سید محمد جعفری

سید محمد جعفری

ابن الوقت

    ابن الوقت

    سید محمد    جعفری

     

    نیا سال آیا نئے ہیں ارادے

    مربی وہ ڈھونڈوں مربہ کھلا دے

    سفارش سے جو مجھ کو نوکر کرا دے

    کراچی میں پھر اِک مکاں بھی دلا دے

    چلا جائے پھر خود وصیت یہ کرکے

    کہ واپس نہ آؤں گا حج کے سفر سے

    میں ہوں اِک پرانا مقامی مہاجر

    کہ دنیا ئے فانی میں سب ہیں مسافر

    میں بیکار تھا پہلے اب ہوں میں تاجر

    میں کرتا ہوں وعدہ یہ ملت کی خاطر

    اگر چور بازار سے کچھ کماؤں

    تو اِک سنگِ مرمر کی مسجد بناؤں

    زمیں ایک دھوکے دھڑی سے تھی ماری

    اور اب مجھ سے ہوتی نہیں کاشتکاری

    کرائے پہ ملتے نہیں مجھ کو ہاری

    کسی طرح ہو جائے گر فضل باری

    کرائے پہ مزدور لے جاؤں گا مَیں

    حکومت کو غچے دیے جاؤں گا مَیں

    ارادوں میں دے اے خدا استقامت

    کہ انٹی کرپشن کی کر دوں حجامت

    پکڑ لیں مجھے تو انہیں ہو ندامت

    عدالت میں لے آؤں میں ان کی شامت

    کسی کو نہ دینے دوں سچی گواہی

    مَیں رشوت بھی لوں اور کروں بادشاہی

    بہت سست ہے کاروبارِ مشیت

    کہاں تک کیے جاؤں ہجرت پہ ہجرت

    نہیں سندھ میں کوئی رہنے کی صورت

    وہ صحرا کہ مشہور تھی جس کی وسعت

    بہت تنگ دامن ہوا چاہتا ہے

    مکانوں کا راشن ہوا چاہتا ہے

    نہایت برا آگیا ہے زمانہ

    نہیں ملتا اب مفت کا آب و دانہ

    بہت کچھ ہے دنیا میں مجھ کو کمانا

    ولایت سے جا کر بھی ہے مال لانا

    ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘

    جو خائف ہو مرنے سے مَیں ہوں وہ غازی

    مگر دیکھیے آستیں کی درازی

    لگاتا ہوں میَں جیم خانے میں بازی

    اب آئے کہاں سے وہ شانِ حجازی

    کہ ہے عزم و ایمان کی قحط سالی

    مری شان میں کہہ گئے ہیں یہ حالی

    ’’یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے

    بھنور میں جہاز آ کے جس کا گھرا ہے

    کنارہ ہے دُور اور طوفاں بپا ہے

    گماں ہے یہ ہر دم کہ اب ڈوبتا ہے‘‘

    ’’نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی

    پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی‘‘