وقتِ رخصت جو کوئی اشک گرا ہوتا ہے
وقتِ رخصت جو کوئی اشک گرا ہوتا ہے اُس سے اندازۃ تجدیدِ وفا ہوتا ہے زندگی آنکھ چھپکتے میں گزر جاتی ہے کارواں وقت کا تیزی سے چلا ہوتا ہے دستکیں بند کواڑوں پہ دیے جاتے ہو جبکہ در اس کا ہر اک وقت کھلا ہوتا ہے ان لکیروں میں سبھی ڈوب گئیں تدبیریں کیا تلاطم مرے ہاتھوں میں لکھا ہوتا ہے راستہ ایک ہے سب قافلے والوں کا مگر عذر منزل پہ پہنچنے کا جدا ہوتا ہے روح تک جسم سے اس طرح جدا ہوتی ہے جیسے قیدی کوئی زنداں سے رہا ہوتا ہے کیسے کہہ دوں کہ وہ موجود نہیں ہے عادل رات دن تو جسے پانے میں لگا ہوتا ہے