تری نظر خارزارِ شب میں گلاب تحریر کر چکی ہے
تری نظر خارزارِ شب میں گلاب تحریر کر چکی ہے اجاڑ نیندوں کے خواب میں انقلاب تحریر کر چکی ہے کبھی مرے ذہن کے فلک پر سوال چمکے تو میں نے دیکھا ترے زمانوں کی خاک ان کے جواب تحریر کر چکی ہے وہ حروف جو تیرے دل پہ اترے وہ میرے دل میں بھی گونجتے ہیں تری محبت مرے لہو میں کتاب تحریر کر چکی ہے تری جدائی میں رونے والے ہی میری بستی میں بچ رہے ہیں نگاہِ تقدیر بے بسی کا حساب تحریر کر چکی ہے اداس جیون میں تیرے دیکھے ہوئے زمانوں کو ڈھونڈتا ہوں مری زمیں پر ہوائے عالم عذاب تحریر کر چکی ہے