اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے اس کی یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک موسم ہرے پرندوں کا وہ گرم ہوا کا رزق ہوا اک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک دریا سوہنی آنکھوں کا ہر منظر اس میں ڈوب گیا اک دشت ہے اندھے چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا اک نیند خرابہ خوابوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک رستہ اس کے شہروں کا ہم اس کی دھول میں دھول ہوئے اک شہر اس کے اندیشوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک درد پرانے زخموں کا اب اس کا لطف بھی ختم ہوا اک غم ہے اچھے وقتوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک منظر بھیگے رنگوں کا کب دیکھا تھا اب یاد نہیں اک آنگن سوکھے اشکوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک لمحہ میٹھی سوچوں کا وہ پلک جھپکتے بیت گیا اک وقفہ لمبی آہوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں