اجمل نیازی

اجمل نیازی

ہجر کے حیرت کدے میں اس یقیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے

    ہجر کے حیرت کدے میں اس یقیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے چھپ نہیں سکتے ہیں ہم پھر بھی کہیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے دور بیٹھا ہے وہ اک تنہا لگن خاکِ بدن میں گھول کر خود سے جب تک بے خبر ہے وہ، یہیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے اس کی آنکھوں میں مجھے ملنے کی خواہش جی اٹھی ہوگی مگر منزلِ غم پر نگاہِ واپسیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے سرحدِ جاں سے پرے بکھرا ہے وہ اک اور دھرتی پر کہیں قریہ ء صبر و رضا کی سرزمیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے اک بہشتِ عشق میں موجود ہے وہ خواب کے دریا کے پاس اپنے دل کے گمشدہ عرشِ بریں سے اس کو چھپ کر دیکھئے وہ کسی اجڑے ہوئے رستے پہ ہو گمنام منظر کی طرح اور پھر اجمل یہ خواہش ہے، کہیں سے اس کو چھپ کر دیکھئے