وعدوں کی اجرک
-
مجھے تم رفاقت کے پل کا کوئی تحفہ بھیجو سنہرے دوپٹے کے پلو سے باندھا وہی ایک وعدہ ہی بھیجو میں ان سے محبت کی رعنائی لے کر کٹھن زندگی کے اندھیرے سفر پر چلوں گا کہ تیرے لیے روشنی، چاند، تارے، ہوا، خوشبوؤں اور نغموں کا مہکا ہوا اک جہاں لے کے آؤں جو اپنے حسیں خواب سا اک جہاں ہو سو تم بھی وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی اندھی چڑیا کی آنکھوں میں اُتری ہوئی، سوئیاں چنتی رہنا کہ اس ننھی چڑیا کی آنکھیں مرے اور تیرے ملن کے حسیں موسموں کی شروعات کا استعارہ بنیں گی