چڑیا گھر(١)
چڑیا گھر (١)
سید محمد جعفری
چڑیا گھر میں جلسۂ جمعیتِ اقوام ہے
بحث اِس پر ہو رہی ہے کِس پہ کیا الزام ہے
سنتے ہیں بندر شرارت کے لیے بدنام ہے
جو نگہباں ہے اُسی کا رزق دینا کام ہے
شاخ پر بیٹھی ہیں چڑیاں نیچے ہاتھی ہے کھڑا
کہتی ہیں چڑیاں کہ ہاتھی ہو گیا ہے کیوں بڑا
بولے وہ بندر جنہیں ایجنٹ کہتے ہیں عوام
بندروں کو چاہیے اِس گھر میں جمہوری نظام
ہے غذا مقدار میں کم، کیسے کھائیں گے تمام
بانٹ دیں سب کو برابر بندروں کا ہے یہ کام
خیریت پیش نظر ہے چوں کہ بندر بانٹ میں
بندروں کی اب گزر ہوتی ہے کاٹ اور چھانٹ میں
کہتی ہیں چڑیاں کہ دانہ دانہ چنوایا گیا
ایک ہی لقمہ بنا کر اس کو ہاتھی کھا گیا
ایک مچھر کان میں ہاتھی کے بِٹھلایا گیا
احتجاج اِس شکل میں ہاتھی کو سُنوایا گیا
ہاتھیوں کی نسل کی منصوبہ بندی چاہیے
ہم کو نصب العین کی تھوڑی بلندی چاہیے
چڑیا گھر میں آج کل بائیس (٢٢) ہاتھی ہیں مقیم
اور چڑیوں کا یہاں حقِ سکونت ہے قدیم
اور نہی چڑیوں کی حالت بھوک نے کر دی سقیم
صرف بندر ہی یہاں تھے صاحبِ عقلِ سلیم
اُن کو رحم آیا بہت چڑیوں کے پتلے حال پر
کر دیا کہہ سن کے آمادہ انہیں ہڑتال پر
چوں کہ بندر چاہتے تھے خوب جنگ اُن میں ٹھنے
صلح چاہیں بھی تو اِس کی بھی نہ کچھ صورت بنے
اِس طرح روٹھیں، نہ چڑیا ہی نہ ہاتھی ہی منے
تاکہ مل جائیں اُنہیں بھی اِس لڑائی میں چنے
بولے یہ بندر کہ یہ بائیس ہاتھی ہیں سفید
تنگ آ کر ان سے پبلک ہو چکی ہے نا امید
بولے ہاتھی کام کرتے ہیں بڑے، گُر ہیں بڑے
ہم اُٹھاتے ہیں اُسے جو بوجھ بھاری آ پڑے
چڑیا گھر کی صنعتوں میں مرحلے تھے جو کڑے
ہم نے ان کو سَر کیا تب تھے کہاں چڑیا چڑے
فرض کر لیجے کہ چڑیا گھر میں سب آزاد ہوں
غیر ممکن ہے کہ سارے اک جگہ آباد ہوں
گرچہ چڑیوں کو حقِ خود اختیاری چاہیے
لیکن اس گھر کو بھی کچھ خدمت ہماری چاہیے
چڑیا گھر میں صنعت اور کچھ دستکاری چاہیے
ہم کو ہڑتالوں کے دُکھ سے رستگاری چاہیے
بندروں کی کیا ہے ہر جا کودتے پھرتے ہیں وہ
جِس جگہ گُڑ اور چنے دیکھیں وہیں گِرتے ہیں وہ
چڑیا گھر کا آگیا مالک سنا اُس نے جو شور
بندروں کو ایک پنجرے میں پکڑ لایا بہ زور
مور چِلانے لگے اپنی زباں میں چور چور
بولا یہ اُلّو کہ ہے چشم بصیرت اِن کی کور
چاہتے ہیں ہم کو ویرانے میں آزادی ملے
زندگی جنگل کی ہم کو سیدھی اور سادی ملے
بولا مالک ایسی آزادی ہے اِک سودائے خام
تم پہ لازم ہے کرو اِک دوسرے کا احترام
اپنی اپنی حد کے اندر رہ کے چل سکتا ہے کام
مت بچھاؤ واسطے چڑیوں کے دانہ اور دام
مِل کے وہ رہتے ہیں جن کا آدمیت کام ہے
جانور لڑتے ہیں انساں مفت میں بدنام ہے
حواشی
(١) مراد پاکستان
(٢) پاکستان کے امیر ترین ٢٢ خاندان جن کے پاس ملک کی بیشتر دولت تھی۔