روش ندیم

روش ندیم

اخبار سے شیشے کو صاف کیا جاسکتا ہے

    خبروں کے اندھے جنگل میں بے خبری کی موت بے خبری کے راج میں لپٹا ہے تازہ اخبار جس کے لفظوں سے جھانکے ہے اندھیارے کا خوف جس کی شہ سرخی سے ٹپکے روشنیوں کا خون گلتے کالم، سڑتے شندرے، بوسیدہ اقوال آئندہ کے مخبر لاؤ وہ سچا سندیس جس سے مہکے گھر آنگن میں امیدوں کی باس جس کے سر نامے پر چمکے مستقبل کی آس