اضطرابِ شوقِ بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ
اضطرابِ شوقِ بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ کائناتِ روحِ احمدﷺمیں کہیں رہتا ہے وہ دائرہ در دائرہ صدیاں بلاتی ہیں اسے سچی آوازوں کے گنبد میں کہیں رہتا ہے وہ یاد آتا ہے برے دن میں دعاؤں کی طرح شہر کے ویران معبد میں کہیں رہتا ہے وہ ڈھونڈنے نکلے ہیں اس کو علم کے شہروں میں ہم درد و غم کی راہِ اَبجد میں کہیں رہتا ہے وہ خاک میں گھلتا لہو ہے منتظر اس کے لیے سرخرو ہونے کے مقصد میں کہیں رہتا ہے وہ اک ارادے کی طرح زخمی دلوں کے درمیاں ارضِ جاں کی آخری حد میں کہیں رہتا ہے وہ ہجر کے غارِ حرا میں دیکھتے اجملؔ کو تم قریہء عشقِ محمدﷺ میں کہیں رہتا ہے وہ