وہ چھیڑ کر مری دھڑکن کو راگنی کی طرح
وہ چھیڑ کر مری دھڑکن کو راگنی کی طرح سما گیا مری سانسوں میں زندگی کی طرح محاسبہ بھی تو لازم ہے اپنی سوچوں کا کرے جو حق کو اجاگر خود آگہی کی طرح عجیب لوگ ہیں بس ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ گفتگو بھی لگے ان کی خامشی کی طرح یہ لَوٹ کر ہی کھلا ، قربتوں میں دوری ہے سمجھ رہے تھے سبھی مجھ کو اجنبی کی طرح کہاں سے اپنی اکائی تلاش کرتے ہم کہ ہم اتارے گئے تھے شکستگی کی طرح ہر اک قدم پہ نئے پھول کھلتے جاتے ہیں یہ کون باغ میں چلتا ہے خوش روی کی طرح مہکتے لہجے میں تم نے غزل کہی عادل اثر کرے گی دلوں پر یہ تازگی کی طرح