ملاوٹ
ملاوٹ
سید محمد جعفری
جب کہ آمیزش سے ہر شے آشنا ہو جائے
اور ملاوٹ مثلِ دردِ لا دو ا ہو جائے
اور مُروّت چشمِ انساں سے جدا ہو جائے گی
’’محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی‘‘
ملکِ پاکستان ہے جو آج کل خلدِ بریں
ہو گا یہ گندم نما اور جَو فروشوں کی زمیں
کیا یہ اچھا ہے کہ خالص جنس تو کم یاب ہے
کھوٹ ہے جس میں وہ چلنے کے لیے بے تاب ہے
بورڈ تو سرجن کا لٹکا ہے مگر قصاب ہے
فیس اتنی، زہرۂ قارون جس سے آب ہے
ٹاٹ کا پیوند ہو جب اطلس و کم خواب میں
حرفِ آخر ہے خلوص اور سادگی کے باب میں
اس ملاوٹ کا نتیجہ یہ عیاں ہو جائے گا
گھی جو خالص ہو نصیبِ دشمناں ہو جائے گا
صاف آٹا گیہووں کا بھی بے نشاں ہو جائے گا
اور خوشامد کے لیے مکھن گراں ہو جائے گا
دودھ پانی سے ملا اور پانی پانی ہو گیا
اور جسے کھویا کہا کرتے تھے وہ بھی کھو گیا
موبل آئیل کے جو چکنے اور گاڑھے تار ہیں
وہ غذا میں رنگ دینے کے لیے درکار ہیں
کیا ہُوا گر اس غذا سے آدمی بیمار ہیں
آدمی کہتا ہے کون اِن کو وہ موٹر کار ہیں
ہو گیا ملکِ عدم کا سہل اب اِن پر سفر
کر دیا تیار اِن کو موبل آئیل ڈال کر
اے ملاوٹ کرنے والو اے بنی نوعِ بشر
تم نے مرچوں میں ملا دی ہیں جو اینٹیں پیس کر
اور دواؤں کا مِلاوٹ سے مِٹاتے ہو اثر
کیا کبھی سوچا تمہاری قوم جاتی ہے کدھر
کیا ہے یہ انداز ملک اور قوم کی تعمیر کا
خون گردن پر رہے طفل و جوان و پیر کا
کارِ آمیزش پہ دنیا بھر میں آیا ہے شباب
دل جواں لڑکی کا اِک بوڑھے کے تن میں باریاب (١)
اب تو خالص آدمی مِلنا ہے خارج از حساب
کاروبارِ عاشقی کا ہو گیا خانہ خراب
وہ جو تھے محبوب، دل لیتے ہوئے ڈرتے ہیں وہ
ہاتھ کانوں پر وفا کے نام سے دھرتے ہیں وہ
شامتِ اعمالِ آمیزش ہے دنیا پر سوار
اب نہ گورے کا نہ کالے کا ہے کوئی اعتبار
کیا خبر ہے کون سا حصہ لیا کس نے اُدھار
تن برہمن کا مگر چمڑے کو دیکھو تو چمار
آدمی ملِنے لگے گا اب تو اِس انداز کا
جسم واعِظ کا ہے ،چہرہ رند ِشاہد باز کا
دیکھئے خود کیا ہیں یہ سید محمد جعفری
دوسروں کے بل پہ جن کی فصل ہوتی ہے ہری
غالب اور اقبال کے اشعار سے نظمیں بھری
اور اِس تضمین کو کہتے ہیں اپنی شاعری
اور یہ تضمین کیا ہے گر نہیں ہے لوٹ مار
اس کو آمیزش نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں یار
حواشی
(١) دنیا کی پہلی تبدیلی قلب کی جراحی کی طرف اشارہ ہے جس میں نوجوان لڑکی کا دل ایک بوڑھے کو منتقل کیا گیا تھا۔