بریکنگ نیوز
کل رات ایک خوفزدہ شاعر نے اپنی گیارہ منزلہ غزل کے مطلع سے گر کر خود کشی کر لی ایک اور اطلاع کے مطابق ایک قہوہ خانے میں تخلیق کار کی ایک سو بیس منزلہ نظم کو دھماکے سے اُڑا دیا گیا شاعر ابھی تک نظم کے ملبے تلے دبا ہوا ہے کہا جاتا ہے کہ شہر کے ادبی حالات انتہائی مخدوش ہوتے جارہے ہیں ادیبوں کی ایک بڑی تعداد یا تو زیر ِزمین چلی گئی ہے یا اس نے لکھنا بند کر دیا اس کی بڑی وجہ شہر میں دندناتا ایک مافیا بتایا جاتا ہے جسے خفیہ والوں کے علاوہ بیرونی تھیوریوں کی سمگلنگ میں ملوث نقادوں کی پوری مدد حاصل ہے بتایا جاتا ہے کہ وہ نوجوانوں سے شاعری کا بھتہ وصول کرتا ہے پرانے دیوانوں میں نقب لگانا اور کہانی کے خالی پلاٹوں پر قبضہ کر لینااس کا معمول ہے یہ مافیار سائل کے ذریعے اغوا کاری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بتایا جاتا ہے!