اجمل نیازی

اجمل نیازی

شب کے پچھلے پہر کی حیرانیوں میں جاگنا

    شب کے پچھلے پہر کی حیرانیوں میں جاگنا اپنے اندر دور تک ویرانیوں میں سوچنا بھول کر اس کو بکھر جاؤ گے یادوں کی طرح روز اس کو یاد کرنے کے لئے مل بیٹھنا وصل کا دروازہ کھل جائے گا شہرِ ذات میں چھوڑ دے خواہش کی دیواروں کے باہر جھانکنا بے وطن لمحوں میں یاد آئے تری ہمسائیگی گھر میں جب کچھ خاص پکنا وہ مجھے بھی بھیجنا اس کی آنکھیں جھوم جائیں جب ترے چاروں طرف تم اسے بس چومنا پھر چومنا پھر چومنا