دیر سے آنے پر
دیر سے آنے پر
سید محمد جعفری
بیوی بولیں یہ میاں سے کہ ستایا نہ کرو
تم سے کب تک کہوں گھر دیر سے آیا نہ کرو
بلکہ بہتر تو یہی ہے کہیں جایا نہ کرو
اور جو گھر آئے اُسے اتنا بٹھایا نہ کرو
وقت لوگوں سے ملاقات میں جب کٹتا ہے
دھیان بچوں کا پڑھائی میں بہت بٹتا ہے
یوں تو دفتر میں رہا کرتے ہو تم سارا دن
رات پڑتی ہے تو پھر آا ہے احباب کا جن
ہو اثر میری کسی بات کا یہ ناممکن
کون ہے وہ گلِ رنگیں، نہیں رہتے جس بن
میں یہ سنتی ہوں کہ ملتی ہے کلب میں تم کو
چپ کھڑے سن رہے ہو کیا کہوں اب میں تم کو
گھر جسے تم نے کرائے پر دیا ہے وہ نواب
چھوڑ کر چپکے سے چل دے نہ کہیں خانہ خراب
کیا کرائے کا کیا جا کے کبھی تم نے حساب
خط جو آیا تھا کل ابا کا دیا اُس کا جواب
تم کو لیکن ’گلِ رنگین‘ سے کب فرصت ہے
دوستوں میں ہی برج کھیلنے کی مہلت ہے
محفلِ شعر و سخن میں جو کہیں دعوت ہے
یہ سمجھ لو کہ مرے حق میں بڑی آفت ہے
شاعروں ہی پہ تو اللہ کی یہ رحمت ہے
رات بھر جاگتے رہنے کی انہیں عادت ہے
تم سے کس نے یہ کہا جاگتے رہنا صاحب
اور ہر شعر پہ پھر داد بھی دینا صاحب
رات کا سلسلہ جب صبح سے جا ملتا ہے
چیختے ہو تو گلا تم کو چھلا ملتا ہے
شعر سننے سے بتاؤ تمہیں کیا ملتا ہے
داد دینے کا بھی کیا تم کو صلہ ملتا ہے
صبح کاذب ہو تو تم گھر کی طرف آتے ہو
اور پھر اونگھے دفر کو چلے جاتے ہو
سن رہا تھا یہ پریشان میاں بے چارہ
بلکہ سنتا تھا نصیحت کو محلہ سارا
وہ یہ کہتا تھا کہ آیا ہوں تھکن کا مارا
بیٹھنے بھی نہیں پایا کہ مجھے للکارا
تم جو بولو گی تو ہو جائیں گے بچے بیدار
دیکھو ہم دونوں کو لڑتے نہ سنے چوکی دار
دیر سے روز تو میں گھر میں نہیں آتا ہوں
میں بہ اصرار کسی کو نہیں بلواتا ہوں
لیکن آجائے جو کوئی اُسے بٹھلاتا ہوں
میں بھی آخر کبھی ملنے کو کہیں جاتا ہوں
گھر پہ آجائے جو مہمان بڑی رحمت ہے
یہ تو اللہ کی بھیجی ہوئی اک نعمت ہے
میں تو دفتر میں بھی جاتا ہوں تمہاری خاطر
رات دن جان کھپاتا ہوں تمہاری خاطر
اور غزل سنتا سناتا ہوں تمہاری خاطر
اور گھر لوٹ کے آتا ہوں تمہاری خاطر
میں قسم کھاتا ہوں اے خانۂ عصمت کی مکیں
’گلِ رنگین‘ تو اک چائے ہے لڑکی تو نہیں
لوگ مے پیتے ہیں، میں چائے ہی پی لیتا ہوں
میں جہاں بھی ہوں تری یاد میں جی لیتا ہوں
دامنِ میر جو ہاتھوں میں کبھی لیتا ہوں
سوزنِ شعر و ادب سے اُسے سی لیتا ہوں
بولیں ہنس کہ یہ کیا نکلی ہے کیا سمجھے تھے ہم
گلِ رنگیں کوئی لڑکی نہیں کھاؤ تو قسم