شہر مسلسل کھانس رہا ہے
مالیخولیا کی مریضہ ایک ڈائن کے فریزر میں پڑا شہر مسلسل کھانس رہا ہے برف کی موٹی تہہ اوڑھے مسلسل چھینک رہا ہے شہر کی سڑکیں ، گلیاں اور بازار بالکل سُن ہو چکے ہیں سنا ہے مال روڈ والی مسجد ،سکول میونسپلٹی کا دفتر اور عجائب گھر گل سڑ گئے ہیں آسمان پر ہتھیلی بھر سورج اور چاند کی ایک پھانک بچی ہے لوگ دن کے وقت بھی موم بتیاں جلائے گھومتے ہیں انتظامیہ کے بقول حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں نیوز کاسٹر تسلیاں دے رہے ہیں دانشور ٹی وی پر مالیخولیا بارے مکالموں میں مصروف ہیں مسجدوں سے بار بار اذا نیں بلند ہو رہی ہیں گھروں میں آیت کریمہ کے ختم کرائے جا رہے ہیں چاروں اور برفیلے طوفان دندنا رہے ہیں شہر فریزر میں پڑا مسلسل کپکپا رہا ہے مگر ڈائن کو کچھ یاد نہیں !