روش ندیم

روش ندیم

ایک نئے گناہ کا دعوت نامہ

    سن! لفظوں کے جھرمٹ میں چھپی چپ چاپ کھڑی سچائی سُن!! چُن!! حرفوں کے بیجوں سے اُگی بیلوں پہ کھلی مہکاریں چُن! یہ لفظ تو بس دیواریں ہیں دیواروں میں اک درز بنا سُن پار شفق کے پاس بسے اک خواب نگر کے گیت کی دُھن وہ دُھن جو زماں کی لہروں پر ازلوں سے مچلتی رہتی ہے جو سچ کے جل تھل ساگر میں دھیرے سے دھڑکتی رہتی ہے اس خواب کے پردے کو تو ہٹا اور ڈھونڈ ذرا دل مندر کی اس راز بھری گہرائی میں اور دیکھ قیامت کا منظر اک نئی صداقت کا منظر