اجمل نیازی

اجمل نیازی

دل دریا میں کھوج ملا ہے کچھ آباد جزیروں کا

    دل دریا میں کھوج ملا ہے کچھ آباد جزیروں کا درد کی تہہ میں پایا میں نے کشف تری تصویروں کا اک معصوم سحر آئینہ فطرت کی تسخیروں کا چڑیوں کا چہکار خلاصہ حمد کی سب تفسیروں کا اک مستی ناخفتہ آنکھ میں لامحدود زمانوں کی ایک نشہ خوابوں سے پہلے خوابوں کی تعبیروں کا یادوں کے اخلاص میں پنہاں راز جمیل جہانوں کے لئے خون کے نور سے ظاہر ہوگا عہد نئی تقدیروں کا اک محبوب دعا کے وصل سے میرے لفظ چمکتے ہیں دیکھ ہوا کی انکھ میں اجملؔ رقص مری تحریروں کا