ منبر پر ایک کل کی بڑھیا بیٹھی ہوئی لڑکوں پر جادو کر رہی ہے، جس کا دل جس طرف چاہتی ہے پھیر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے ہنساتی ہے اور جب چاہتی ہے رُلاتی ہے۔ میں اسی حالت میں دو گھنٹے کے قریب کھڑا رہا۔ میرے کپڑے پینے سے تر اور پاؤں خون اترنے سے شل ہوگئے ،لیکن میں جب تک میرانیس کی صورت دیکھتا اور ان کا مرثیہ سنتا رہا، مجھ کو یہ کوئی بات محسوس نہیں ہوئی ۔ ۸ میرانیس کے ایک ملاقاتی میر حامد علی سے آرہ ضلع شاہ آباد میں غالباً صفیر بلگرامی نے بیان کیا: میں کلام ِدبیر کا شیدائی تھا، کلامِ انیس کا قائل نہ تھا۔ ایک مرتبہ اتفاقاً انیس کی ایک مجلس میں شرکت ہوئی اور میں بے دلی سے ان کو سننے لگا لیکن دوسرے ہی بند کے مندرجہ ذیل بیت: ساتوں جہنم آتشِ فرقت میں جلتے ہیں شعلے تری تلاش میں باہر نکلتے ہیں انہوں نے ... اس انداز سے پڑھی کہ مجھے شعلے بھڑکتے ہوے دکھائی دینے لگے اور میں ان کا پڑھنا سننے میں ایسا محو ہوا کہ تن بدن کا ہوش نہ رہا۔ یہاں تک کہ جب ایک دوسرے شخص نے مجھے ہوشیار کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں کہاں ہوں اور کس عالم میں ہوں۔٩ میر ذاکر حسین یاس بتاتے ہیں: میرانیس نے یہ مصرعے پڑھتے وقت: صحراز مر دی تھا پھریرے کے عکس سے مرثیے کو اس طرح ذرا سا پلٹ دیا پھر یرے کا لہرانا آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ ١۰ مہدی حسن احسن جنہوں نے اپنی کم سنی میں میرا نیس کو سنا تھا لکھتے ہیں: سات سال کی عمر میں سنا ہوا مصرع میرے حافظے میں اس وقت تک محفوظ ہے اور اس کے موشنس کی تصویر اب تک پیشِ نظر ہے۔ مصرع : دانتوں میں شجاعان عرب ڈاڑھیاں دا بے ]انیس نے] مرثیے کو زانو پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو ڈاڑھی کے قریب لا کر اس طرح گردش دی اور ہونٹوں میں فرضی ڈاڑھی کو دبایا کہ یہ معلوم ہوا کہ عرب کے شجاع سپاہیوں کی حالت جنگ میں جوش ِشجاعت کی تصویر کھینچ دی ہے۔ ١۱ عظیم آباد کے ایک بزرگ علی مرزا نے احسن کو بتایا: ایک بات میرانیس میں میں نے حیرت انگیز دیکھی۔ جب وہ مرثیے کا کوئی مقام رقت انگیز پڑھتے تھے اور جوشِ رقت سے خود بھی بے چین ہو جاتے تھے تو ضبطِ گریہ کی غرض سے نیچے کے ہونٹ کو دانتوں میں دبا لیتے تھے، جس سے دہنی جانب کا رخسار متحرک ہو جاتا تھا۔ .....ان کو تو اس انداز سے یہی مقصود تھا کہ جوشِ گریہ سے آواز گلو گیر نہ ہو، جو مانعِ خوانندگی ہے ،مگر قدرۃً اس دل فریب ادا کی چوٹ ہر دل کو بے چین کر دیتی تھی ۔ ١۲ میر ذاکر حسین یاس کا ایک اور بیان ہے کہ ایک سال میرا نیس نے ’’کمال یہ کیا کہ ایک مرثیے کو دودن دو دفعہ پڑھا۔ پہلے دن ایک طرح پڑھا تھا، دوسرے دن بالکل دوسری طرح پڑھا۔‘‘١۳ پنڈت سند نرائن مَشران نے انیس کی خوانندگی کے ایک عینی شاہد کا بیان یوں نقل کیا ہے: میرے لڑکپن میں ایک بوڑھے آدمی نے ، جس نے انیس ودبیر کی مجالس عزا دیکھی تھیں، حضرت انیس کا حال شعر پڑھنے کا بیان کیا، کہ پہلے وہ جس وقت منبر پر جاتے تھے تو مجلس میں خاموشی اور سناٹا ہو جاتا تھا۔ کوئی کسی سے بات نہ کرتا تھا۔ پہلے وہ آستین چڑھاتے تھے ، یہ دیکھ کر لوگوں کے دل ملنے لگتے تھے۔ پھر جب وہ مرثیے کا بستہ ہاتھ میں لیتے تھے تو رقیق القلب سامعین کو رقت شروع ہونے لگتی تھی ۔ اور جب وہ پڑھنا شروع کرتے تھے تو سیکڑوں سامعین چہروں کو رومال سے پونچھتے دکھائی دیتے تھے۔ اور بین پڑھتے وقت تو گریہ وزاری اور آہ و بکا کا کچھ ٹھکانا نہ ہوتا تھا۔ ١۴ آزاد انیس کی مرثیہ خوانی کے بارے میں بتاتے ہیں: اُن کی آواز ، ان کا قد وقامت، ان کی صورت کا انداز ،غرض ہر شے اس کام کے لیے ٹھیک اور موزوں واقع ہوئی تھی ۔ ١۵ لکھنو کے مشہور بزرگ مرزا جعفر حسین صاحب کے والد نواب مرزا دلاور حسین نے انیس کا پڑھنا دیکھا تھا۔ اُن کا بیان ہے: مرثیہ پڑھنے کا کیا ذکر ، انیس کی طرح منبر پر بیٹھنا کسی کو نہیں آیا۔ کچھ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ منبر کے اوپر تشریف فرما نہیں ہیں بلکہ منبر ہی سے اُگ کر باہر نمودار ہو گئےہیں۔ ١۶ سید مسعود حسن رضوی ادیب لکھتے ہیں: میرا نیس منبر پر بیٹھ کر تحت اللفظ پڑھنے کے موجد تو نہ تھے لیکن ان سے پہلے تحت اللفظ خوانی کوفن کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ میر صاحب نے نہ صرف اس کو ایک مستقل فن بنادیا بلکہ مرثیہ گوئی کی طرح مرثیہ خوانی کو بھی اس درجہ کمال پر پہنچا دیا جس سے آگے بڑھنا ممکن نہ ہوا۔ ١۷ یہ فن جس کو انیس نے معراجِ کمال پر پہنچا دیا اصلاً تمثیل کا فن ہے ،لیکن اس تمثیل اور اداکاری کے مروجہ فن میں بہت فرق ہے۔ ادیب نے اس فرق کی وضاحت اس طرح کی ہے: ایکٹر گویا صورت شکل ،لباس، وضع قطع اور اپنے گردو پیش کی چیزوں میں بالکل ویسا ہی بن جاتا ہے جیساوہ شخص جس کا کردار اُسے ادا کرنا ہے۔اس کے علاؤہ وہ اپنے چال ڈھال، لب ولہجے میں بھی اس کی پوری نقل اتارتا ہے۔ ان کا تمام سامانوں اور تدبیروں کے بعد بھی نقل کو اصل کر دکھانے میں پوری کامیابی مشکل سے ہوتی ہے۔ لیکن مرثیہ خوانی کا کمال دیکھیے کہ ایک شخص اپنے معمولی لباس اور اصلی صورت میں آتا ہے اور صرف لہجے کی تبدیلی ، چہرے کے تغیر، جسم اور اعضا کی معمولی سی جنبش ، آنکھ کی خفیف سی گردش سے ہر صنف، ہر عمر، ہر حیثیت، ہر استعداد، ہر ذہنی کیفیت والے انسان کی تصویر پیش کر دیتا ہے۔ ایکٹنگ اور مرثیہ خوانی میں ایک خاص فرق یہ ہے کہ ایکٹر خود کسی دوسرے شخص کی تصویر بن جاتا ہے۔ وہ اپنی ہستی کو اس شخص کی ہستی میں تبدیل بلکہ محوکر دیتا ہے۔ لیکن مرثیہ خواں کسی دوسرے شخص کی تصویر بھی پیش کرتا ہے اور اپنی ہستی کو بھی قائم رکھتا ہے۔ یہ بڑی نازک بات ہے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ مرثیہ خواں اگر کسی عورت کے خیالات و جذبات اسی کی زبان سے ادا کروانا چاہے اور اس غرض سے آواز اور لہجہ بالکل زنانہ اختیار کرے اور اعضا کی حرکتوں میں بھی عورتوں کی نقل کرے تو اس کا یہ فعل اس کی مردانی صورت اور مردانہ لباس کے ساتھ مضحکہ خیز ہو جائے گا اور صرف مسخرے پن کی شان دکھائے گا۔ مرثیہ خواں کچھ ایسا لب ولہجہ اور ایسے حرکات اختیار کرتا ہے کہ اہلِ مجلس کی آنکھیں مرثیہ خواں کی صورت دیکھتی ہیں اور کان اُس کے الفاظ سنتے ہیں، لیکن اس کا ذہن کسی دوسری ہستی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور وہ عالمِ تصور میں اُس عورت کی آواز سنتا اور اُسی کی صورت دیکھتا ہے جس کے خیالات و جذبات مرثیہ خواں اُسی کی زبان سے ادا کرنا چاہتا ہے۔ گو یا اہلِ مجلس ایک ہی وقت میں دو صورتیں دیکھتے اور دو آوازیں سنتے ہیں۔ ۵۸ مرثیہ خوانی کا یہی کمال یعنی ذہن کو کسی دوسری طرف منتقل کر دینا ، اُسے ادا کاری سے ممیز کرتا ہے۔ لیکن مرثیہ خواں صرف اسی پر قادر نہیں تھا کہ اہلِ مجلس کو دوسرے چہرے دکھا دے اور دوسری آوازیں سنادے۔ وہ ایسی صورت حال اور ایسے مناظر دکھانے پر بھی قادر تھا جن کی کوئی مشابہت، نفاست کے ساتھ آراستہ ، عود واگر سے مہکتے ہوئے امام باڑوں میں موجود نہ ہوتی۔ میرانیس کی اُس خوانندگی کا بیان گزر چکا ہے جس میں ایک سننے والے کو شعلے بھڑکتے دکھائی دینے لگے تھے۔ شاد کے بیان میں ہم نے دیکھا کہ میر انیس نے ’’وہ دشت“ کو اس طرح کھینچ کر پڑھا کہ شاد کی نگاہوں کے سامنے ایک دشت کی پہنائی آگئی۔ یہ محض فنِ تمثیل سے ایک قدم آگے کی چیز نہیں بلکہ فنِ خوانندگی کی ’’چیزے دگر‘‘ ہے، جس میں مرثیہ خواں فقط وہ کمال نہیں دکھاتا جوادا کار اپنی تمثیل سے دکھاتا ہے بلکہ وہ کام بھی کرتا ہے جو عکاس اپنے کیمرے سے لیتا ہے، اور خاص اسی کمال کی وجہ سے عمدہ خوانندگی پر سحر اور نظر بندی کا گمان ہوتا تھا۔ اسی کمال کے ذریعے ماہر مرثیہ خواں، خصوصاً میر انیس، اپنے کلام، اپنی آواز اور لہجے، اپنے چہرے کے تاثرات اور اشارات کو ترکیب دے کر اپنے مخاطبین کے ذہن کو کسی صورتِ حال کی طرف اس طرح منتقل کرتے تھے کہ ان کا تصور بر انگیختہ ہو جاتا تھا اور یہ تصور اتنا صادق ہوتا تھا کہ اُن کی نظروں سے مرثیہ خواں اور منبر اور سننے والوں کا مجمع غائب ہو جاتا اور انہیں وہ کچھ دکھائی دینے لگتا جو در حقیقت ان کے سامنے موجود نہیں ہوتا تھا۔ میرانیس ہی کی خوانندگی ہمیں مرثیہ خوانی میں تمثیل کی دو قسموں کی طرف متوجہ کرتی ہے: ایک ظاہری تمثیل اور ایک معنوی تمثیل۔ ظاہری تمثیل کی مثال مہدی حسن کا وہ بیان ہے کہ میرانیس نے : دانتوں میں شجاعانِ عرب ڈاڑھیاں دا بے پڑھتے وقت ہاتھوں اور ہونٹوں کو اس طرح جنبش دی کہ عرب کے سپاہیوں کی تصویر کھینچ گئی۔ مزید وضاحت کے لیے انیس کے پوتے دولہا صاحب عروج کا یہ بند دیکھیے : رن میں پہنچا جو بہ صد غیظ حسنؑ کا دلبر دیکھ کر رعبِ جری ہو گئے حیراں خودسر بڑھ کے دو چار قدم اور سوے لشکر ِشر دیکھی میدان کی حد گھوڑے کو کاوا دے کر روک کر پھر فرسِ برق سیر غازی نے کی نموداروں یہ چن چن کے نظر غازی نے مسعود حسن ادیب لکھتے ہیں کہ ’’دولہا صاحب جب اس طرح کے بند پڑھ دیتے تھے تو اثر کا وہ عالم ہوتا تھا جو قلم کی زبان سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔“ ١۹ مرثیہ خوانی کی اصطلاح میں یہ ’’پڑھت“ کا بند ہے یعنی مرثیہ خواں کے لیے اس میں اشاروں سے بتانے کی گنجائش بہت ہے۔ ایسے بندوں اور مصرعوں کی تعریف بھی بہت ہوتی تھی۔ پڑھت یا ظاہری تمثیل کے مقام ایسے ہوتے ہیں کہ مرثیہ خواں بہت باکمال نہ ہو تو بھی ان پر کچھ نہ کچھ تعریف وصول کر ہی لیتا ہے۔ اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ مرثیہ خوانی میں ظاہری تمثیل نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ معنوی تمثیل کی مثال انیس کا وہ بند ہے جس کے پہلے مصرعے کے دو ہی لفظ سن کر شاد کو ’’وسعتِ دشت‘‘ نظر آنے لگی تھی۔ پورا بند یہ ہے: وہ دشت اور وہ خیمہ زنگارگوں کی شان گویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمان بے چوبۂ سپہر ِ بریں جس کا سائبان بیت العتیق، دیں کا مدینہ، جہاں کی جان اللہ کے حبیبؐ کے پیارے اسی میں تھے سب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے یہ دولہا صاحب والے بند کی حد تک تو پڑھت کا بند نہیں ہے پھر بھی اس کے چھ میں سے پانچ مصرعوں میں ظاہری تمثیل سے کام لیا جا سکتا ہے۔ پہلے مصرعے میں ’’دشت‘‘ اور ’’خیمہ‘‘، دوسرے میں ’’زمین‘‘ اور ’’آسمان‘‘، تیسرے میں ’’سپہر ِ بریں‘‘ اور ’’سائبان‘‘ ، پانچویں مصرعے میں ’’اللہ‘‘ اور چھٹے میں ’’عرشِ کبریا“ کے الفاظ ایسے ہیں کہ ان پانچوں مصرعوں کو اشاروں سے بتا کر پڑھا جاسکتا ہے۔ پورے بند میں صرف چوتھا مصرع: بيت العتيق، دیں کا مدینہ، جہاں کی جان ایسا ہے جسے پڑھت کے لحاظ سے کمزور کہا جاسکتا ہے۔ لیکن شاد کے بیان میں ہم نے دیکھا کہ اسی چوتھے مصرعے کو انیس نے اس طرح ادا کر دیا کہ لوگ تعریفیں کرتے کرتے کھڑے ہو گئے ۔ گویا میرانیس کی خوانندگی میں پڑھت کا بہترین مصرع یہی تھا۔ یہ بہ ظاہر ایک معما ہے لیکن اس کاحل اسی مصرعے میں موجود ہے۔ یہ مصرع اگر چہ خوانندگی کے عام معیار کے لحاظ سے کمزور ہے لیکن اس کی معنوی قوت بند کے باقی پانچوں مصرعوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے کہ وہ پانچ مصرعے خیمۂ حسینی کا ’ظاہر‘ کا بیان کرتے ہیں لیکن اس کی باطنی عظمت اور شان، جو ظاہر کی محتاج نہیں، اسی مصرعے ’’بیت العتیق، دیں کا مدینہ، جہاں کی جان‘‘ میں بیان ہوئی ہے۔ انیس نے اپنی خوانندگی سے اسی عظمت اور شان کی تصویر اس طرح کھینچ دی کہ اس کے سامنے دوسرے مصرعے دھندلا گئے ۔ اس مصرعے کی لفظیات پر غور کرنے سے اس کے کچھ اور جو ہر کھلتے ہیں۔ ’’دیں کا مدینہ “ اور ’’جہاں کی جان‘‘ میں ’’دیں‘‘ کا لفظ ’’مدینہ‘‘ کے اندر اور ”جان“ کا لفظ ” جہاں‘‘ میں موجود ہے۔ ظاہرا انیس نے مصرع اس طرح پڑھا کہ سننے والوں کے ذہن اس طرف منتقل ہو گئے اور خواہ فوری طور پر ہر ایک کی سمجھ میں یہ صنعت گری نہ آئی ہو، لیکن انیس کی زبان سے سن کر اتنا ضرور محسوس ہو گیا کہ ان لفظوں میں بھی کچھ نہ کچھ بھید ہے۔ انیس کے مرثیوں کو تحریری شکل میں سرسری پڑھنے سے بھی اس طرح کا احساس ہوتا ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انیس کی زبان سے ادا ہو کر اس قسم کے لفظوں کا اثر کیا سے کیا ہو جاتا ہوگا اور یہ بھی سمجھ میں آسکتا ہے کہ کلامِ انیس میں لفظی و معنوی صنائع و بدائع کی کثرت کیوں ہے۔ حواشی: ١۔ مکتوب شریف العلما بہ نام محمد حسین آزاد۔ ۲۔ حضرت رشید ، سید آغا اشہر لکھنوی، اصحح المطابع ،لکھنؤ ،ص ۴۱۔ ٣۔ بیاض قربان علی بیگ سالک، بہ حوالۂ حیات انیس، از سید امجد علی اشہری لکھنوی، مطبع آگرہ اخبار، آگرہ ،۱۳۴۳ھ، ص ۲۵۴۔ ۴۔ مضمون ”میرانیس اور ان کے اسلاف واخلاف‘‘، از سید محمد عباس (ہفت روزه پیام ِاسلام ،لکھنؤ، ۸ جون ۱۹۵۸ء) ۵۔ آبِ حیات ، ص۳۷۰۔ ٦۔ ’’میرانیس کے کچھ چشم دید حالات‘‘، از مسعود حسن رضوی ادیب، مشمولۂ انیسیات۔ ٧۔ فکرِ بلیغ ، ص۵۳- ۲۵۲۔ ٨۔حياتِ انیس ،ص۳۴- ۳۵۔ ۹۔ مضمون ” میرانیس کے ایک عقیدت مند کا بیان‘‘، از مسعود حسن رضوی ادیب، مشمولۂ انیسیات۔ ١۰ ۔’’ میر انیس کی خوش آوازی ، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی‘‘۔ ١١۔ واقعاتِ انيس ، اصحح المطابع، لکھنؤ، ص ۴۸-۴۷۔ ١٢۔ واقعاتِ انیس،ص ۳۲۔ ١۳ ۔ ” میرانیس کی خوش آوازی، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی“۔ ١۴۔ خطبات ِمشران (بزم اوّل)، پنڈت سندر نرائن مشران ، سرفراز قومی پریس، لکھنؤ ،ص ۲۰- ۲۱۔ ١۵۔ آب حیات ۔ ١٦۔ مضمون ”میر علی محمد عارف‘‘، از مرزا جعفر حسین۔ (ماہنامہ نیا دور، لکھنؤ ، جمہوریت نمبر، جنوری ۱۹۷۸ء) ١۷۔ ’’میرانیس کی خوش آوازی ، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی“۔ ١۸۔ ’’ میر انیس کی خوش آوازی ، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی‘‘۔ ١۹ ۔ عروجِ سخن ( مراثی سید خورشید حسن عرف دولہا صاحب عروج) ، دار التصنيف والتألیف امیر یہ لکھنؤ ، ۱۹۴۰ء۔ مقدمہ از مسعود حسن رضوی ادیب ،ص ۱۹۔