سید محمد جعفری

سید محمد جعفری

مہمانِ خصوصی

    مہمانِ خصوصی

    سید محمد    جعفری

     

    جلسے کرنے کا جلوسوں کا خیال اچھا ہے

    ’’کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے‘‘

    اور جو مل جائے کوئی اہل کمال اچھا ہے

    سر پہ مہمانِ خصوصی کے وبال اچھا ہے

    ایسا مہمان ہو بِن جس کے بنائے نہ بنے

    ’’کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے‘‘

    سر پہ مہمانِ خصوصی کے جمے گی محفل

    اہلِ محفل جو کریں دیکھ کر دانتا کِل کِل

    وہ پھنسے ایسا کہ ہو بھاگ نکلنا مشکل

    ’’میں بلاتا تو ہوں اُس کو مگر اے جذبۂ دل

    اُس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے‘‘

    بعد میں چاہے وہ گڑبڑ ہو مٹائے نہ بنے

    پہلے میں اُس سے کہوں گا کہ جو آجائیں حضور

    آنکھ میں نور ہو اور قلب کو حاصل ہو سرور

    جذبۂ خدمتِ قوم کا چشمِ بد دور

    احترام آپ کا ہم سب کو ہے بے حد منظور

    قدرتی جذبہ ہے ایسا کہ دبائے نہ بنے

    ’’کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے‘‘

    وہ سمجھ دار اگر ہو تو کھسک جائے گا

    بلکہ دامن سے صدارت کو جھٹک جائے گا

    وہ نہ آیا تو کوئی اور اٹک جائے گا

    تختۂ دار پہ خود جا کے لٹک جائے گا

    ایسے مہمانِ خصوصی کی جو قربانی ہو

    ’ہوٹ‘ کرنے میں ہر اک شخص کو آسانی ہو

    ایسی گڑبڑ ہو کہ جلسے کا الٹ جائے نظام

    اور مہمانِ خصوصی کا یہی ہو انجام

    جب وہ لوگوں سے کہے مونہہ کو ذرا دیجے لگام

    سامعین اُس کو سنانے لگیں خود اپنا کلام

    ہم بھی کہنے لگیں جب پوچھے کہ کیا کہتے ہیں

    ’’ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو بُرا کہتے ہیں‘‘

    جب کہ جلسے کی یہ حالت ہو یہ ہو طرزِ خطاب

    کرسیاں چلتی ہوں اور میز پہ بجتا ہو رباب

    بلیاں بولتی ہوں فکر و نظر ہوں نایاب

    زندگی ہوتی ہے مہمانِ خصوصی پہ عذاب

    سر کو انڈوں سے ٹماٹر سے بچائے نہ بنے

    ’’کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے‘‘