سیاست دان
سیاست دان
سید محمد جعفری
میں نے اک روز کہا خود سے کہ سن اے مرے دل
تو نے جذبات کی شدّت سے سجائی محفل
بت کدے میں ترے بیٹھے ہیں بتانِ قاتل
’’تو بھی ہے شیوۂ اربابِ ریا میں کامل‘‘
’’دل میں لندن کی ہوس، لب پہ ترے ذکر حجاز‘‘
ڈھب تڑپنے کا کبھی تیز ترا ہوتا ہے
منظرِ حسن جنوں خیز ترا ہوتا ہے
جب مخاطب کبھی انگریز ترا ہوتا ہے
’’جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے‘‘
’’تیرا انداز تملق بھی سراپا اعجاز‘‘
کس قدر مجھ کو تعجب تری رفتار پہ ہے
کس قدر تکیہ ترا عقل سیہ کار پہ ہے
توخدا مرتبہ و منصبِ دربار پہ ہے
’’ختم تقریر تری مدحتِ سرکار پہ ہے‘‘
’’فکر روشن ہے تری موجدِ آئین نیاز‘‘
جانتا ہے کہ وہ ہے حاضر و ناظر موجود
رزق دیتا ہے وہ سب کو جو ہے سب کا معبود
منحصر اُس کی رضا پر ہے تری بود و نبود
’’درِ حُکام بھی ہے تجھ کو مقامِ محمود‘‘
’’پالیسی بھی تری پیچیدہ تر از زلفِ ایاز‘‘
تو بھی تسبیح کے دانوں کو ہلا سکتا ہے
شعبدے تو بھی زمانے کو دکھا سکتا ہے
دین کو چھوڑ کے دنیا کو بنا سکتا ہے
’’اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا ہے‘‘
’’پردہِ خدمتِ دیں میں ہوسِ جاہ کا راز‘‘