اجمل نیازی

اجمل نیازی

گھر کی جانب جانے والے راستوں جیسا ہے وہ

    گھر کی جانب جانے والے راستوں جیسا ہے وہ منزلوں سے پیشتر ہی منزلوں جیسا ہے وہ یاد آتا ہے مصیبت میں دعاؤں کی طرح رات کے پچھلے پہر کی سسکیوں جیسا ہے وہ اس کی فطرت میں وفا ہے اس کی آنکھوں میں حیا دشمنوں کے ساتھ ہے اور دوستوں جیسا ہے وہ ہر طرف اجلے دسمبر کی سحر پھیلی ہوئی موسمِ سرما کی پہلی بارشوں جیسا ہے وہ جاگتا ہے شب کے پچھلے پہر میں میرے لئے چاند کی چادر میں لپٹے رتجگوں جیسا ہے وہ آس پاس اس کے ہزاروں تیرتے لوگوں کے ہاتھ سانولے سوہنے اکیلے ساحلوں جیسا ہے وہ اس کے اندر ہجر کی مستی تڑپتی ہے بہت کانپتے ہاتھوں میں گرتے آنسوؤں جیسا ہے وہ