اجمل نیازی

اجمل نیازی

وہ چپ ہے بھول کر بھی کوئی بولتا نہیں

    وہ چپ ہے بھول کر بھی کوئی بولتا نہیں نیند اڑ گئی ہے کوئی مگر جاگتا نہیں گروی پڑا ہوں پیار کے اک بول کے لئے دل سے لگا کے کوئی مجھے بھینچتا نہیں سب کھیلتے ہیں آنکھ مچولی یہاں مگر میں چھپ گیا ہوں کوئی مجھے ڈھونڈتا نہیں روتی ہے میرے ذہن میں یہ جس کی بازگشت وہ نعرہ میرے کان میں کیوں گونجتا نہیں وہ شخص تھا تو جیسے ہمیں یاد بھی نہ تھا وہ شخص جا چکا ہے مگر بھولتا نہیں گھر لے گیا ہے میرا وہ معصوم لوٹ کر مجرم جسے یہاں کوئی گردانتا نہیں اجملؔ ہوں وسطِ شہر میں اجڑا ہو مکاں پاس آ کے لمحہ بھر بھی کوئی بیٹھتا نہیں