سفارشی داخلے
سفارشی داخلے
سید محمد جعفری
آتی ہے موٹی سفارش کوہ سے گاتی ہوئی
دھاندلی کرتی ہوئی، اُس پر نہ شرماتی ہوئی
داخلوں سے مدرسوں میں شوق فرماتی ہوئی
قاعدوں سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی
بانٹتا ہے ریوڑی اندھا جو اپنوں کے لیے
کیسے گنجائش ہونا لایق طالب علموں کے لیے
جو سفارش کو نہ مانے گا وہ مارا جائے گا
پرنسپل کو اُس کی کرسی سے اتارا جائے گا
رزق کم ہو گا تو جینے کا سہارا جائے گا
ملک کی تعمیر میں وہ اینٹ گارا جائے گا
جس میں ناحق پروری اور ظلم کا پانی بھی ہو
ہے جو سائیسِ سیاست اُس کی من مانی بھی ہو
درس گاہیں اس زمانے میں سیاست گاہ ہیں
بند ہڑتالوں سے تعلیمات کی کل راہ ہیں
بات سچ کہنے پہ انساں راندۂ درگاہ ہیں
جو معلم ہیں وہ مصروفِ فغاں و آہ ہیں
جس کو کہتے ہیں سیاست میچ ہے فٹ بال کا
ٹھوکروں میں ہے عوامی دور استحصال کا
یہ سیاست ہے، سفارش رات دن چلتی رہے
آگ لگتی ہے لگے پر دال تو گلتی رہے
دھاندلی اور بے ایمانی ملک میں پلتی رہے
ملت ِ بیضا کفِ افسوس کو ملتی رہے
اپنی آزادی کا پھر کہتے بھی ہیں افسانہ ہم
’’برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم‘‘
ہم کو کیا اس سے مگر قائم رہے اپنا وقار
جل رہا ہے روم لیکن ہم بجائیں گے ستار
لڑتے ہیں حزبِ مخالف اور اہل اقتدار
جس کو دیکھو وہ اپیلیں کر رہا ہے بار بار
شہر میں پولیس اور لڑکوں میں باہم جنگ ہے
گیس اور لاٹھی اُدھر، ہاتھوں میں ان کے سنگ ہے
نو نہالانِ وطن کے خون سے جلتی ہے آگ
چوں کہ اربابِ سیاست امن سے رکھتے ہیں لاگ
وہ الاپے جا رہے ہیں ملک میں بے وقت راگ
دشمنانِ ملک و ملت کے تو جاگ اٹھے ہیں بھاگ
’’طائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کا‘‘
’’بُن رہے ہیں اپنی منقاروں سے حلقہ جال کا‘‘