احمد عادل

احمد عادل

شعر لکھتا ہوں سخنور نہیں ہونے پاتا

    شعر لکھتا ہوں سخنور نہیں ہونے پاتا کیوں مقام اپنا مقرر نہیں ہونے پاتا زندگی میری گزرتی ہی چلی جاتی ہے جس کو ہونا ہے مقدر نہیں ہونے پاتا کرچی کرچی بھلے ہو جائے مگر شیشہِ دل لاکھ چاہوں بھی تو پتھر نہیں ہونے پاتا چار سُو پھیل گیا دن کا اجالا لیکن میرا دل پھر بھی منور نہیں ہونے پاتا گرچہ گرتا ہے سمندر میں یہ دریا لیکن دریا دریا ہے سمندر نہیں ہونے پاتا حالِ دل اس کو سنانا تھا مگر وہ ظالم آج کل مجھ کو میسّر نہیں ہونے پاتا انحطاطِ لبِ اظہار ہے کیساعادل ؔ ایک بھی حرف اجاگر نہیں ہونے پاتا