مٹھی سے پھسلتی نروان کی ریت
سدھارتھ ! آج تُو صدیوں کی حیرانی لیے ان پتھروں کی قید سہتا ہے پڑی ہے دھول جن پر اَن گنت عہدوں کے رستوں کی عیاں ہیں کس قدر گہری دراڑیں جن پہ وقتوں کی تُو آنکھیں بند کر کے آج بھی عرفان کے انجان لمحے کے فسوں میں ہے یہ تیر ے شانت چہرے پر تبسم کھلتا جاتا ہے وہی لمحہ کہ جس کی جستجو میں تُو گھنے جنگل کے اندر گم رہا برسوں مگر پایا تو کیا پایا؟ فقط نروان کی اک خشک سی ٹہنی ! جسے تُو یہ سمجھ بیٹھا کہ یہ ہے قصرِ مایا کی کوئی نایاب سی کنجی بڑ ھاپا، موت، بیماری کا دکھ تجھ پر ابھی تک کھلکھلاتا ہے جسے تُو چھوڑ کر بستی سے بھاگا تھا سدھارتھ ! اپنی آنکھیں کھول اپنے من کے کاغذ پر لکھی دنیا سے باہر آ جہاں پت جھڑ کا موسم ہے جہاں پر برف گرتی ہے وہ برگد جس کی چھایا میں تُو اپنے خواب بُنتا تھا وہی جنگل کہ جس میں شانتی کے پھول کھلتے تھے وہ سب کچھ کٹ چکا ہے اب وہاں اک شہر پھیلا ہے تِرے نروان کے لمحے سے جس کا فاصلہ ہے تیس صدیوں کا کپل وستو کے شہزادے ! تُو بھوکا ہے ترے کمزور سے تن پر کوئی کپڑا نہیں ہے اور باہر ٹھنڈ ہے اور ہاتھ میں سکہ نہیں کوئی چل اُٹھ ! تجھ کو کسی مِل میں کہیں نوکر کرا آؤں !!