عیدا لاضحیٰ
عیدا لاضحیٰ
سید محمد جعفری
بقر عید آئی ہے بکروں سے کہو خیر منائیں
جلسوں میں اور جلوسوں میں نہ جا کر ممیائیں
نہ ہو ایسا کہ کہیں حزبِ مخالف بن جائیں
بات سچ کہنے پہ غدارِ وطن بھی کہلائیں
آج کل جتنے قصائی ہیں پولیس والے ہیں
ہم نے قربانیاں دینے کے لیے پالے ہیں
کوئے جاناں میں یہ بکرے جو ہیں قربانی کے
شاہ پارے ہیں گرانی میں گراں جانی کے
چوں کہ عادی ہیں سرِ راہ سخن رانی کے
لاٹھی چارج اُن پہ ہیں ہر ماہرِ دربانی کے
راہ چلتے ہوئے اِس زور سے ممیاتے ہیں
حاکم وقت سے نعرے جو ہیں ٹکراتے ہیں
یہ جو پہنے ہوئے ہیں طوقِ غلامی بکرے
اِن میں وہ بھی ہیں جو ہیں نامی بکرے
یہ بھی سنے ہیں کہ یہ سب ہیں عوامی بکرے
ملک الموت کو دیتے ہیں سلامی بکرے
موت کو اپنی بلانے پہ یہ مجبور بھی ہیں
طلبا ہیں یہ کسان اور یہ مزدور بھی ہیں
بکروں کے منہ میں بس اک دوسرے کو گالی ہے
کوئی بلوچی ہے پنجابی ہے بنگالی ہے
بعض کی دوسری منزل جو ہے وہ خالی
بعض نے بولتے رہنے کی قسم کھا لی ہے
آنسو گیس اس لیے بکروں ہی پہ ڈالی جائے
کچھ تو حسرت دلِ مسکیں کی نکالی جائے
بکرے منہ مارتے رستہ پہ چلے جاتے ہیں
ایک ریوڑ میں جو چلتے ہیں سزا پاتے ہیں
مذبح کو جاتے ہوئے سینگوں کو ٹکراتے ہیں
گلہ بان اُن کے اُنہیں اِس لیے دھمکاتے ہیں
دورِ آزادی ہے گو بکرے یوں پیادہ نہ چلیں
کرفیو شہر میں ہے چار سے زیادہ نہ چلیں
یوں تو بکروں میں بھی ہیں پارٹیوں کے مندوب
اُن کو قربانی کے بھی یاد ہیں اچھے اسلوب
مفت میں پٹنے سے ہوتی نہیں تسخیر قلوب
’’عشق و مزدوریِ عشرت گہہِ خسرو کیا خوب
ہم کو تسلیم نکو نامئی فرہاد نہیں‘‘
وہ سزا پاتے ہیں جس کی کوئی میعاد نہیں