اجمل نیازی

اجمل نیازی

کس موڑ پر یہ زندگی آ کر ٹھہر گئی

    کس موڑ پر یہ زندگی آ کر ٹھہر گئی زندہ ہوں تجھ میں مَیں مرے اندر تو مر گئی پھیلی ہے اس کے ذکر سے شہروں میں سنسنی وہ سانولی جو اپنے ہی سائے سے ڈر گئی وہ جس کی چپ نے ذہن میں چہکار کی بپا بولی تو سارے شہر کو خاموش کر گئی کمرے میں چھپ کے اس نے جلائے تھے میرے خط پھر راکھ سارے شہر میں کیسے بکھر گئی