نو سموکنگ ڈے پر پہلا کش
-
جب مجھے جنت سے نکال کر موت کو میرے پیچھے لگا دیا گیا تو میں جان بچانے کے لیے صدیوں بھاگتا رہا جنگلوں سے دوڑا، صحرا عبور کیے، بیابان چھوڑے محل بنائے، قلعے تعمیر کیے دریاؤں کو رام کیا، آندھیوں کو نکیل ڈالی ستاروں کو نوچا، سورجوں پر کمند ڈالی جرثوموں کی سلطنتیں تاراج کیں غدودوں اور شریانوں کی خاک چھانی اور پھر ایک دن پیچھے مڑ کے دیکھا شاید موت میرا واہمہ ہے۔۔۔! میں نے سوچا اور ایک قہقہہ لگاتے ہوئے سگریٹ سلگانے لگا