اجمل نیازی

اجمل نیازی

سرزمینِ دل پہ اس کا آسماں موجود ہے

    سرزمینِ دل پہ اس کا آسماں موجود ہے ٹوٹے پھوٹے اس مکاں میں لامکاں موجود ہے وہ نہیں ہے پھر بھی ہم جب یاد کرتے ہیں اسے ایسے لگتا ہے ہمارے درمیاں موجود ہے بارہا اس کی جدائی نے بچایا ہے مجھے خواہشوں کے اس نگر میں پاسباں موجود ہے اس کے میرے درمیاں ہیں فیصلوں کے فاصلے میں یہاں موجود ہوں اور وہ وہاں موجود ہے میں تو اس کی چھاؤں میں ہو ں وہ ہے میرے گاؤں میں اس کے سر پر حیرتوں کا سائباں موجود ہے وہ جو میرے ساتھ ہو تو پھر میں ڈرتا ہی نہیں دشمنوں کے شہر میں جائے اماں موجود ہے اپنے پہلو میں کوئی جنت لئے پھرتا ہے وہ اس کی خاطر اس جہاں میں وہ جہاں موجود ہے ہم چلے جاتے ہیں لیکن یہ سفر کٹتا نہیں راستہ گم ہو چکا ہے کارواں موجود ہے اس کے آنگن میں یہ دل زخمی پرندے کی طرح اشکبار آنکھوں میں جیسے آشیاں موجودہے وہ مرا مہمان ہے اور میں مسافر کی طرح کیسی ویرانی میں دل کا آستاں موجود ہے