اجمل نیازی

اجمل نیازی

عہدغفلت میں مجھے مثلِ سحر بھیجا گیا

    عہدغفلت میں مجھے مثلِ سحر بھیجا گیا دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا کربلائے عشق میں تیری نظر کے سامنے جسم کے نیزے پر رکھ کر میرا سر بھیجا گیا روبرو ہے وہ مرے لیکن ہر اک لمحے کے بعد ایسے لگتا ہے اسے بارِ دگر بھیجا گیا زندگی اپنی بچھڑتی ساعتوں کا دائرہ کرچی کرچی کر دیا اور دربدر بھیجا گیا اب گلے سے لگ کے رونے کی روایت بھی گئی شہرِ گریہ میں مجھے بے چشمِ تر بھیجا گیا وہ مرا ہمراز تو بنتا نہیں پھر کیوں اسے غم کے سب رستوں پہ میرا ہم سفر بھیجا گیا