آکاس بیل
-
میں اکثر سوچتا رہتا! یہ دنیا کیسی دنیا ہے جہاں لوگوں کو دفتر کے جھمیلوں سے فراغت ہی نہیں ملتی سویرے چائے میں اخبار کے کالم بھگو کر ناشتہ کرنا پھر اس کے بعد دن بھر فائلوں پر بیٹھ کر دریائے فردا کے نئے گمنام ساحل ڈھونڈتے رہنا اور آخر ڈوبتے سورج کی کرنوں پر گئے دن کی خباثت تھوک کر گھر لوٹنا اور سوچنا ”ہم کون ہیں؟“