نمبر پلیٹ
نمبر پلیٹ
یہ حکم دیکھ کر موٹر کاروں پر نمبر پلیٹ انگریزی میں ہوں
سید محمد جعفری
چاہیے اردو میں موٹر کار پر نمبر پلیٹ
اُس سے ’صاحب لوگ‘ کا لیکن نہیں بھرتا ہے پیٹ
ہے زباں اپنی جو کالی وہ چڑھے گوروں کی بھینٹ
جب لکھیں اردو تو جرمانہ کرے گا مجسٹریٹ
میں ہوں کالا آدمی، انگلش زدہ ہے میری کار
جا چکا عہدِ غلامی، یہ ہے اُس کی یادگار
ہوتی ہے ایران میں یہ بہ زبانِ فارسی
ہم کو آتی ہے مگر قومی زباں سے عار سی
کہتے ہیں لیکن یہ طرزِ فکر ہے بیمار سی
بیل گاڑی پر جو انگلش ہو تو ہو گی کار سی
پڑھ لی انگریزی تو ’صاحب لوگ‘ بن جائیں گے کیا
’’ہیں ’گرفتارِ وفا‘ زنداں سے گھبرائیں گے کیا‘‘
چھ زبانوں میں پلیٹیں اپنی بنواؤں گا میں
سندھی پشتو اردو پنجابی میں لکھواؤں گا میں
صرف بنگالی پہ ڈھاکے میں اتر آؤں گا میں
سب کو پھر انگلش کا اعلیٰ شان دکھلاؤں گا میں
سب سے اوپر کار پر چسپاں ہو انگلش میں پلیٹ
سب سے نیچے ہو زباں قومی، یہی ہے ایٹی کیٹ