سید محمد جعفری

سید محمد جعفری

ایبسٹریکٹ آرٹ

    ایبسٹریکٹ آرٹ

    سید محمد    جعفری

     

    ایبسٹریکٹ آرٹ کی دیکھی تھی نمائش میں نے

    کی تھی ازراہِ مرّوت بھی ستائش میں نے

    آج تک دونوں گناہوں کی سزا پاتا ہوں

    لوگ کہتے ہیں کہ کیا دیکھا تو شرماتا ہوں

    صرف کہہ سکتا ہوں اتنا ہی وہ تصویریں تھیں

    یار کی زلف کو سلجھانے کی تدبیریں تھیں

    ایک تصویر کو دیکھا جو کمالِ فن تھی

    بھینس کے جسم پر اک اُونٹ کی سی گردن تھی

    ٹانگ کھینچی تھی کہ مسواک جسے کہتے ہیں

    ناک وہ ناک خطرناک جسے کہتے ہیں

    نقش محبوب مصور نے سجا رکھا تھا

    مجھ سے پوچھو تو تِپائی پہ گھڑا رکھا تھا

    یہ سمجھنے کو کہ یہ آرٹ کی کیا منزل ہے

    ایک نفاد سے پوچھا جو بڑا قابل ہے

    سبزۂ خط میں وہ کہنے لگا رعنائی ہے

    میں یہی سمجھا کہ ناقص مری بینائی ہے

    بولی تصویر جو میں نے اسے پلٹا اُلٹا

    میں وہ جامہ ہوں کہ جس کا نہیں سیدھا اُلٹا

    اُس کو نقاد تو اِک چشمۂ حیواں سمجھا

    میں اُسے حضرتِ مجنوں کا گریباں سمجھا

    ایک تصویر کو دیکھا کہ یہ کیا رکھا ہے

    ورقِ صاف پہ رنگوں کو گرا رکھا ہے

    آڑی ترچھی سی لکیریں تھیں وہاں جلوہ فگن

    جیسے ٹوٹے ہوئے آینے پہ سورج کی کرن

    بولا نقاد جو یہ آرٹ ہے تجریدی ہے

    آرٹ کا آرٹ ہے تنقیدی کی تنقیدی ہے

    تھا کیوب ازم(١) میں کاغذ پہ جو اک رشکِ قمر

    مجھ کو اینٹیں نظر آتی تھیں اُسے حسنِ بشر

    بولا نقاد نظر آتے یہی کچھ ہم تم

    خلد میں حضرتِ آدم جو نہ کھاتے گندم

    ایبسٹریکٹ آرٹ بہر طور نمایاں نکلا

    ’’قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا‘‘

    وہ خدوخال کہ ثانی نہیں جن کا کوئی آج

    بات یہ بھی ہے کہ ملتا نہیں رنگوں کا مزاج

    دیر تک بحث رہی مجھ میں اور اُس میں جاری

    تب یہ ثابت ہوا ہوتی ہے یہ اک بیماری

    اس کو کیوب ازم کا آزار کہا کرتے ہیں

    اس کے خالق جو ہیں بیمار رہا کرتے ہیں

    ایبسٹریکٹ آرٹ کے ملبے سے یہ دولت نکلی

    جس کو سمجھا تھا انناس وہ عورت نکلی

    ایسبٹریکٹ آرٹ کی اس چیز پہ دیکھی ہے اساس

    ’’تن کی عریانی سے بہتر نہیں دنیا میں لباس‘‘

    اس نمائش میں جو اطفال چلے آتے تھے

    ڈر کے ماؤں کے کلیجوں سے لپٹ جاتے تھے

    ایبسٹریکٹ آرٹ کا اِک یہ بھی نمونہ دیکھا

    فریم کاغذ پہ تھا کاغذ جو تھا سونا دیکھا

    وہ ہمیں کیسے نظر آئے جو مقسوم نہیں

    ’’لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں معلوم نہیں‘‘

    ڈر سے نقادوں کے اس آرٹ کو یوں سمجھے تھے ہم

    ’’شاہدِ ہستی مطلق کی کمر ہے عالم‘‘

    الغرض جائزہ لے کر یہ کیا ہے انصاف

    آج تک کر نہ سکا اپنی خطا خود میں معاف

    میں نے یہ کام کیا سخت سزا پانے کا

    یہ نمائش نہ تھی اِک خواب تھا دیوانے کا

    کیسی تصویر بنائی مرے بہلانے کو

    اب تو دیوانےبھی آنے لگے سمجھانے کو

     

    حواشی

    (١) تجریدی مصوری کا ایک مکتب جس میں تصویر کو شش پہلو ٹکڑوں سے تشکیل دیا جاتا ہے۔